Categories
Education Exclusive Interesting Facts Karachi اچھی اردو اردوادب انکشاف ایم کیو ایم تعلیم تہذیب وثقافت خواتین دل چسپ سمے وار بلاگ کراچی

چوری کا کلام سنا کر شاعر ہی کیوں بننا ہے؟

سمے وار (تحریر: جاوید صبا)
ایک تازہ وڈیو میں ناظم صاحب کو یہ کہتے سنا گیا کہ محترمہ آپنا کلام سنائیں۔پھر محترمہ نے جو کلام سنایا اس کے لیے جو مختصر س تمہید باندھی اس سے یہی تاثر ملا کہ کلام محترمہ کا ہی تھا۔ اگر کلام محترمہ کا نہیں تھا تو وہ کہہ سکتی تھیں کہ کسی شاعر کی غزل۔سنا رہی ہوں ہاں مجھے ان کا نام یاد نہیں
آپ کو ایک چھوٹا سا دل چسپ واقعہ سنائوں۔کوئی پندرہ سولہ برس پہلے کے بات ہے میں آرٹس کونسل کی گورنمنٹ باڈی کا رکن تھا۔اس زمانے میں ایک انتہائی مستعد چرب زباں عاجز مزاج نوجوان کی انٹری ہوئی جس کا دعوی تھا کہ وہ ایم کیو ایم کا ایک اہم رکن تھا اور شاعر بھی تھا۔دیکھتے دیکھتے وہ سب میں گھل مل گیا خاص طور پر ہمارے دوست سہیل احمد سے دوستی ہو گئی۔ سہیل دوست مزاج انسان ہیں اور اسی قلبی کشادگی کے سبب شوکت علی عنقا کے بارے میں نرم رویہ رکھتے تھے۔ بہ ضد رہتے تھے کہ ہاتھ ذرا ہلکا رکھو۔ شوکت کی رہنمائی کرو۔ بالکل راہ نمائی کی جا سکتی ہے لیکن صاحب بالکل کورے کاغذ پر راہ نمائی کرنا ہمارے بس سے تو باہر تھا چنانچہ شوکت ہم سے شاکی ہی رہے۔ا لبتہ ہمارے احترام میں کبھی کمی نہیں کی۔ اب آتا ہوں انتہائی دل چسپ واقعے کی طرف۔میں آرٹس کونسل کی کینٹین میں موجود تھا۔
شوکت آئے اور مجھے رازداری سے ایک طرف لے گئے۔ ادھر ادھر دیکھا کہ کوئی دیکھ تو نہیں رہا پھر ہاتھ جوڑ کر کھڑے ہو گئے کہنے لگے کل گورنر آرٹس کونسل آرہے ہیں۔ان کے سامنے کچھ پڑھنا ہے ۔پھر شوکت نے ڈائری اور بال پیں تھما دیا اور جیبب سے میرے برانڈ کی سگریٹ نکال کر پیش کر دی۔میں نے کہا کہ تم سہیل سے لکھوا لو میں نہیں لکھ پائوں گا۔ پھرعرض کی کہ عنقا میں لکھ تو دوں لیکن لوگ یقین نہیں نہیں کریں گے۔ کہنے لگا اس کی پروا نہ کریں میں سنبھال لوں گا۔جناب ہوا یہ کہ میں نے شرارتا غالبؔ کی مشہور زمانہ غزل جس کی ردیف ہے مرے آگے ڈائری پر لکھ دی۔مقطع میں غالب کی جگہ عنقا لکھ دیا۔ وہ اس قدر خوش ہوا کہ غزل لے کر سہیل احمد کے پاس پہنچ گیا اور اسے جتانے لگا کہ دیکھو سہیل بھائی مشکل۔ وقت میں کون کام آیا۔ صبا بھائی کام آئے ناں۔ سہیل نے فورا ہی بھانڈا پھوڑ دیا
کہنے لگا ابے عنقا یہ چھوٹے قد والا شاعر بڑا۔۔۔وہ۔۔ہے تجھے چوڑے میں مروا دے گا
تو بات پتا نہیں کہاں سے چلی تھی، عنقا کوئی جاہل نوجوان نہیں تھا ماسٹرز کیا ہوا تھا اور نہ جانے کس چکر بازی سے جامعہ کراچی کا کنٹرولر بھی ہوگیا تھا۔ اس کا شاعری کا ایک مجموعہ بھی شائع ہوا تھا جس میں میرے سوا اس وقت کے کم و بیش دو درجن شاعروں کی رائے موجود تھی
میں پوچھنا یہ چاہتا ہوں کہ عنقا کہاں چلے گئے بطور شاعر کہیں نام موجود ہو تو مجھے بھی بتائیں۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ خود کو بطور شاعر مشہور کروا کے سماجی حلقوں میں دھاک بٹھائی اور ایک عدد اہم نوکری بھی حاصل کر لی۔ بس یہ ہے کل خلاصہ وقتا فوقتا سامنے آنے والے ادبی چوری چکاری کا۔آیک اور سوال جس پر غور کرنے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ اگر آپ کو شاعری چھو کر بھی نہیں گزری تو کیا اپنی شخصیت کے ساتھ شاعر کا ٹیگ لگانا ضروری ہے۔کیا دیگر شعبہ ہائے زندگی میں پہچان بنانا نام کمانا باعث شرم ہے۔ ڈاکٹر انجینئر قانون داں ٹیچر اور اسی طرح مزید شعبے جس میں آپ ایکسپرٹ ہوں اور معاشرے میں آپ کی خدمات کا احترام بھی ہو تو یہ کیا کوئی کم اعزاز کی بات ہے۔مجھے تو کبھی یہ کمپلیکس نہیں ہوا کہ مجے جہاز اڑانا نہیں آتا بلکہ رشک پی آتا ہے۔
۔
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Verified by MonsterInsights