Categories
Education Exclusive Interesting Facts Media PPP Society پنجاب پیپلز پارٹی جماعت اسلامی سندھ سیاست قومی تاریخ قومی سیاست

پانچ جولائی 1977کے حقائق کیا تھے؟

سمے وار (تحریر: علی عمران شاہین)
5جولائی 1977 کو اس وقت کے فوجی سربراہ جنرل ضیا الحق نے مارشل لا لگا کر عنان حکومت سنبھال لی تھی اور تاریخ انسانی کے پہلے اور تادم تحریر آخری سول مارشل ایڈمنسٹریٹر اور حکومت پر ناجائز قابض(1970کے انتخابات میں عوامی لیگ جیتی اور پیپلز پارٹی ہاری تھی لیکن پھر بھی اقتدار بھٹو کو دےدیا گیا تھا کیوں کہ وہ یحییٰ خان کا ملک توڑنے میں شریک بازوتھا اور یحییٰ اس کا کٹھ پتلی تھا) ذوالفقار بھٹو کو اقتدار سے الگ کر دیا تھا…..یہ وہ دن تھے جب پورا ملک شدید مظاہروں ہنگاموں اورافراتفری کی لپیٹ میں تھا کیوں کہ بھٹو نے جن انتخابات کا اعلان کیا تھا ان میں اس کی پارٹی کے امیدوار الیکشن سے پہلے بلا مقابلہ اور الیکشن کے روز پولنگ کا وقت مکمل ہونے سے پہلے ہی جیتنا شروع ہوگئے تھے، کیوں کہ مخالف امیدواروں کو اس قدر ڈرایا اور دھمکایا بلکہ مارا اور قتل کیا جاتا تھا کہ وہ مقابلے سے ہی الگ ہو جاتے تھے۔ بھٹو کے مقابلے میں بھی کھڑے ہونے اور پیچھے نہ ہٹنے والے جماعت اسلامی کے امیدوار جان محمد عباسی سے یہی کچھ ہوا تھا۔ اگرچہ پیپلز پارٹی کا دور حکومت 14 اگست 1978 کو ختم ہونا تھا مگر بھٹو طاقت اور ہوس اقتدار کے نشے میں اس قدر چور تھا کہ اس نے ڈیڑھ سال قبل ہی نئے انتخابات کا اعلان کر دیا۔بھٹو نے کم و بیش ایک برس سات ماہ قبل قومی اسمبلی اورصوبائی اسمبلیاں تحلیل کیں اور جنوری 1977 کے آغاز میں ہی اعلان کردیا کہ سات مارچ 1977 کوقومی اسمبلی اور10مارچ 1977 کو چاروں صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ہوں گے۔ذوالفقارعلی بھٹو نے نگران وزیر اعظم کا منصب اپنے پاس رکھا اور اپوزیشن کی تمام جماعتوں نے اگرچہ ان کے اس فیصلے پر اعتراضات کیے مگر ان کے تمام اعتراضات کو مسترد کر دیا گیا۔
انتخابی مہم شروع ہوئی تو پیپلز پارٹی کے مقابل پاکستان نیشنل الائنس PNA تھا۔اس نو جماعتی اتحاد میں شریک سیاسی جماعتیں تھیں، پاکستان جمہوری پارٹی، تحریک استقلال، جماعت اسلامی، جمعیت علمائےپاکستان ،جمعیت علمائے اسلام ،خاکسار تحریک ،پاکستان مسلم لیگ( قاسم گروپ)، نیشنل عوامی پارٹی و آل جموں وکشمیر مسلم لیگ کانفرنس شامل تھیں جب کہ ایک اور سیاسی جماعت مسلم لیگ (قیوم گروپ) بھی ان انتخابات میں حصہ لے رہی تھی۔ 9جماعتی اتحاد کے سربراہ تھے مفتی محمود مرحوم جوکہ فضل الرحمن کے والد تھے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کا انتخابی نشان تلوار جب کہ پاکستان قومی اتحاد جس کا مخففPNA کا انتخابی نشان تھا،ہل۔ PNA کا نعرہ اسلامی قوانین کا نفاذ بھی تھا۔قومی اتحاد نے یہ بھی کہا کہ وہ اقتدار میں آکر تمام خوردنی وعام استعمال کی اشیا کی قیمتیں 1970 کی سطح پر لائے گی کیونکہ اس وقت مہنگائی اس قدر تھی کہ الامان الحفیظ۔کھانے پینے کا تمام سامان جنگ کے دنوں کی طرح راشن ڈپو سے ملتا اور چینی فی خاندان ماہانہ دو سے تین کلو اور وہ بھی 7روپے فی کلو ملتی البتہ 15روپے کلو کے حساب سے جتنی چاہو پیپلز پارٹی کے پیاروں کے گوداموں سے خرید لو۔یہی حال باقی سب چیزوں کا تھا……سیمنٹ صرف بااثر یا امیر ترین لوگ خرید سکتے تھے،عام عوام پر اس کی خریداری بند تھی۔
بہرکیف جیسے جیسے انتخابات کی تاریخ قریب آرہی تھی ویسے ویسےملک میں گویا طوفان برپا ہوچکا تھا جو ہر گزرتے دن کے ساتھ شدید تر ہوتا جا رہا تھا،خدا خدا کرکے 7 مارچ 1977 کا سورج طلوع ہواتو انتخابی عمل کا وقت مکمل ہونے سے پہلے ہی نتائج آنا بھی شروع ہوگئے۔قومی اسمبلی کی 200 نشستوں میں سے پاکستان پیپلز پارٹی پہلے ہی 19 نشستوں پر بلا مقابلہ کام یاب قرار پاچکی تھی ان بلامقابلہ کام یاب ہونے والوں میں ذوالفقار بھٹو بھی تھے جوکہ لاڑکانہ کی نشست سے کام یاب ہوئے۔ بلامقابلہ کامیاب ہونے والوں میں 15 کا تعلق صوبہ سندھ اور 4 کا تعلق صوبہ بلوچستان سے تھا البتہ لاڑکانہ وہ ضلع تھا جہاں انتخابی عمل ممکن نہ ہوا کیوں کہ تینوں نشستوں پر حکمران جماعت کے لوگ بھٹو سمیت بلامقابلہ کام یاب ہوگئے تھے۔ 181 نشستوں میں سےPNA فقط 36 نشستیں حاصل کر سکی جب کہ حکمران جماعت نے 155 نشستیں جیت لیں ۔ایک نشست مسلم لیگ قیوم گروپ جب کہ آٹھ نشستیں آزاد امیدواروں کے حصے میں آئیں۔ ان انتخابات میں PNA کے اکثر راہ نما ایک سے زائد نشستوں پر انتخاب لڑ رہے تھے۔مفتی محمود ، بیگم نسیم ولی خان دو دو حلقوں سے کام یاب ہوئے۔ اصغرخان بھی دوحلقوں سے کامیاب ہوئے جب کہ انھوں نے پانچ حلقوں سے انتخاب لڑا تھا۔ پروفیسر غفور احمد ، شیربازخان مزاری ایک ایک نشست جیتنے والے راہ نما تھے۔
بدترین دھاندلی کی وجہ سےPNA کے راہ نماؤں نے انتخابی نتائج تسلیم نہ کرنے کے ساتھ ساتھ 10 مارچ 1977 کو چاروں صوبائی اسمبلیوں کے ہونے والے انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان بھی کر دیا۔ PNA کے بائیکاٹ کے باعث خواتین کی مخصوص دس نشستوں پر بھی پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والی تمام خواتین کام یاب ہوگئیں ۔ان خواتین میں بیگم نصرت بھٹو، نسیم سلطانہ ، مبارک بیگم، نرگس نعیم، دلشاد بیگم، نفیسہ خالد، بیگم کلثوم سیف اللہ ، بیگم سمیعہ عثمان فتح، بیگم بلقیس حبیب اللہ شامل تھیں۔
