Categories
Education Exclusive Interesting Facts Karachi Rizwan Tahir Mubeen Society انکشاف تہذیب وثقافت دل چسپ رضوان طاہر مبین سمے وار بلاگ سمے وار- راہ نمائی کراچی مہاجرقوم ہندوستان

ہماری کالونی ’جوڑیا بازار‘ کیوں بن رہی ہے؟

سمے وار (تحریر: رضوان طاہر مبین)
پچھلے ہفتے کئی برس کے بعد ’تیسری لائن‘ کی طرف جانا ہوا، پوری کالونی بدل جانے کے باوجود اِس گلی میں اب بھی کچھ اپنے پرانے محلے کی مہک محسوس ہوئی۔ سب سے بڑھ کر جو چیز دکھائی دی، وہ یہاں کا سکون تھا۔ شاید ہمیں اب بازار کے شور شرابے کی عادت ہوگئی تھی، تبھی صبح کے ’سوفتے‘ کا وقت یہاں بہت بھلا معلوم ہورہا تھا، الا ماشااللہ ہی کوئی آتا جاتا دکھائی دیتا۔ ظاہر ہے، یہ اندر کی ایک بند گلی ہے، اس وجہ سے یہاں صرف متعلقہ فرد ہی آئے یا جائے گا۔
ہم جب ’بے فضول‘ میں اس گلی میں چلے ہی آئے، تو جی چاہا کہ دائیں طرف اندر کی ’دو شاخا‘ ہو جانے والی پتلی گلی میں بھی جھانک ہی لیں۔ شاید زندگی میں دوسری یا تیسری بار ہی یہاں اندر تک آنا ہوا تھا۔ چوتھی لائن کے ’چھتہ جنت‘ کے پیچھے تک کو نکلتی ہوئی یہ بند گلی ایک جانب ریس کورس کی دیوار کو لگ جاتی ہے۔
’تیسری لائن‘ ہماری کالونی کی ابتدائی تین طویل ترین گلیوں میں سے ایک ہے۔ اگرچہ اس کی قامت پہلی اور دوسری لائن سے بہ تدریج کمتی ہے، تاہم اندر سے کوئی اور راستہ نہ نکلنے کے سبب یہ اب بھی اپنی پڑوس میں دوسری لائن جیسی ہی شانت ہے۔ ’پہلی لائن‘ البتہ اب نئی بلڈنگوں کے نیچے آر پار ’پارکنگ‘ کی وجہ سے اب پہلے جیسی نہیں رہی، کیوں کہ اس کے اندر اب برابر کی ’زیرو لائن‘ دخیل ہوگئی ہے۔ ہرچند کہ اکثر بلڈنگوں نے آر جار کے واسطے یہ پارکنگ کے راستے بند رکھے ہیں، لیکن اس کے باوجود بھی یہ گلی اب ویسی نہیں۔
اگرچہ ہم ’چھٹی لائن‘ میں رہے، لیکن ٹیوشن پڑھنے اور اپنے ہم جماعتوں کے گھر یہاں ہونے کی بنا پر اکثر تیسری لائن میں آنا جانا لگا رہتا تھا، اس لیے ہمارے بچپن کی بہت سی یادیں اس گلی سے بھی وابستہ ہیں۔ اس گلی سے گزر کر ایسا لگا کہ مانا اب ’کالونی‘ ہم نے بہت برباد کر دی ہے، لیکن اس کے باوجود اب بھی بربادی اتنی نہیں ہوئی۔ شاید کوئی تحریک اٹھے، یا ہمارے اندر پچھلے کئی برسوں سے مرا ہوا احساسِ ذمہ داری اور غیرت مندی جاگ جائے اور ہم کچھ نہ بھی کریں تو ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہی ہاتھ ڈال لیں تو کسی کی مجال نہیں ہے کہ ہمارے اِس آبائی محلے کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھ لے۔ یہ ہم 2026ءکی بدترین مایوسی میں بھی بڑی ذمہ داری اور یقین کے ساتھ کہہ رہے ہیں۔
کچھ ہی دن پہلے ’چھٹی لائن‘ میں برابر، برابر کے تین پرانے گھر توڑ کر بلند وبالا عمارتوں کی تیاری ہوئی اور جب اس کے نچلی منزل پر شٹر نصب ہوئے تو ’واٹس ایپ‘ گروپوں میں ایک بار پھر یہ بات اُٹھی کہ ”دیکھیے، ہمارے محلے کو جوڑیا بازار بنایا جا رہا ہے!“
کتنی دیر کر دی ہم نے یہ بات کرنے میں!
