سمے وار (تحریر: مہناز اختر)
سید غلام مصطفی شاہ سن 1918 ڈسٹرکٹ ٹھٹہ (موجودہ سجاول) کے گاؤں قادر ڈنو شاہ میں پیدا ہوئے۔ آپ ماہر تعلیم، ماہر سماجیات اور سیاستدان تھے۔ آپ کا تعلق زمیندار گھرانے سے تھا۔ آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم سندۃ مدرسۃ اسلام کراچی سے حاصل کی۔ بعدازاں اعلی تعلیم ڈی جے سندھ کالج، علیگڑھ مسلم یونیورسٹی اور آکسفورڈ یونیورسٹی سے ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کیں۔یہ تعلیمی سفر ان کی غیر معمولی ذہانت، محنت اور علمی صلاحیتوں کا مظہر ہے، جس نے انہیں بعد میں ایک ممتاز ماہرِ تعلیم، محقق اور دانشور کے طور پر نمایاں مقام دلایا۔
مضمون: برصغیر کی تاریخ میں صوبہ سندھ ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے، جہاں صدیوں تک مختلف تہذیبوں، مذاہب اور معاشرتی طبقات نے ایک ساتھ زندگی گزاری۔ تاہم برطانوی دورِ حکومت میں سندھ کی سماجی اور معاشی ساخت میں جو تبدیلیاں آئیں، انہوں نے ہندو اقلیت اور مسلم اکثریت کے درمیان ایک واضح خلیج پیدا کر دی۔ یہ خلیج صرف معاشی نہیں بلکہ سیاسی اور تعلیمی میدانوں میں بھی نمایاں تھی۔
سندھ میں ہندو ساہوکاروں اور سرمایہ داروں کا کردار نہایت اہم رہا۔ برطانوی دور میں جب جدید مالیاتی نظام متعارف ہوا تو ہندو برادری، جو پہلے ہی تجارت اور حساب کتاب میں مہارت رکھتی تھی، اس نظام سے بھرپور فائدہ اٹھانے میں کامیاب رہی۔ اس کے برعکس، مسلمان اکثریت جو زیادہ تر زمینداروں، وڈیروں اور ہاریوں پر مشتمل تھی، جدید معاشی ڈھانچے میں خود کو ڈھال نہ سکی۔ نتیجتاً، دولت اور وسائل کا بڑا حصہ ہندو اقلیت کے ہاتھوں میں مرتکز ہو گیا۔
یہی وجہ تھی کہ سندھ کے دیہی علاقوں میں مسلمان کسان (ہاری) اکثر ہندو ساہوکاروں کے مقروض ہوتے تھے۔ قرضوں کا یہ جال اتنا پیچیدہ تھا کہ ایک بار اس میں پھنسنے کے بعد نکلنا تقریباً ناممکن ہو جاتا تھا۔ ہندو ساہوکار نہ صرف مالی وسائل پر قابض تھے بلکہ مقامی معیشت پر بھی ان کا گہرا اثر و رسوخ تھا۔ دوسری طرف، مسلمان وڈیرے اور جاگیردار اگرچہ زمینوں کے مالک تھے، لیکن وہ بھی اپنے ہاریوں کی فلاح و بہبود کے لیے مؤثر اقدامات کرنے میں ناکام رہے۔
سیاسی میدان میں بھی یہی صورت حال نظر آتی ہے۔ ہندو برادری تعلیم یافتہ ہونے کی وجہ سے سرکاری ملازمتوں اور انتظامی عہدوں تک زیادہ رسائی رکھتی تھی۔ جبکہ مسلمان، جو تعلیمی میدان میں پیچھے تھے، ان مواقع سے محروم رہے۔ اس تعلیمی پسماندگی نے ان کی سیاسی نمائندگی کو بھی محدود کر دیا۔
اسی پس منظر میں سندھ کے ایک نوجوان رہنما، سید غلام مصطفیٰ، نے 1943 میں ایک مختصر مگر مؤثر کتاب تحریر کی، جس میں انہوں نے سندھ کی معاشرتی اور معاشی ناہمواریوں کو بے نقاب کیا۔ انہوں نے ہندوؤں، جاگیرداروں، وڈیروں، ہاریوں اور ساہوکاروں کی زندگی کا ایسا نقشہ پیش کیا کہ قاری پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق، سندھ میں مسلمانوں کی پسماندگی کی ایک بڑی وجہ ان کی اپنی نااہلی اور حالات سے سمجھوتہ کرنا بھی تھا۔