قومی اتحاد کے راہ نماؤں نے دھاندلی کی بنیاد پر ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان کر دیا، یوں آئے روز ہر طرف مظاہرے، ہڑتالیں ہونے لگیں، بدامنی کے باعث کاروبار زندگی مفلوج ہوگیا،یہ طوفان لامتناہی چار ماہ تک جاری رہا اور اس عرصے میں ہرطرف ماردھاڑ اور قتل و خوں ریزی جاری رہی، تمام سکیورٹی اداروں کو بھٹو کی طرف سےہر صورت احتجاج بزور طاقت کچلنےکا حکم تھا،چھوٹے چھوٹے شہروں اور قصبوں میں کرفیو لگایا جاتا تھا، حتی کہ جنرل ضیا الحق نے بھٹو سے باربار درخواست کی کہ وہ اپوزیشن کے ساتھ 77 نشستوں پر دوبارہ انتخاب کا وعدہ پورا کرے اور افراتفری ختم کرے کیوں کہ فوج تو بلوچستان سندھ اور صوبہ سرحد میں بھٹو کی جانب سے مخالفین کو کچل کر مارنے کی پالیسی کی وجہ سے بری طرح الجھی ہوئی تھی اور اس کے لیے اب ہر بستی شہر میں سکیورٹی سنبھالنا ناممکن ہورہا تھا۔
دوسری طرف اپوزیشن سے 77نشستوں پر انتخابات کے وعدے کو عملی شکل دینے کے بہ جائے بھٹو نے15روزہ غیر ملکی دورے کا اعلان کر دیا اور یوں تھک ہار کر جنرل ضیأ الحق نے عنان اقتدار سنبھالی اور بھٹو کو تحویل میں لے کر مری ریسٹ ہاؤس منتقل کردیا گیا۔
جنرل ضیا نے حکومت سنھالتے ہی تمام صوبوں میں جاری باغی اور علیحدگی کی تحریکوں سے فوری مذاکرات کیے، افغانستان بھاگ جانے والے راہ نماؤں کو معافی دے کر واپس بلایا تو یہ تحریکوں مکمل طور پر ختم ہوگئیں اور تمام باغی محب وطن و محافظ ریاست بن گئے۔
تمام سیاسی قیدی رہا کر دئیے گئے۔راشن ڈپو نظام ختم کر کے تمام اشیائے ضروریہ تک عوام کو رسائی دےدی گئی۔ پورے ملک میں مکمل امن قائم اور مہنگائی کا ایسا خاتمہ ہوا کہ اگلے پورے گیارہ سال ایک روپیا مہنگائی نہ ہوئی۔
جنرل ضیأ الحق اس قدر ایمان دار تھے کہ شہادت کے وقت سرکاری گھر میں ہی رہائش پذیر تھے اور بے نظیر نے حکومت سنبھالتے ہی ان کے خاندان کو سرکاری گھر سے نکلنے کا حکم دیا تو ان کا خاندان ایک سال تک چویدری شجاعت کے گھر پناہ گزین رہا یہاں تک کہ جنرل صاحب کی پینشن سے نیا گھر بنا اور یہ خاندان وہاں منتقل ہوا۔
لوگ کہتے ہیں کہ بھٹو کو ہٹائے جانے کی وجہ اس کا ایٹمی پروگرام شروع کرنا تھا۔اگر ایسا ہوتا تو جنرل ضیا سب سے پہلے ایٹمی پروگرام رول بیک کرتے لیکن انھوں نے تو اسے دوام تک پہنچایا۔
سچ یہ ہے کہ اگر 5جولائی 1977نہ ہوتا تو تب ملک پانچ سے 7 ٹکڑوں میں بٹ چکا ہوتا کیونکہ صوبائی بغاوتیں اسی نہج پر اور اندرون ملک مکمل خانہ جنگی شروع ہوچکی تھی۔
5 جولائی کسی ایک فرد نہیں بلکہ ایک پورے ادارے کے سب محب وطن لوگوں کا متفقہ مشترکہ فیصلہ تھا جس کی وجہ سے آج بھی موجود پاکستان ہمارے پاس ہے ورنہ خاکم بدہن کچھ بھی نہ ہوتا۔
شکریہ جنرل صاحب، حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا۔
.
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Verified by MonsterInsights