Categories
Exclusive Interesting Facts Society انکشاف تعلیم تہذیب وثقافت خواتین دل چسپ سمے وار بلاگ سمے وار- راہ نمائی

باپ کی گود کے لیے دادا کی موت ضروری!

سمے وار (تحریر: رعایت اللہ فاروقی)
ہم پختونوں کے متعلق یہ بات مشہور ہے کہ یہ اکثر و بیشتر طیش کی حالت میں ہوتے ہیں
فی الحقیقت ہے بھی ایسا ہی
مگر اس کی وجہ یہ ہرگز نہیں کہ طیش ان کے خون میں پایا جاتا ہے
اس کے پیچھے بنیادی وجہ جہالت ہے
چناں چہ یہ طیش نظر بھی ان پختون علاقوں میں آتا ہے جہاں تعلیم ابھی 4 جنریشنز میں سرایت نہیں کرسکی
آپ کو شاید حیرت ہو کہ جہالت سے طیش کا کیا لینا دینا ؟ سو ہم عرض کرتے ہیں کہ جہالت نے یہ خرابی کس طرح پیدا کی !
جہالت والے علاقوں میں یہ پختون رواج میں شامل ہے کہ دوسروں کے سامنے اپنا بچہ گود میں نہیں لینا، خاص طور پر اپنے والد کے سامنے
یہ ہم اس بچے کی بات کر رہے ہیں جو چلنے پھرنے کے لائق ہےیعنی دو چار سال عمر کا
صرف یہی نہیں بلکہ بچہ اگر کسی اور کی موجودگی میں پاس آجائے تو اسے پیار سے دیکھنا بھی سنگین “بے غیرتی” مانی جاتی ہے
حیرت ہوئی ؟ ذرا رٹھنڈا پانی پی لیجئے کیونکہ اگلا جھٹکا اس سے بھی زیادہ شدید ہے !
پانچ سال کی عمر کے بعد ان علاقوں میں وہ باپ نہایت غیرت مند سمجھا جاتا ہے جو ان معصوم بچوں ننگی یعنی ماں بہن کی گالیاں دیتا ہو
گھر پر بھی اور گھر سے باہر بھی !
مگر غیرت کی الٹی میٹ سطح وہ ہے جہاں وہ والد جلوہ افروز ہوتے ہیں
جن کا من پسند مشغلہ یہ بھی ہو کہ جب گھر مہمان آجائیں اور گفتگو کے دوران تمام موضوعات نمٹ جائیں اور کہنے کے لئے مزید کچھ نہ بچے تو میزبان اپنے “مینڈک” کو طلب کرلے اور اگلے پندرہ سے بیس منٹ تک
اسے مہمانوں کے سامنے رج کر ذلیل کرے
پختون مہمان بہت ہی مشفق ہوتے ہیں سو وہ اس تذلیل میں زبان سے نہیں
بلکہ صرف چہرے کے پورے تاثرات اور قہقہوں کے ساتھ شرکت کرتے ہیں
یوں تین سال کی عمر سے ایسے علاقوں کے پختون بچے بدترین قسم کے نفسیاتی تشدد سے گزر کر جوان ہوتے ہیں تو وہ شدید قسم کے چرچڑے ہوچکے ہوتے ہیں
نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اگر دوستوں کی محفل میں یہ کسی مذاق پر بھی اس نتیجے تک پہنچ جائیں کہ ان کی تذلیل کی گئی ہے
تو وہ باپ تھا جس کے آگے یہ بے بس تھے
دوسرے کی تو یہ جان تک لینے سے بھی دریغ نہیں کرتے
اس کا بات بات پر طیش میں آنا اس کا وہ نفسیاتی عارضہ ہے جس سے اس کے باپ نے ہی اسے دوچار کیا ہے
کہا جاتا ہے کہ پختونوں میں دشمنیاں ضرور ہوتی ہیں، اور ہوتی بھی نسل در نسل ہیں
ایسی دشمنیاں جن میں دونوں جانب کے درجنوں لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہوتے ہیں
جی ہاں ! ہوتی ہیں ایسی دشمنیاں مگر ان علاقوں میں جہاں جہالت کے ڈیرے ہیں
اور یہ دشمنیاں انہی نفسیاتی مسائل کی پیدا کردہ ہیں
آپ ان علاقوں کی خاندانی دشمنیوں کی ہسٹری کو کسی محقق کی طرح کھوجنا شروع کیجئے تو اکثر کیسز میں اس کی جڑ میں ایک ایسی مجلس ملے گی جہاں کسی رشتیدار یا دوست کے مذاق پر دوسرے نے اس کی جان لی ہوگی
اور وہاں سے آغاز ہوگیا ہوگا نسل در نسل بدلے کا
اس طرح کی دشمنیاں پڑھے لکھے پختون علاقوں میں کیوں نہیں ہیں ؟
کیوں کہ وہاں بیٹے کو باپ کی گود میں بیٹھنے کے لئے دادا کی موت کا انتظار نہیں کرنا پڑتا
پڑھے لکھے پختون علاقے کا پختون جب پبلک میں بیٹے کو کسی کام سے پکارتا ہے تو یوں
“نور خانہ بچے لگ دیخوا راشہ !”
