سمے وار (مرسلہ: شاہد خان)
35 سال کویت اور سعودی عرب میں کمائی کرنے والا لاہور واپس آیا تو ائیرپورٹ سے سیدھا اولڈ ہوم جانا پڑ گیا۔
محمد نواز فریج اے سی ریپیئرنگ کا کام کرتے تھے 10 سال کویت میں کام کیا گھر کو خوش حال کیا جو کماتے اپنے خرچہ رکھ کر بقایا بیوی کو بھیج دیتے، بیوی بچوں کی ہر خواہش فرمائش پوری کی، کوٹھی نما گھر، گاڑی، جدید موبائل، بچوں کے لیے لیپ ٹاپ، گھر میں ضرورت اور آسائش کی ہر چیز مہیا کی، لیکن غربت سے امارت کا سفر شاید بیوی کو راس نہ آیا۔
اس کی ایک ہی ضد تھی ، کیا ضرورت ہے واپس آنے کی، وہیں رہو اور کمائی کرو۔ کویت میں 10 سال گزار کر واپس آئے تو بیٹی اور بیٹا 5، 7 سال کے تھے، یہاں لاہور میں اپنی شاپ بنائی اور زندگی کی گاڑی کو دھکا دینے کی کوشش کی لیکن کام نہ چلا تو سال دو سال بعد ویزا لگوا کر سعودی عرب چلے گئے، ابتدا میں وہاں بہت مشکل دن دیکھے کفیل والے نظام نے انھیں بڑا خوار کیا، لیکن پھر کاغذات مکمل کرکے کمائی کرنے لگے، 20 سے 22 سال یہاں کام کیا اس دوران گھر کے صرف 3، یا چار چکر لگائے، اس سارے دورانیے میں دولت تو کمائی لیکن خاندان برباد کر لیا، ان کی بیوی صرف پیسے کی پجارن بن گئی، بچے ظاہر ہے ماں کے ساتھ رہے تو ماں کی زبان بولتے تھے۔
پیسہ پیسہ پیسہ، بیوی کی زبان پر ایک یہی لفظ رہتا، پوری برادری میں جو چیز ہماری ہو اس جیسی کسی اور کے پاس نہ ہو ، کم ظرف عورت نے محمد نواز کو پیسے کمانے والی مشین سمجھ لیا ۔ آج سے لگ بھگ ایک سال قبل جھگڑا شروع ہوا جب محمدنواز نے طے کر لیا کہ اب صحت اجازت نہیں دیتی بہت کما لیا باقی زندگی بیوی بچوں کے پاس گزاریں گے ۔ لیکن بیوی ڈٹ گئی ، صاف کہہ دیا ، کوئی ضرورت نہیں گھر آنے کی ، اچھی خاصی کمائی کر رہے ہو اس ملک میں کیا رکھا ہے ۔ اگر پھر بھی واپس آؤ تو اپنا بندوبست خود کرنا اس گھر کے دروازے تمھارے اوپر بند ہیں ۔ محمد نواز نے اپنی بیوی کے ماں باپ اور بہن بھائیوں سے بات کی ، انہوں نے انصاف سے کام لیا اور اپنی بہن بیٹی کو غلط کہا لیکن وہ دشمنی پر آگئی کہ میرا گھر ہے جو مرضی کروں، میرے بہن بھائی کون ہوتے ہیں مجھے غلط کہنے والے ۔۔۔ پھر ایک روز محمد نواز لاہور ائیر پورٹ پر اترے تو بیوی ، بیٹی یا بیٹا لینے بھی نہ آئے ، ایک بھتیجا ائیرپورٹ پر لینے آیا، گھر والوں نے صاف انکار کردیا اسے جدھر مرضی لے جاؤ ہمارے گھر نہ لانا اور بھتیجا محمد نواز کو ائیرپورٹ سے اپنے گھر لے گیا ۔غنیمت یہ کہ چند لاکھ روپے محمد نواز کے پاس تھے انجوں نے اولڈ ہوم سے رابطہ کیا کہ بیمار ضرور ہوں مگر بیکار نہیں ہوں مجھے رہنے کے لیے چھت اور دو وقت کی روٹی دے دیں آپ کے بہت کام آؤں گا۔ آج پچھلے 3 ماہ سے محمد نواز اولڈ ہوم میں رہ رہے ہیں، رضارانہ طور پر یہاں کام بھی کرتے ہیں، رشتہ دار بیوی کو قائل کرنے میں ناکام ہیں۔ بیوی نہیں ہے گویا دشمن ہے اور بچے بھی**، محمد نواز اپنے جیسے لوگوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ بیوی بچوں کو ضرور پالیں انہیں گھر سہولتیں اور آسائشیں سب کچھ دیں لیکن خدارا کچھ اپنے لیے بچا کر رکھیں، بڑھاپے اور بیماری میں رشتوں کی اصلیت معلوم ہوتی ہے اور آج سب سے بڑا رشتہ دار اور دوست پیسہ ہی ہے۔
.
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)
Categories
بیوی نے کہا کماتے رہو، پاکستان آیا تو نکال دیا
