سمے وار (تحریر: علی حیدر)
تو کہانی کی شروعات ہوتی ہے 1885 میں ، جب برٹش ICS آفیسر ، مسٹر ” اے ۔ او۔ ہیوم” اُس وقت کے “لارڈ ڈفرن ” سے ملاقات کرتے ہیں اور برصغیر کی موجودہ صورتحال کے بارے میں آگاہ کرتے ہیں ، انھیں سمجھایا جاتا ہے کے جناب اگر ان ہندوستانیوں کا غصہ کسی پلاٹ فارم سے نہیں نکلا تو ممکن ہے ایک اور بغاوت ہو جائے 1857 کی طرح ، اور شاید اس بغاوت کو تاج برطانیہ سنبھال نہ پائے۔
تو لارڈ ڈفرن اور ہیوم نے طے کیا کے ایک سیاسی جماعت بنائی جائے گی ، جس کے تحت عوام کا غم و غصہ نکل جایا کرے گا ، اس جماعت کا نام رکھا گیا سنہ 1885 میں کانگریس ۔
یہ جماعت 1885 سے لے کر 1905 کی تقسیم بنگال تک انگریزوں کی پٹھو بن کر رہی ،لیکن جیسے ہی تقسیم بنگال ہوئی تو یہی جماعت اپنے بنانے والے آقاؤں کے خلاف احتجاج کرنا شروع ہوگئی ، اور ایک بڑی آبادی کی سپورٹ انکے ساتھ شامل تھی ، کیونکہ اُس وقت ہندوستانیوں کی یہ ایک واحد نمائندہ جماعت تھی ۔
اب اس سیاسی جماعت کو کاؤنٹر کرنے کا رستہ نکالا گیا ، 1906 میں ہماری مطالعہ پاکستان کی کہانی کے مطابق “شملہ وفد” لارڈ منٹو سے ملنے گیا، جب کے حقیقی طور پر انکو بلایا گیا ۔
سر آغا خان جو کے پہلے صدر بنے آل انڈیا مسلم لیگ کے انکو تاج برطانیہ اپنے خاص بندوں میں شمار کرتا تھا ، آغا خان کو ” سر ” کا ٹائٹل ملکہ وکٹوریہ نے 1897 میں دیا ، ہندوستان میں 50 سال حکومت پورا ہونے کی خوشی میں ۔
1886 میں جب وہ صرف 9 سال کے تھے ، تب انکو ٹائٹل دیا گیا ” His Highness ” اور یہ ٹائٹل اس وقت کے سبھی راجہ ، مہاراجہ اور نوابوں کو نہیں ملتا تھا ، صرف ان خاندان کے سپوتوں کو دیا جاتا تھا ،جو تاج برطانیہ کے وفادار ہوتے تھے ۔
اب آتے ہیں اپنے سوال کی طرف کیا مسلم لیگ انگریزوں نے بنائی تھی؟ اور اگر بنائی تھی تو کیوں ؟
لارڈ کرزن 1905 میں بہتر ایڈمنسٹریشن کے لیے بنگال کو دو حصوں میں تقسیم کر دیتا ہے، لیکن یہ عمل کانگریس کو سخت نا پسند آتا ہے کیونکہ کانگریس کا ماننا تھا ،اس سے ہندو مسلم اتحاد کو ٹھیس پہنچی ہے ، انگریز ہمارے درمیان تقسیم پیدا کرکے یعنی Divide and Rule کی پالیسی کے تحت اپنی حکومت مستحکم کرنا چاہتے ہیں ، کانگریس کے مطابق انگریزوں نے جانتے بوجھتے اس طرح بنگال کو تقسیم کیا کے ایک طرف ہندوؤں کی اکثریت ہوگئی ، اور دوسری طرف مسلمانوں کی ۔
اب کانگریس جو کے انگریزوں نے خود بنائی تھی اسکا یہ پریشر دیکھ کر پریشان ہوگئے ، تو مشورے کے لیے بلایا گیا شملہ وفد کو ، اور انکو جماعت بنا کر جُداگانہ انتخابات کی ڈیمانڈ کرنے کو کہا گیا ۔
ایک ایسی جماعت جسے بنے ہوئے صرف “3” سال ہی ہوئے تھے وہ سیاسی طور پر اتنی بڑی کامیابی حاصل کر لیتی ہے کے All India Act 1909. میں مسلمانوں کو جداگانہ انتخابات کی اجازت مل گئی ، یعنی کے مسلمان نمائندہ ہی کھڑا ہوگا ، اور مسلمان ہی اسکو ووٹ کریں گے ۔
اب یہ دوسرا ٹرمپ کارڈ تھا انگریزوں کی طرف سے Divide and Rule کا ۔
آپنے دماغوں سے سوچیں ایک ایسی جماعت جسکو کہا جاتا ہے مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت ہے ، وہ 1934 کا مرکزی الیکشن ، اور 1937 کا صوبائی الیکشن بُری طرح کیوں ہار جاتی ہے ؟
1934 مرکز میں 30 نشستیں مسلمانوں کی تھیں ، وہاں مسلم لیگ صرف 4 سیٹیں نکال پاتی ہے ،اسکے بعد 1937 کے صوبائی الیکشنز میں مسلمانوں کو 485 سیٹیں دی گئیں اور مسلم لیگ ، صرف 108 سیٹیں جیت پاتی ہے یعنی کے کانگریس مسلمانوں کی ہی سیٹوں پر مسلمانوں کو کھڑا کرکے ، مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت کو کلین سویپ کردیتی ہے ۔
تو سوچیں بطور سیاسی جماعت مسلم لیگ کی کیا حیثیت ہوگی 1937 سے 28 سال پہلے 1909 میں ، کے لارڈ منٹو صاحب سے ملاقات بھی ہو جاتی ہے اور وہ انکی اتنی بڑی سیاسی بات فورآ سے مان بھی لیتے ہیں ؟
کیا وجہ تھی کے کانگریس کے بڑے رہنما بار بار جیل کی ہوا کھاتے رہے ، لیکن مسلم لیگ کا کوئی بڑا رہنما جیل کی یاترا کر کے نہیں آیا ؟
آج اپنے ملک پاکستان میں ہی دیکھ لیں ، جو بندے کالے انگریزوں کی حمایت کرتے ہیں وہ اقتدار میں آجاتے ہیں، اور جو مخالفت کرتے ہیں وہ جیل میں چلے جاتے ہیں ، کل کو موجودہ حمایتی مخالف ہوں گے تو جیل والے باہر آجائیں گے، اور جو اقتدار میں ہیں وہ جیل چلے جائیں گے ،اسطرح Divide and Rule کی پالیسی اپنے زورو شور سے چلتی آرہی ہے اور چلتی رہے گی۔
۔
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)
Categories
آل انڈیا مسلم لیگ کس نے بنائی؟