سید غلام مصطفیٰ لکھتے ہیں:
اگر آبادی کے تناسب کا جائزہ لیا جائے تو سندھ میں مسلمان واضح اکثریت میں تھے، جبکہ ہندو ایک اقلیت تھے۔ تاہم اس کے باوجود، معیشت پر کنٹرول ہندوؤں کے پاس تھا۔ مثال کے طور پر، شہری علاقوں میں تجارت، بینکنگ اور دکان داری کا زیادہ تر حصہ ہندوؤں کے ہاتھ میں تھا، جبکہ مسلمان زیادہ تر دیہی علاقوں میں زراعت سے وابستہ تھے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ہندو کسانوں کی تعداد مسلمانوں کے مقابلے میں بہت کم تھی، اور ان میں بھی بڑی تعداد نچلی ذات (اچھوتوں) پر مشتمل تھی۔ اس کے باوجود، مجموعی معاشی طاقت ہندو برادری کے پاس تھی۔ اس کی بنیادی وجہ تعلیم، تنظیم اور مالیاتی نظام پر ان کی گرفت تھی۔
سندھی مسلمانوں میں کانگریس کی عدم مقبولیت کی وجہ یہ ہے کہ یہ جماعت یہاں کے ہندو بنیوں کے مفادات کی نمائندگی کرتی ہے۔ ان ہندو بنیوں کی جو غریب مسلمان کسانوں کا خون چوستے ہیں مسلمان کسانوں کے مقابلے میں ہندو کسانوں کی آبادی بہت ہی معمولی ہے اور ان کی یہ معمولی آبادی بھی اچھوتوں پر مشتمل ہے جبکہ ہندو کل آبادی 23 فیصد ہیں۔ سندھی مسلمانوں کی آبادی میں سے 92 فیصد بالکل انپڑھ ہے جبکہ ہندو سب کے سب خواندہ ہیں۔ سندھ کے سارے اناج پر ہندوؤں کا کنٹرول ہے اور اگر کوئی مسلمان اس کاروبار میں داخل ہونے کی کوشش کرے تو اسے آناً فاناً ختم کر دیا جاتا ہے۔
اس صوبے میں 16 آئی۔سی۔ایس ہندو ہیں اور صرف ایک آئی۔سی۔ایس مسلمان ہے۔ جو ابھی تک دیرہ دون میں زیر تربیت ہے۔ یہاں مسلمانوں کی جو وزارت بنتی ہے اس کے اراکین کو یقین ہوتا ہے کہ ان کی یہ وزارت زیادہ دیر تک قائم نہیں رہے گی اس لیے وہ اپنے مختصر عہد وزارت میں خوب لوٹ مچاتے ہیں۔
یہاں کے مسلمان وڈیرے معاشرتی لحاظ سے درندے ہیں ان میں عدل و انصاف کا کوئی شعور نہیں ہے ان کے پاس پیسہ ہے لیکن تعلیم نہیں ہے ان کے پاس اقتدار ہے لیکن کوئی شعور نہیں ہے وہ اعلی حیثیت کے حامل ہیں لیکن آداب زندگی سے ناواقف اور گنوار ہیں اگر انہیں کسی باشعور محفل میں بٹھا دیا جائے تو ان کی حالت ایسی ہوگی جیسے کہ مچھلی کے پانی سے باہر انے پر ہوتی ہے وہ بھونڈے پن اور بد سلیقگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
ان میں غریبوں اور حاجت مندوں کے لیے کوئی ہمدردی نہیں ہے۔ یہ انتخابات، چائے پارٹیوں، ڈنر پارٹیوں اور جھوٹے مقدمہ بازی پر ہزاروں روپے خرچ کر دیتے ہیں، لیکن غریبوں کی بھلائی کے لیے کبھی اپنی جیب سے ایک پیسہ بھی خرچ نہیں کیا۔ ایک مرتبہ میں نے دیکھا کہ ایک پولیس سب انسپکٹر نے خان بہادر کے پاؤں چھوئے اور پھر وہ اس کے سامنے چٹائی پر بیٹھ گیا۔ ان کے نزدیک انسان کی عظمت صرف پیسے سے ہوتی ہے اور ہمہ وقت وہ صرف پیسے کی باتیں کرتے ہیں۔