اور اب بھی یہ صرف بات برائے بات ہی رہ جائے گی۔ ہم اپنے پڑوسی محلے کی طرح اٹھ کھڑے ہونے کے بالکل بھی موڈ میں نہیں ہیں۔ کراچی والے یوں بھی اس وقت انتہا کے بے حس چل رہے ہیں، اور پھر ہم تو کراچی والے ہونے کے ساتھ ساتھ ہیں بھی ’سوداگران‘۔ سو یہ المیہ ہے کہ ’قائد اعظم‘ کے سوا کوئی چیز ہمیں کم ہی ہلا جلا پاتی ہے۔ ہم کراچی والوں میں بھی کئی درجے آگے کے ہی غافل نکلے ہیں۔ یہ جو ’چھٹی لائن‘ میں گلی کے اندر شٹر لگائے گئے ہیں۔ یہ روڈ سے چوتھا اور پانچواں پلاٹ ہے۔ اس کے برابر تک پلاٹ کا تجارتی استعمال بہت پہلے شروع ہو چکا ہے۔ جب برابر تک دکان کھلی ہوئی ہو، تو پھر اس کے برابر والا بھی تو اناج ہی کھاتا ہے اور تعمیرات کر ہی روپیے کے لیے رہا ہے، سو اِسے بھی مکان سے زیادہ دکان بنانے میں مال دکھائی دیا، جو اس وقت ہماری سب سے بڑی اور اہم ترین منزل ہے، سو پھر یہ تو ہوگا ہی!
سوال تو یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہماری کالونی میں بڑھتی ہوئی دکانوں اور رہائشی جگہوں کو تجارتی بنیادوں پر استعمال کرنے کے خلاف ہم نے کب بات کی؟
آج جس جگہ کے حوالے سے یہ بات کی جا رہی ہے۔ اِدھر ڈاکٹر کمال کے کلینک والے پلاٹ کی تعمیر کم ازکم 30 سال پہلے کی ہے۔ جب یہاں ایک بادام کے پیڑ والے گھر کو توڑ کر یہ بلڈنگ بنائی گئی تھی، تو نیچے گھر بنانے کے بہ جائے دکانیں بنا دی گئیں۔ حالاں کہ سامنے امینیہ اسکول تھا اور اس کے ساتھ کہیں بھی دکانیں نہ تھیِں، تب کسی نے کوئی اعتراض کیوں نہیں کیا؟؟
یہ وہ زمانہ تھا کہ جب ڈاکٹر کمال کے سامنے والے چھٹی لائن کے نکڑ والی تین منزلہ عمارت میں بھی گھر تھا، اور وہاں چھوٹے بچوں کا مدرسہ قائم تھا۔ (جہاں اب اے ون کچوری کھل گئی ہے) روڈ پر اس کے سامنے بھائی وقار کے پلاٹ پر بھی ایک گھر ہی بنا ہوا تھا۔ صرف چھوٹی مسجد کے سامنے پانچویں لائن میں بھائی چُنو کی دکان کے ساتھ کچھ دکانیں ضرور تھیں۔ اس سے آگے دکانوں کی داغ بیل چھٹی لائن کی ڈاکٹر کمال والی اسی بلڈنگ (صغریٰ منزل) کے ذریعے ڈالی گئی اور اس کی بیش تر دکانیں ایک عرصے تک خالی بھی پڑی رہیں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ بگاڑ تو اب برسوں کا نہیں بلکہ کئی عشروں کا ہو چکا ہے۔ اتنے عرصے تک ہم کہاں سوتے رہے؟
ہم اگر اب تھوڑی بہت لایعنی ’چیں چیں‘ کرنے کے لائق ہوئے بھی ہیں تو تب کہ جب کالونی میں تباہ ہونے کو کچھ بھی باقی نہیں رہا۔ آئیے ذرا پہلی لائن سے شروع کرتے ہیں۔ یاد کر کے بتائیے کہ بھائی سعید ’بی ڈی‘ والے حصے میں پہلی آر پار مارکیٹ کب اور کون سی بنی؟ بڑی مسجد کے سامنے والی جہاں ویڈیو گیم کی دکانیں کھلی تھیں، وقاص سینٹر یا بھائی سمیع ریڈیو والوں کی؟ یا پھر ’جنت ٹیرس‘؟
یہ ساری بالکل ابتدائی وارداتیں تھیں، جو کالونی کے منظم بازار کو باقاعدہ اس کی رہائشی گلیوں میں گھسانے کی شروعات ثابت ہوئیں۔ یہ تینوں یا چاروں مارکیٹیں کوئی 40 سال پہلے تک کے واقعات ہیں۔ اس کے بعد 25 تیس سال پہلے ’عیسیٰ سینٹر‘ کی آر پار مارکیٹ نے اس علاقے کو ’چار چاند‘ لگا دیے۔ پھر اس کے دو چار برس بعد اس کے سامنے دوسری اور تیسری لائن کی تھری کارنر کی بلڈنگ بنی تو اس میں بھی نیچے دکانیں بنا دی گئیں۔
کیا کسی نے تشویش ظاہر کی؟ کسی نے آواز اٹھائی؟ یاد کر کے بتائیے اور ہماری معلومات میں ضرور اضافہ کیجیے!
