Categories
Exclusive Interesting Facts Karachi KU MQM انکشاف ایم کیو ایم جامعہ کراچی دل چسپ سمے وار بلاگ سندھ سیاست کراچی مہاجر صوبہ مہاجرقوم

“اے پی ایم ایس او” کو فعال کیجیے؟

سمے وار (تحریر: سید ایان ملک)
بنام چیئرمین ‘ایم کیو ایم’ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی اور متحدہ کے تمام وہ کارکنان جو کراچی اور سندھ میں متحدہ کو دوبارہ عروج پر دیکھنا چاہتے ہیں۔
مکرمی!
آج میں ایک ساتھی، ایک کارکن، اور ایک ایسے شخص کے طور پر اپنے دل کی چند باتیں لکھنا چاہتا ہوں جس نے “اے پی ایم ایس او” کو اُس دور میں جوائن کیا جب تنظیم زوال کا شکار تھی۔ جراثیم شاید اس سے پہلے ہی پیدا ہو چکے تھے، مگر افسوس اس بات کا ہے کہ 2015 کے بعد جو شدید زوال آیا، اُس سے آج تک ہم مکمل طور پر باہر نہیں نکل سکے۔
اس زوال کی کئی وجوہات تھیں، مگر سب سے بڑی وجہ ریاستی کریک ڈاؤن تھا جس نے تنظیمی ڈھانچے، قیادت، اور کارکنوں کے اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا۔ بہرحال اُس بات کو اب تقریباً ایک دہائی گزر چکی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اُس کے بعد خود کو دوبارہ منظم کرنے کی سنجیدہ اور درست کوشش کی؟
میں نے اس سفر کو جتنا پڑھا، سنا اور قریب سے دیکھا ہے، اُس کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ آج ایم کیو ایم اور “اے پی ایم ایس او” میں قیادت کے فقدان کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ “پودے” پر توجہ نہیں دی گئی۔ نئی نسل کی نظریاتی، اخلاقی، تعلیمی اور تنظیمی تربیت پر وہ توجہ نہ دی گئی جو کسی بھی تحریک کی بقا کے لیے ضروری ہوتی ہے۔
آج جب میں کراچی میں مختلف غیر مقامی تنظیموں اور گروہوں کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ اور بعض مقامات پر ان کی غنڈہ گردی دیکھتا ہوں، تو دل میں ایک سوال شدت سے ابھرتا ہے کہ اُس شہر میں جہاں قانون پہلے ہی کمزور ہوچکا ہو، وہاں “اے پی ایم ایس او” جیسی مؤثر اور شہر کی نمائندہ طلبہ تنظیم کا اتنا کمزور ہوجانا ہمارے اجتماعی وجود پر ایک سوالیہ نشان ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اس شہر کے اتحاد، شعور اور سیاسی بیداری کی ضمانت ہمیشہ نوجوان اور طالب علم ہی رہے ہیں۔ ماضی میں بھی طلبہ نے انقلاب برپا کیا تھا، اور آج جب کہ نوجوانوں کی تعداد پہلے سے کہیں زیادہ ہے، تو ایک مرتبہ پھر ایک مؤثر، باشعور اور منظم آواز کی ضرورت ہے۔ ایسی آواز جو تشدد کے بہ جائے قلم، علم، اخلاق، دلیل اور شعور کو اپنی جدوجہد کا پہلا ہتھیار بنائے۔
لیکن ابھی بھی وقت ہاتھ سے مکمل طور پر نہیں نکلا۔ اگر چند بنیادی تنظیمی، انتظامی اور نظریاتی اصلاحات کی جائیں تو “اے پی ایم ایس او” دوبارہ نوجوانوں کی ایک مضبوط، باوقار اور مؤثر آواز بن سکتی ہے۔
میرے نزدیک درج ذیل نکات پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے:
1۔ APMSO کو صرف جامعات تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ سیکٹر اور یونٹ کی سطح تک دوبارہ فعال کیا جائے تاکہ تنظیم عوامی اور زمینی سطح پر مضبوط ہو۔

2۔ 26 سال تک کے تمام ساتھی اس مشکل دور میں “اے پی ایم ایس او” کے لیے بھی متحرک کردار ادا کریں، تاکہ نئی نسل کو مضبوط قیادت میسر آسکے۔

3۔ ایک نیا آئین تشکیل دیا جائے جس میں نظم و ضبط، تنظیمی ذمہ داریوں اور احتساب کے حوالے سے واضح اور سخت پالیسی موجود ہو۔

4۔ “اے پی ایم ایس او” کے دروازے ہر اُس نوجوان کے لیے کھلے ہوں جو رنگ، نسل یا زبان سے بالاتر ہوکر کراچی کو اپنا شہر سمجھتا ہو، پاکستان کے نظریے سے محبت رکھتا ہو اور بانیانِ تحریک کے نظریات سے اتفاق رکھتا ہو۔

5۔ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی اور اسکل ڈیولپمنٹ کورسز کا انعقاد کیا جائے، خاص طور پر اُن علاقوں میں جہاں پشتون آبادی زیادہ ہے، تاکہ نوجوانوں سے مثبت رابطہ قائم ہو اور غلط فہمیاں کم ہوں۔

6۔ تعلیم کو پہلی ترجیح بنایا جائے اور دوبارہ علمی و فکری ماحول پیدا کرنے کے لیے مباحثے، مکالمے اور ڈیبیٹ سیشنز کا آغاز کیا جائے۔