بہت سے زمیندار غریب ہاریوں کی خوبصورت بیویوں کو اپنی نجی جائیداد تصور کرتے ہیں یہ ہاریوں سے بطور حق بیگار لیتے ہیں ان بڑے زمینداروں کے علاوہ سندھ میں جاگیرداروں کا بھی ایک طبقہ ہے ان جاگیرداروں کو تین چار وجوہ کی بنا پر زمینیں ملی ہوئی ہیں: اول اس لیے کہ وہ کسی ثابت حکمران کا حکم ہے دو میں اس لیے کہ وہ کسی قبیلے کے سردار ہیں سو ہم اس لیے کہ اس نے حکومت کی نہایت وفاداری سے کوئی خدمت سرانجام دی ہے اور چہارم اس لیے کہ وہ کسی درگاہ کا سجادہ نشین ہے ان جاگیرداروں کے قبضے میں تقریبا 19 لاکھ ایکڑ رقبہ ہے جس کا یہ کوئی مالیہ ادا نہیں کرتے.
یہ وڈیرے اور جاگیردار بد کردار اور اخلاق باختہ ہے اور منشیات کے بہت عادی ہیں جتنی منشیات سندھ میں استعمال ہوتی ہے اتنی بر صغیر کے دوسرے علاقوں میں نہیں ہوتی ہندوستان میں تمباکو کی کل کھپت کا 12 فیصد حصہ صرف سندھ میں استعمال ہوتا ہے اور ہندوستان کی تقریبا 20 فیصد بھنگ، چرس، افیم صرف سندھ میں استعمال ہوتی ہے اور اس میں سے 50 فیصد سے زائد امراء کے استعمال میں اتی ہے۔
سندھ کی آبادی تقریبا 45 لاکھ ہے جس میں مسلمانوں کی آبادی تقریبا 32 لاکھ ہے۔ تقریباً سارے مسلمان دیہات میں رہتے ہیں۔ جنگلات اور دور افتادہ علاقوں میں جگہ جگہ جھوپڑیاں نظر اتی ہیں ان غریبوں کے پاس چند پھٹے پرانے کپڑوں دو ایک ٹوٹی ہوئی چارپائیوں اور تین چار مٹی کے برتنوں کے علاوہ کوئی اثاثہ نہیں ہوتا انہوں نے کبھی معاشرتی اور سیاسی تبدیلی کے بارے میں سوچا ہی نہیں۔ انہیں اپنا پیٹ پالنے سے فرصت ہی نہیں ملتی۔ بھوک ہمیشہ ان کے سروں پرتلوار کی طرح لٹکتی رہتی ہے۔ کوئی ہندو ساہوکار اور سیٹھ انہیں ذریعہ روزگار مہیا کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا اور کوئی مسلمان جاگیردار یا وزیر ان کے لیے دو وقت کی روٹی کا بندوبست نہیں کرتا۔ جب انگریز سندھ میں آئے تو یہاں غیر مسلموں کی آبادی 15 فیصد تھی اب یہ 27 فیصد ہیں کیونکہ نزدیکی ریاستوں اور ہندوستان کے دوسرے صوبوں میں سے بہت سے غیر مسلموں کو یہاں لا کر آباد کر دیا گیا یو پی سے زیادہ تر بنیے آئے اور پنجاب سے یہاں آنے والوں میں زیادہ تعداد سکھوں کی ہے۔
