سمے وار(تحریر: ڈاکٹر جہاں آراء لطفی)
شیخ زاید اسلامک سینٹر جامعہ کراچی میں تقریبا 22 سال بحیثیت انچارج پروگرام و سیمینارخدمات انجام دیں ۔ یہ ان ذمہ داریوں کے علاؤہ کئی ذمہ داریوں میں سے ایک ہے جو بحیثیت استاد فرائض منصبی کے علاؤہ انجام دینے کا موقع ملا۔اس کے تحت ہمیں سینٹر کے پروٹوکول کے مطابق سال میں کم از کم چھہ سے آٹھ پروگرام منعقد کروانے ہوتے تھے ۔
ان میں سیرت النبی ، 23مارچ ، 14اگست ،یوم دفاع اور کمپیوٹر سوفٹ وئیر ایگزیبیشن کے پروگراموں کا انعقاد لازمی تھا ۔۔اس کی رپورٹس
ہمیں اسلام آباد منسٹری کو بھیجنا ہوتی تھی ۔ میں نے اس ذمہ داری کو اپنے کولیگز اور طلباء و طالبات کے ساتھ مل کر ہمیشہ کامیاب بنانے کی کوشش کی۔ اور الحمد للہ ! ان موقعوں پر پاکستان کی اہم اور نابغہ شخصیات کو ذاتی تعلقات کی بنیاد پر مدعو کیا جن سے مل کر طلباء و طالبات کے اندر کامیابی حاصل کرنے اور ملک و قوم کے لیے کچھ کر گزرنے کا جذبہ پیدا ہو۔۔۔۔یوں تو یوم آزادی کے پروگراموں میں بہت سی اہم شخصیات بحیثیت مہمان خصوصی تشریف لائیں ۔ جن کا ذکر پھر کبھی کروں گی ۔۔لیکن ایک شخصیت بہت اہم ہے جن کی تصویریں میرے پاس محفوظ ہیں وہ ہیں ۔۔۔قطب الدین عزیز۔۔
قطب الدین عزیز (1929ء – 5 دسمبر 2015ء) پاکستان کے ممتاز صحافی، مصنف، سابق سفیر اور تحریکِ پاکستان کے کارکن تھے۔ وہ لکھنؤ میں پیدا ہوئے اور لندن اسکول آف اکنامکس سمیت دیگر نامور اداروں سے تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے 20 سے زائد کتابیں تحریر کیں، جن میں مشرقی پاکستان کے حوالے سے “بلڈ اینڈ ٹیرز” (Blood and Tears) اور “جناح اینڈ دی بیٹل فار پاکستان” (Jinnah and the Battle for Pakistan) بہت معروف ہیں۔
ملک کے لیے بحیثیت سفارتکار اہم خدمات انجام دیں ۔ میری ان سے اکثر قومی نوعیت کے پروگراموں میں ملاقات رہتی تھی۔۔میں نے انہیں اپنے سینٹر کی شان بڑھانے کے لیے اور طلباء و طالبات کو ایک محب وطن پاکستانی سے جو عالمی سطح پر پہچان رکھتے تھے ، ملاقات کروانے کے لیے دعوت دی جو انہوں نے بہت خوشی سے قبول کی۔۔ہم یوم آزادی کے پروگرام میں ایک کوئز پروگرام رکھتے تھے ۔۔آپ دیکھ سکتے ہیں کہ سینٹر کے طلباء و طالبات کس قدر انہماک اور ذمہ داری سے کوئز پروگرام کر رہے ہیں۔۔اس کوئز کے سوالات تیار کرنا میری ذمہ داری تھی ۔۔اسے خود ہی لکھتی تھی ۔ ہم نے ہمیشہ سادگی اور وقار کو مد نظر رکھا۔۔ہمارے طلباء و طالبات جو اس میں نظر آرہے ہیں پاکستان اور بیرون ملک اس وقت بڑی اہم ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں ۔ قطب الدین عزیز صاحب کا پاکستان کی محبت سے لبریز خطاب نے نوجوان طلباء و طالبات میں نئی روح پھونک دی تھی۔۔شاید بہت سے اسٹوڈنٹس کو یاد ہو جو فیس بک پر ہیں ۔
اس وقت ہمارے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عبد الشہید نعمانی تھے ۔ ساتھ میں انگریزی کے سینیئر پروفیسر ڈاکٹر محفوظ علی ہیں ۔ قطب الدین عزیز صاحب نے اپنی کتب بھی ہماری لائیبریری کو عنایت کیں ۔
یوں تو بے شمار پروگراموں کا انعقاد کیا لیکن یہ پروگرام یادگار بھی تھا اور اس کی تصاویر بھی میرے پاس ہیں۔
.
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)
Categories
شیخ زید سینٹر: ایک یادگار تقریب یوم آزادی