7۔ یونٹ انچارجز کے اختیارات میں اضافہ کیا جائے اور ایم کیو ایم کی ایسی کمیٹیاں بنائی جائیں جن میں نچلی سطح کی قیادت کو بھی نمائندگی حاصل ہو۔ ساتھ ہی تنظیمی فنڈنگ کے شفاف اور مؤثر ذرائع تلاش کیے جائیں۔

8۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کے لیے روزگار، انٹرن شپ اور ہنر مندی کے مواقع پیدا کیے جائیں تاکہ تنظیم عملی طور پر نوجوانوں کی زندگی بہتر بنانے میں کردار ادا کرے۔

9۔ “اے پی ایم ایس او” کے پلیٹ فارم سے شجرکاری مہم شروع کی جائے تاکہ تنظیم کا مثبت، تعمیری اور ماحول دوست تشخص ابھر کر سامنے آئے۔

10۔ ایسا اصول بنایا جائے کہ ہر کارکن، چاہے وہ کسی بھی مسلک یا مذہب سے تعلق رکھتا ہو، اپنی عبادات اور اخلاقی ذمہ داریوں میں کوتاہی نہ کرے۔

11۔ نئے ساتھیوں کے لیے ایک تربیتی کتاب یا منشور ترتیب دیا جائے جس میں واضح ہو کہ تنظیم میں شامل ہونے کے بعد اُس کی زندگی میں کون سی اخلاقی تبدیلیاں لازمی ہوں گی، اور خلاف ورزی کی صورت میں احتساب کا نظام بھی موجود ہو۔

12۔ باقاعدہ تربیتی نشستوں، فکری ورکشاپ اور نظریاتی پروگرامز کا انعقاد کیا جائے تاکہ کارکن صرف جذباتی نہیں بلکہ فکری طور پر بھی مضبوط ہوں۔

13۔ “اے پی ایم ایس او” کی بنیاد یعنی “ورکرز” کو اصل طاقت سمجھا جائے، اور سفارش و اقربا پروری کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔

14۔ ہر کارکن کو منشیات اور دیگر برائیوں سے دور رکھا جائے، جب کہ جسمانی صحت، کھیل اور فٹنس کی حوصلہ افزائی کی جائے۔

15۔ “اے پی ایم ایس او” کی جانب سے میرٹ پر مبنی اسکالرشپ پروگرام شروع کیا جائے تاکہ ذہین مگر مالی مشکلات کا شکار طلبہ کی مدد ہوسکے۔

16۔ تمام پرانے اور نئے ساتھیوں پر مشتمل ایک مضبوط کمیونٹی یا نیٹ ورک بنایا جائے جس کا مقصد ایک دوسرے کو روزگار، کاروبار اور عملی زندگی میں سپورٹ فراہم کرنا ہو۔

17۔ تنظیم کے اندر نفرت انگیزی، تعصب اور مہاجر دشمنی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے۔

18۔ اختلافِ رائے اور اوپن ڈیبیٹ کی روایت کو فروغ دیا جائے تاکہ نوجوان سوال کرسکیں، سیکھ سکیں، اور بہتر سوچ پیدا ہو۔

ان تمام نکات پر عملدرآمد کی شروعات اُن علاقوں سے کی جائے جہاں “اے پی ایم ایس او” نسبتاً جلد مضبوط ہوسکتی ہے اور جہاں تنظیمی بنیادیں دوبارہ کھڑی کرنا آسان ہو۔ اُس کے بعد مرحلہ وار اُن علاقوں کی طرف بڑھا جائے جہاں مزاحمت زیادہ ہے یا جہاں تنظیمی خلا زیادہ گہرا ہوچکا ہے۔

ایسے حالات میں ذمہ داری صرف سیکٹرز یا چند مخصوص افراد پر نہیں ہونی چاہیے، بلکہ جب بھی تنظیم کو ضرورت ہو، “اے پی ایم ایس او” کے تمام کارکنان کو ایک کال پر میدان میں آنے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔ کیوں کہ تحریکیں صرف چند عہدیداروں سے نہیں بلکہ اجتماعی شعور، اتحاد اور کارکنوں کی عملی موجودگی سے زندہ رہتی ہیں۔

آخر میں صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ تحریکیں صرف نعروں سے زندہ نہیں رہتیں، بلکہ کردار، تنظیم، تعلیم، نظریہ اور قربانی سے دوبارہ اٹھتی ہیں۔ اگر “اے پی ایم ایس او” کو اُس کی اصل روح کے ساتھ دوبارہ منظم کیا جائے تو یہ تنظیم ایک بار پھر کراچی اور سندھ کے نوجوانوں کی سب سے مؤثر آواز بن سکتی ہے۔

20۔ “اے پی ایم ایس او” کے لیے کراچی میں ایک علیحدہ مرکزی دفتر قائم کیا جائے جہاں سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں سے تعلق رکھنے والے طلبہ اپنی شکایات، مسائل اور تجاویز باقاعدہ طور پر درج کرواسکیں۔ یہ دفتر طلبہ کے حقوق، تعلیمی مسائل، فیسوں، ہراسمنٹ، غیر منصفانہ پالیسیوں اور دیگر مسائل کے حل کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم کے طور پر کام کرے تاکہ نوجوان خود کو تنہا محسوس نہ کریں اور اُنہیں ایک منظم آواز میسر آسکے۔
یہ تحریر تنقید برائے تنقید نہیں، بلکہ ایک ایسے کارکن کی آواز ہے جو اب بھی اس تحریک کو زندہ، منظم اور باوقار دیکھنا چاہتا ہے۔
.
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Verified by MonsterInsights