32 لاکھ مسلمانوں میں تقریباً تین لاکھ شہروں میں رہتے ہیں۔ ایک لاکھ مسلمان ایسے ہیں جو سالانہ 5 سو روپے روپیہ مالیہ (ٹیکس) ادا کرتے ہیں بقیہ 28 لاکھ مسلمان غریب ہیں اور کسانوں کی آبادی انہی پر مشتمل ہے۔ ان 28 لاکھ مسلمانوں میں سے 27 لاکھ بے زمین ہاری ہیں اور کسانوں کی آبادی انہی پر مشتمل ہے اور ان 27 لاکھ ہاریوں میں سے 14 لاکھ خانہ بدوش ہیں ان کی کسی ایک جگہ مستقل رہائش نہیں ہوتی یہ اپنی زمینیں تبدیل کرتے رہتے ہیں۔ شہروں میں جو تین لاکھ مسلمان رہتے ہیں ان میں سے چند ہزار کے سوا باقی سب مزدور ہیں کراچی، حیدراباد، سکھر اور دوسرے شہروں میں کوئی غیر مسلم مزدور نہیں ملتا غیر مسلموں کی کل آبادی میں سے صرف اٹھ فیصد کاشتکاری کرتے ہیں اور وہ بھی اچھوت ہیں۔ کچھ اچھوت تھر پارکر، نواب شاہ اور حیدرآباد کے اضلاع میں مزدوری کرتے ہیں۔
سندھ کے مولویوں اور پیروں کو سمجھے بغیر یہاں کے مسلم عوام کے حالات کو سمجھنا ناممکن ہے۔ یہاں کا امیر طبقہ اور مولویوں کا طبقہ درمیانے طبقے سے آتا ہے۔ اس لیے یہ دونوں ایک دوسرے کے جانی دشمن ہیں سندھ کے 90 فیصد پیروں میں کوئی روحانی برتری یا صوفیانہ صفت نہیں ہوتی ان کی روحانیت جعلی ہوتی ہے
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مسلمان اکثریت نے خود کو ہندو اقلیت کے مقابلے میں کمتر سمجھنا شروع کر دیا تھا، جو کہ ان کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تھی۔ دوسری طرف، ہندو اقلیت نے اپنی محنت، تعلیم اور تنظیم کے ذریعے معاشی میدان میں برتری حاصل کر لی تھی۔
تبصرہ:
آج کل صوبہ سندھ کی سیاست کے تناظر میں دیکھا جائے تو میں قائداعظم محمد علی جناح کے اس مؤقف کو درست سمجھتی ہوں کہ سندھ کے معاملات اور ہندو مسلم تنازعے باقی ہندوستان سے الگ نہیں بلکہ اسی کل کا جزو ہے۔ بنیادی طور پر پورے متحدہ ہندوستان میں ہندو لابی اکثریت کے زعم میں مسلم مخالف پالیسی پر عمل پیرا تھی۔ اس کی مثالیں مسلم اقلیتی علاقوں میں تو نظر آتی ہی تھیں تاہم صوبہ سندھ جو مسلم اکثریتی صوبہ تھا یہاں بھی بدترین حالت میں موجود تھیں۔ آج سندھ کے دارالخلافہ کراچی میں سندھی مہاجر تناؤ نظر آتا ہے اس کے پیچھے بھی سںندھی قوم پرستوں کا سندھ کی سیاسی تاریخ کو متحدہ ہندوستان کی سیاسی تاریخ سے الگ کرکے دیکھنا ہے۔ آج کے قوم پرستوں کو مہاجر غاصب اور تقسیم سازش نظر آتی ہے۔ حالانکہ ہم اگر تاریخ کا ہاتھ تھام کر ماضی کا سفر کریں اور حقائق کو سید غلام مصطفیٰ کی تحریروں کے آئینے میں دیکھیں تو اس تقسیم کا سب سے زیادہ فائدہ بھی سندھی مسلمانوں کو ہوا۔ یہ الگ بات ہے کہ اتنی دہایاں گزر جانے کے بعد آج بھی سندھ کے حالات کتاب میں لکھے حقائق سے مختلف نظر نہیں آتے۔ آج بھی سندھی قوم وڈیروں اور پیروں کے نرغے میں ہے۔ مزید یہ کہ سندھ کے لوگ اس غلامی سے نکلنا ہی نہیں چاہتے اور مہاجروں کو خود سے علیحدہ تصور کرتے ہیں۔
حوالہ کتاب:
1. O Ye Muslims of Sindh(Towards understanding the Muslims of Sindh) by Syed Ghulam Mustafa Shah.
2. مسئلہ خود مختاری سندھ از زاہد چوہدری
.
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)
Categories
قیام پاکستان سے قبل سندھی مسلمانوں کی پس ماندگی