دوسری لائن میں شاید بھائی احمد کچوری والوں کی دکان ذرا روڈ اسے ایک پلاٹ اندر کو دیکھی۔ اس کے بعد اس کے برابر اور اس کے سامنے بھی دکانیں کھل گئیں۔ یہ فقط حالیہ کچھ برسوں کی باتیں ہیں، دوسری طرف غالباً دوسری اور تیسری لائن میں ’حسن آرکیڈ‘ بنی تو اس کے نیچے گھر تھے، اس کے بعد دیواریں پھوڑ کر یہاں بھی دکانیں بنا دی گئیں۔ آگے بڑھیے تو تیسری اور چوتھی لائن ’لال مدرسے‘ کی وجہ سے ’محفوظ‘ ہے، اب مدرسے والی جگہ پر ڈاکٹر نرگس شمسی کا کلینک ہے۔
دکانوں کا ایک سیلاب پہلی لائن سے آرہا تھا، تو دوسری طرف گلی نمبر سات میں ’زری ہاﺅس‘ ایک دکان کے طور پر کھلی تھی، اس کے بعد ہم نے تو پوری گلی ہی خواتین کا بازار بہ نام ’زری ہاﺅس‘ دیکھا، جس پر عید، بقرعید کے تہوار پر منظمہ کمیٹی کی طرف سے چھٹی لائن میں نقی منزل، آٹھویں لائن میں باٹا والوں کی بلڈنگ، ساتویں لائن میں سلطان چپاتی والوں کی طرف اور دوسری طرف جلال بیکری کے سامنے کی طرف قناتیں لگا دی جاتی تھیں، ایک پولیس کا سپاہی ہر راستے پر بیٹھا ہوا ہوتا اور لکھا ہوا ہوتا تھا کہ غیر متعلقہ مرد حضرات کا داخلہ ممنوع ہے، یہ مشق کب تک جاری رہی، اب یاد نہیں، لیکن جب یہاں نئی بلڈنگیں بنیں تو شاید انبالہ اسٹور کے سامنے والی ’جمیل مارکیٹ‘ اور اس کے برابر یہ ایک دو مارکٹیں تھیں، جو سب سے پہلے چھٹی لائن کی طرف آر پار مارکیٹ بنیں، پھر تو ’زری ہاﺅس‘ سے چھٹی کیا، چھٹی سے پانچویں لائن تک اور اب تک پانچویں سے چوتھی لائن تک آر پار مارکیٹیں بن گئی ہیں۔ یہاں پانچویں لائن میں عبدالستار کباب والی کونے کی بلڈنگ کے نیچے روڈ اور گلی نمبر چار کی طرف ’ٹی‘ کی شکل میں ’نیو زری ہاﺅس‘ تقریباً 27 سال پہلے بنی۔
سو اس طرح کچھ دکانیں چوتھی اور پانچویں لائن کے اسی تھری کارنر پلاٹ پر قائم تھیں، ان کی ’قسمت بھی جاگی‘ اور لال مدرسے کے سامنے کی طرح اس کے سامنے ’مبارک منزل‘ کے گھر کی دیوار بھی پھوڑ دی گئی اور اس کے برابر چوتھی لائن میں بھائی اقبال بالی کے گیراج کے شٹر بھی دکانیں بن گئے۔ یوں نشتر روڈ سے لے کر چھوٹی مسجد والے روڈ تک کی یہ آٹھوں گلیاں آج 90 فی صد کمرشل ہو چکی ہیں۔ اور یہ سب تین عشروں میں بہ تدریج ہوا ہے، راتوں رات کچھ بھی نہیں ہوا۔ ہم میں سے کتنی بار کسی نے بھی کوئی ایک ٹوٹی پھوٹی سی درخواست، کوئی ایک تحریر، ایک آدھ بیان، کوئی فکر، کوئی تشویش، ایک بینر، ایک پوسٹر، ایک میٹنگ، ایک نعرہ بھی اس کے خلاف کہیں پر لگایا ہو، تو ہمیں ضرور بالضرور آگاہ فرمائیے۔