(نور خان بیٹا ! ذرا یہاں آنا)
اور جایل پختون ایریے میں بیٹے کو پبلک میں یوں طلب کیا جاتا ہے
“یا الکا ! ستا پہ مور کی کیدم، دیخوا راشہ”
اب اس کا ترجمہ ہم نہیں کرسکتے، بس اتنا جان لیجئے کہ ماں کی گالی دے کر طلب کیا جاتا ہے
ہمارے خاندان میں ہمارے والد پہلے شخص تھے جنہوں نے ان مسائل کی سنگینی کو محسوس کیا اور طے کیا کہ ان کی اولاد اس ماحول میں پروان نہیں چڑھے گی
مگر ان کی شادی 36 سال کی عمر میں ہوئی تھی، جس کا مطلب یہ تھا کہ وہ بیشتر چیزوں کے خود بھی لپیٹ میں آچکے تھے
سو وہ کھڑے کھلوتے سب ختم نہیں کرسکتے تھے
جو چیزیں عادت میں شامل ہوجائیں ان سے چھٹکارا بہت ہی مشکل ہوجاتا ہے
سو انہوں نے جہالت کے بہت سے بت توڑ بھی ڈالے مگر کچھ رہ بھی گئے
مثلا ہمیں یاد ہے ہم ان کے روبرو بیٹھے تھے اور تین سال کا صلاح الدین ہمارے پاس آگیا کہ گود میں لیجئے !
ہم فل ٹینشن میں کہ یار اب کیا کریں
ایسے میں ہمارے والد صاحب نے ہمیں ڈانٹتے ہوئے فرمایا
“لو ناں اسے گود میں، دیکھ کیا رہے ہو !”
ہم نے لے تو لیا مگر یوں جیسے کوئی بہت ہی شرمناک حرکت کر رہے ہوں
سو جب ہمارے بیٹوں کی شادی ہوئی تو جو چیزیں ہمارے والد سے بچ گئی تھیں اور ہم تک آپہنچی تھیں، یعنی ہم میں پائی جاتی تھیں
ان کی جڑیں ہم نے پوری بے رحمی سے کاٹ ڈالیں
ہماری صاف گوئی والی تلوار صرف دوسروں پر نہیں چلتی اپنے خلاف بھی چلتی ہے
سو بیٹوں کو بٹھا کر یوں سمجھایا
“تم نے ہمیں فیملی میں فلاں فلاں کام کرتے بچپن سے دیکھا ہوگا، یہ سب پختون جہالت کے سوا کچھ نہ تھا۔ اس جہالت سے نکلنے میں پہل تم لوگوں کے دادا جان نے کی تھی، مگر بہت سی چیزوں سے وہ بھی جان نہیں چھڑا پائے تھے۔ وہ سب عادات میں شامل ہوچکی تھیں۔ ہم کاپی پیسٹر تھے سو ہم بھی اس کی لپیٹ میں آگئے۔ لیکن بہت کچھ ہم بھی ختم کرچکے ہیں۔ اب یہ آخری دو چار برائیاں رہ گئی ہیں، ان میں ہمیں کاپی پیسٹ مت کرنا۔ یہ چند آخری چیزیں تم لوگوں نے کک آؤٹ کرنی ہیں، تب جاکر بعد کی نسلیں “ابوجہل ولی” سے مکمل محفوظ ہوں گی”
دنیا کی ہر قوم کے کلچر میں خوبیاں بھی ہوتی ہیں اور خامیاں بھی۔ اور ہر قوم میں خوبیاں خامیوں پر حاوی ہوتی ہیں
پختون کلچر “پختون ولی” پر کھڑا ہے !
مگر ہم صرف پختون ولی کی اصطلاح پر نہیں رکتے، ہم کہتے ہیں
پختونوں میں پختون والی اور “ابوجہل ولی” دونوں ساتھ ساتھ چل رہی ہیں
پختون والی درخشاں روایات جبکہ ابوجہل ولی ان لغویات کا ٹائٹل ہے جن کا ذکر پیچھے گزرا !
ہم اور ہمارے تمام بھائی ایسے دور میں پیدا ہوئے تھے جب “اصلاحات” کا آغاز ہوا تھا
پہلا شخص کبھی بھی پوری اصلاحات نہیں لا پاتا، اس کا احسان عظیم یہ ہوتا ہے کہ ایک بڑی برائی کو برائی کہہ کر اسے جڑ سے اکھاڑنے کا آغاز کر دیتا ہے
ہم نے اپنے والد کے اس عظیم احسان کی قدر و قیمت کو سمجھا، سو اصلاحات کے اس کام کو آگے بڑھایا اور اب مشعل تیسری نسل کے سپرد کردی ہے
ہمیں اگرچہ ہمارے والد نے صلاح الدین کو گود میں لینے کا کہا تھا مگر گریز ہم اس کے بعد بھی کرتے رہے، ان کے سامنے گود میں لینے سے
“کیوں ؟ کیونکہ بیماری کے جراثیم ابھی باقی تھے لیکن ہمارے بیٹوں کو ہم نے باقاعدہ وارننگ دی
“اگر بچہ پاس آیا اور تم نے پیار نہ دیا، یا گود میں نہ اٹھایا تو ہم وڑ دیں گے تم لوگوں کو”
یوں ہمارے پوتے پوتیاں محض اتنی سی بات کی وجہ سے باپ کی گود سے محروم نہیں رہتے کہ ابھی دادا جان زندہ ہیں، یہ مریں گے تو اپنے بھاگ جاگیں گے!
ہمیں معلوم ہے، ہماری یہ پوسٹ “ابوجہل ولی” والوں کو سخت ناپسند آئے گی!
مگر ہمیں اس سے کیا ؟
ہمیں تو چراغ روشن رکھنے کا حکم ہے، سو بجھنے نہیں دیا !
جسے روشی چاہئے، حاصل کرلے !
جسے نہیں چاہئے بیٹے کو “ستا مور اوغیم” کہہ کر اپنے جذبات کا اظہار کرلے
لیکن ہماری طرف سے “یو ٹو” ضرور قبول فرمائے!
۔
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Verified by MonsterInsights