سمے وار (مانیٹرنگ ڈیسک)
علامہ نیاز فتح پوری ندوی سن 1884ء میں اترپردیش (یوپی) کے ضلع بارہ بنکی میں پیدا ھوئے۔ مدرسہ اسلامیہ فتح پور ‘ مدرسہ عالیہ رام پور اور دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ سے تعلیم حاصل کی۔
نیاز فتح پوری نے 1922ء میں اردو کا معروف ادبی و فکری رسالہ “نگار” جاری کیا۔ نیاز فتح پوری کی علمی خدمات کے اعتراف میں بھارت نے 1962ء میں “پدما بھوشن” کے خطاب سے نوازا۔
نیاز فتح پوری کا انتقال 24 مئی 1966ء کو کراچی میں ھوا تھا۔ کیونکہ نیاز فتح پوری 31 جولائی 1962ء کو ھجرت کر کے کراچی آگئے تھے۔ حکومت پاکستان نے بھی نیاز فتح پوری کو “نشان سپاس” سے نوازا تھا۔
ہندوستان سے کراچی منتقل ھونے کے بعد نیاز فتح پوری نے کہا کہ؛ اردو زبان کا مسئلہ بالکل اب پاکستان سے تعلق رکھتا ھے اور آپ ھی لوگ چاھیں تو اسے زندہ رکھ سکتے ھیں۔
ضرورت ھے کہ؛ حکومت پاکستان تمام اکناف ھند کے اردو ادیبوں ‘ شاعروں اور مصنفوں کو اپنے یہاں منتقل کرنے کی کوشش کرے۔ لیکن یہ اسی وقت ممکن ھے جب ان کو مھاجر کی حیثیت سے نہ دیکھا جائے اور صوبہ دارانہ عصبیت یک لخت ترک کردی جائے۔ (نیاز فتح پوری کی تجویز شاید یہ تھی کہ؛ بھارت سے پاکستان منتقل ھونے والوں کو مھاجر کے بجائے پاکستانی کہا جائے اور پاکستان کی پنجابی ‘ سندھی ‘ پٹھان ‘ بلوچ قومیں بھی اپنی شناخت ختم کرکے پاکستانی کی شناخت اختیار کرلیں۔ یعنی اپنی اپنی زبان کو چھوڑ کر اردو زبان اور اپنی اپنی ثقافت کو چھوڑ کر گنگا جمنا کی ثقافت اختیار کرلیں)
اس کے ساتھ دوسری ضروری تحریک یہ ھونی چاھیے کہ؛ پنجاب کے مسلمان ‘ پنجابی کی جگہ اردو بولنا شروع کردیں اور اپنے بچوں کو ابتدا ھی سے اردو بولنا سکھائیں۔ اول اول تھوڑی سی دقت ضرور ھوگی۔ لیکن چند دن میں اس کی عادت ھوجائے گی اور آئندہ نسل بالکل اردو دان ھوگی۔
آپ فی الحال ایک کلب تو قائم کر ھی دیجئے۔ جس میں شرکت کی ضروری شرط اردو میں بات چیت کرنا ھو۔ یوپی اور دھلی کے بہت سے مصنف اور ادیب خانماں برباد ھوکر لاھور اور کراچی پہنچ گئے ھیں۔ انہیں ڈھونڈ نکالیے اور ان کو لکھنے پڑھنے کی آسانیاں فراھم کیجئے۔ اگر حکومت بھی آپ کے تعاون کے لیے آمادہ ھوجائے تو جلد اور آسانی سے کامیابی ھوسکتی ھے۔ آپ اپنی رفتار عمل سے مجھے باخبر رکھیے اور اگر کوئی خاص خدمت میرے سپرد کرنا چاھیں تو بلا تامل حکم دیجیے ‘ میں تعمیل کروں گا۔