مزید اب ’بجلی گھر‘ کی طرف سے اندر کی طرف آئیے تو یہاں سے بھی اب دکانیں بائیں ہاتھ کی طرف کے بچے کچھے گھروں کو نگلنا شروع ہو چکی ہیں۔ پہلی لائن میں بھی ایک سے دو پلاٹ کمرشل ہو چکے ہیں، دوسری اور تیسری کے بعد چوتھی اور پانچویں لائن تک بھی یہی حالت بن گئی ہے اور چھٹی لائن کا کیا ذکر کیجیے کہ ہم نے سارا قصہ ہی وہیں سے شروع کیا تھا۔ اب اگر ہم جاگے تو پھر کیا جاگے؟
پہلی لائن، زیرو لائن کے زور پر ہے، ا س کے نیچے کی بیش تر بلڈنگوں کے نیچے گاڑیاں کھڑی کرنے کی جگہ بن چکی ہے۔ دوسری لائن کی تازہ صورت حال نہیں پتا، شاید وہاں بھی ایک آدھ جگہ آر پار پارکنگ ہوگئی تو اس سے رہائشی سکون ضرور متاثر ہوگا۔ بس ایک تیسری لائن ابھی دیکھی ہے، یہ پوری گلی الحمدللہ اب بھی قدرے پرسکون لگتی ہے۔ (لگ بھگ اس جیسی صورت حال اس کے برابر والی دوسری اور کسی حد تک پہلی لائن میں بھی ہوگی) چوتھی اور پانچویں لائن تو آکر اور چھوٹی ہی ہو جاتی ہیں اور چھٹی ساتویں لائن تک آکر یہ بہت پتلی پتلی سے گلیاں رہ جاتی ہیں اور اس سمت آٹھویں لائن میں کوئی گلی باقی نہیں رہتی۔
یہ ابتدائی کالونی کی باقاعدہ آباد کی گئی سات، آٹھ گلیوں کا حال ہے، اس کے بعد کی گلیوں کی بے ترتیبی ہی بتاتی ہے کہ یہ سلسلہ ازخود پھیلتا پہ چلا گیا اور اب دکانوں کو دیکھیے تو ’چھوٹی مسجد‘ والا روڈ تو اب فضل کریم مسجد تک کے تنگ راستے تک دکانوں کی ’بہار‘ دکھا رہا ہے۔ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ ایک بار دکان بن گئی تو پھر کیا وہ دوبارہ گھر بن سکتا ہے؟ یہ تو بالکل ہی نا ممکن بات ہے۔ صرف اسے تیس، چالیس سال پہلے تک روکا جا سکتا تھا، شاید بیس سال پہلے تک بھی ہم ’انسان کے بچے‘ بن جاتے تو محلے کی حالت کچھ نہ کچھ بہتر رہ سکتی تھی۔ بہتر ان معنوں میں کہ بھلے بلڈنگیں بن جاتیں، لیکن کم سے کم گلیاں تو گلیاں رہتیں، ایسے بے ہنگم بازار تو نہ بنتے! کوئی ضابطہ بنتا کہ گلی میں دکانیں نہیں بنیں گی۔ گھروں کے بیچ میں اگر پلاٹ کا کمرشل استعمال ہوگا تو کیسے ہوگا وغیرہ۔ کیوں کہ ہمیں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ بازار رہنے کی جگہ نہیں ہوتی، یہ کراچی ہے، یہاں کھارادر، میٹھادر، پاکستان چوک اور جامع کلاتھ سے لے کر صدر تک کی شناخت رہائشی علاقے کی نہیں بلکہ ایک بازار کی ہے۔ یہ کالونی ہمارے پرکھوں کی بہت سخت محنت سے بسائی ہوئی ایک تاریخی بستی ہے۔ ہم میں سے ہر کوئی اس کی یادوں کے حوالے سے آج بھی گھنٹوں کی لفاظی ضرور کر سکتا ہے، لیکن عملاً ہم نے اس علاقے کو کس طرح اپنے ہاتھوں سے آگ لگائی ہے۔ شاید اس کی مثال مشکل ہی سے ملے۔ ہمیں بس روپیا چاہیے تھا، سو وہ مل ہی گیا ہم کو۔ پھر کوئی اجتماعی صورت نہ ہو تو کوئی مکین مزاحمت کیسے کر سکتا ہے، اگر علاقے میں تعمیرات اور خریدوفرخت کا کوئی مشترکہ لائحہ عمل ہوتا ، جو کہ پہلے کچھ نہ کچھ رہا تو رہا لیکن بعد میں تو شاید سوچا ہی نہ جا سکا، یا سوچنے والے ہی نہ رہے۔
سو اب اِسے ’جوڑیا بازار‘ کہیے یا میٹھا در۔ ہم اور آپ نے بڑی ’محنت‘ سے اِسے برباد کر ہی دیا ہے اور جو بربادی باقی رہ گئی ہے وہ اب بھی کرتے جا رہے ہیں۔ ہم سب اپنے کردار پر پردہ ڈال کر ”بلڈر مافیا“ کا راگ الاپیں گے، کوئی اسٹیٹ ایجنٹوں کے نام پر سخت بات کر دے گا۔ ارے بھائی، کوئی سر پر بندوق رکھ کر تو تمھارے گھروں کے سودے نہیں کیے تھے، تم نے پیسے پکڑے تو سودا ہوا۔ سو یہ لوگ تو تھے ہی دھندے کے آدمی۔ آج اگر کوئی سیاہ جتھے تمھارے گریبانوں تک پہنچے، جہاں راتوں کو بھی تحفظ ہوتا تھا، خراب حالت میں بھی کرفیو کا اطلاق نہیں ہوتا تھا، جہاں محلہ ہمارے گھر کے دالان کی طرح وسیع اور اپنا ہوتا تھا وہاں آج دن دھاڑے بدمعاشیاں اور لوٹا ماریاں ہو رہی ہیں۔ ہمارے اپنے گھروں پر قبضے ہو رہے ہیں، ہمارے سروں کے او پر دھڑلے سے گولیاں چل رہی ہیں، ہمارا جان ومال اور عزتیں محفوظ نہیں ہیں۔ غیر مقامی مافیا اگر آج بھی غنڈا گردی کر رہا ہے تو بے فکر رہیے، انھیں ہمارے یار لوگوں کا ہی پورا تعاون ہے۔ سب اپنوں کا کیا دھرا ہے، آج کی تاریخ میں بھی کوئی ہمارا دروازہ توڑ رہا ہے، تو اس کے پیچھے شکلیں کسی کی بھی ہوں، لیکن ان کے ہاتھ ہم نے ہی مضبوط کیے ہیں۔ یہ سب آج بھی ہماری غفلت اور ہماری مدد کے ساتھ جاری ہے۔ جو یہاں رہ رہا ہے اور جو یہاں رہ کر جا چکا ہے۔ سب نے اپنا اپنا حصہ بہ قدر جثہ وصول کیا۔ کسی نے کم کسی نے زیادہ۔ سب سے مزے کی بات ہے کہ کوئی تبلیغی دِکھتا ہے، کسی کی پیشانی پر نماز کا نشان بہت اجلا ہے، کوئی حاجی کہلاتا ہے اور کوئی فلاحی پہچانا جاتا ہے اور کوئی سیاسی خادم، کوئی عوامی سماجی کارکن اور کوئی ہمارے نام نہاد راہ بر کی شناخت رکھتا ہے۔
میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں
تمام ”محلے“ نے پہنے ہوئے ہیں داستانے
۔
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Verified by MonsterInsights