سمے وار (خصوصی رپورٹ)
کچھ عرصے قبل سوشل میڈیا پر اسکرولنگ کرتے ہوئے آپ نے بھی ایک شادی کے موقع کی ویڈیو ضرور دیکھی ہوگی، جس میں ایک دبلا پتلا نوجوان گھر میں مہمانوں کے سامنے اپنی دلہن کو اٹھا کر اس کے ساتھ ڈانس کرتا ہوا پایا جاتا ہے۔ ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ اس کی دلہن ڈانس کرنے پر رضامند نہیں ہوتی، لیکن وہ زبردستی اسے اٹھا کر اس کے ساتھ ڈانس کرتا ہے، اور اس میں بہت جوش وخروش سے وہ اپنے دبلے پتلے وجود کے ساتھ تھرکتا ہے اور خوب مشہور ہوتا ہے۔
بدقسمتی سے اس ویڈیو کی شہرت منفی تھی، دیکھنے والوں نے اسے مخصوص ادائوں، چہرے کے نقوش اور بے کراں ناچتے ہوئے دیکھ کر اس پر “کورنگی کا کیس لگ رہا ہے” جیسے تبصرے کیے۔ دوسری جانب اس کا دفاع بھی کیا گیا کہ اگر کوئی اپنی خوشی میں خوش ہو رہا ہے تو ہم کون ہوتے ہیں کہ اس پر تنقید کریں یا اس کی رہائش کو بنیاد بنا کر اس کی تضحیک کریں۔
تقریباً ڈھائی سال بعد پتا چلا ہے کہ اس ویڈیو میں ڈانس کرنے والے لڑکے کا نام عمیر اعجاز ہے اور اس کی یہ ویڈیو اس کی اپنی شادی کی نہیں، بلکہ اس کے بھائی کی شادی کی ہے۔ جب اس وقت اس کی بھی نئی نئی شادی ہوئی تھی جس پر اس نے اپنے گھر کی تقریب میں اپنی بیوی کے ساتھ ڈانس کرنا چاہا تھا۔ اس میں عمیر اعجاز کا سب سے اہم اور دل چسپ انکشاف یہ تھا کہ جس میں انھوں نے یہ بتایا کہ لوگوں نے انھیں کورنگی والا کہہ کر تنقید کا نشانہ بنایا لیکن وہ تو پنجابی ہیں اور یہ ویڈیو بھی لاہور کی ہے۔ لیکن لوگوں نے پتا نہیں کیوں اس ویڈیو کی بنیاد پر ان پر اس طرح کی تنقید کی۔ عمیر اعجاز کی اس ویڈیو کے بعد ایک بار پھر واضح ہوگیا کہ سوشل میڈیا پر ایسے ہی دیکھ کر کوئی بھی رائے قائم کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ نیز کسی کی نجی زندگی اور نجی معاملات یا مالی حالت سے لے کر اس کی رہائش یا قومیت کی بنیاد پر اس کا مذاق نہیں اڑانا چاہیے۔
Categories
“کورنگی کا کیس” نوجوان کا اہم انکشاف سامنے آگیا
