سمے وار (خصوصی رپورٹ)
1972 میں جب متنازع سندھی زبان کا بل منظور کیا گیا، تو کراچی اور حیدرآباد وغیرہ میں اس کا شدید ردعمل ہوا۔ اور اس کے خلاف احتجاج شروع ہوا، اس کے باوجود 7 جولائی 1972 کو سندھی زبان کا بل صوبائی اسمبلی سے منظور کر لیا گیا۔ اس کے بعد کئی شہروں میں احتجاج اور ہڑتالیں شروع ہو گئیں۔
اس دوران وزیراعلیٰ سندھ ممتاز بھٹو تھے اور کراچی میں لالو کھیت پر اردو کے حوالے سے جلوس پر فائرنگ ہوئی جس کے بعد کرفیو نافذ کر دیا گیا۔ بعض علاقوں میں فوج کو بھی طلب کیا گیا۔ 9 جولائی 1972 کے اس واقعے میں شہید ہونے والوں کی قبریں آج بھی لیاقت آباد میں شہدائے اردو کے نام سے جانی جاتی ہیں۔
1972 کے زمانے میں گورنر سندھ میر رسول بخش تالپور سے یہ بات منسوب کی جاتی ہے کہ جب اردو کے لیے ہر جمعے کو ہڑتال ہوتی تھی تو انھوں نے کہہ دیا مہاجرو! جمعے کو تو ویسے ہی آدھے بازار بند ہوتے ہیں، مردکے بچے ہو تو کسی اور دن ہڑتال کرکے دکھائو۔ اس کے بعد 10 دن کی ہڑتال ہوئی تھی اور ذوالفقار بھٹو کو باقاعدہ ہاتھ جوڑ کر مہاجر قوم سے معذرت کرنی پڑی تھی۔ اس وقت کمشنر کراچی روئیداد خان تھے، انھوں نے بھٹو کے معافی مانگنے کے واقعے کو حامد میر کے پروگرام میں بھی ذکر کیا ہے۔
1972 کے اسی واقعے کے بعد یہ طے پایا کہ سندھ ذولسانی صوبہ ہے، جس کی اردو اور سندھی دو زبانیں ہیں۔ اگر سندھ کا گورنر سندھی ہوگا تو وزیراعلیٰ مہاجر ہوگا۔ اسی بنا پر اس کے بعد سے گورنر سندھ مہاجر ہی تعینات کیا جاتا رہا ہے۔ سوائے ضیا الحق کے گورنر عباسی اور پرویز مشرف کے محمد میاں سومرو کے۔ کبھی غیر مہاجر گورنر نہیں بنایا گیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ کئی مواقع ہونے کے باوجود کبھی مہاجر وزیراعلیٰ نہیں بن سکا، اس بنا پربہتر سمجھا گیا کہ گورنر مہاجر بنا دیا جائے۔
Categories
مرد کے بچے ہو تو جمعے کے سوا کسی دن ہڑتال کرکے دکھائو!
