سمے وار (مانیٹرنگ ڈیسک)
جمعیت علمائے ہند کے امیر مولانا ارشد مدنی نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے مسلمانوں کے پیروں کے نیچے سے زمین کھینچ لی ہے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے، جمعیت علمائے ہند کو ہندوستانی مسلمانوں کے حوالے سے خاصی اہمیت حاصل ہے، اور اسے ماضی میں سرکار نواز ہونے کی بنا پر تنقید کا نشانہ بھی بنایا جاتا رہا ہے، لیکن اس بار لگتا ہے کہ ان کے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہوگیا اور مولانا ارشد مدنی بھی برس پڑے۔ ان کا کہنا تھا کہ لندن اور نیویارک میں تو مسلمان میئر بن سکتا ہے، لیکن ہندوستان میں اب مسلمان وائس چانسلر بھی نہیں بن سکتا۔
اس حوالے سے سوشل میڈیا پر طرح طرح کے تبصرے سامنے آرہے ہیں، کہیں پر لوگ قائداعظم کا شکریہ ادا کر رہے ہیں تو کہیں پاکستان کی مخالفت کرنے والے مولانا ابولکلام آزاد کے حوالے دیے جا رہے ہیں کہ انھوں نے کہا تھا بٹ کر مسلمان کمزور ہوجائے گا۔ جب کہ بہت سے سوشل میڈیا صارفین نے اس پر پوسٹ کرنے پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں اپنے ملک پر دھیان دینا چاہیے، جب کہ اس کے جواب میں انھیں کہا جارہا ہے کہ کیا ہم اپنے پڑوسی سے بھی بے خبر ہوجائیں، جو کچھ عرصے پہلے ہماری طرح ایک ہی ریاست کے رہنے والے تھے۔ بہت سوں نے کہا کہ وہ ہمارے پرکھوں ہی سے تعلق رکھتے ہیں۔ ہم کیسے انھیں پرایا کہہ کر ان سے بے خبر ہوسکتے ہیں۔
الغرض سوشل میڈیا پر موجود تمام ہی لوگوں نے ارشد مدنی کے بیان کو اپنے اپنے انداز ہی میں پیش کرنے کی کوشش کی۔ ہندوستانی مسلمانوں کا کہنا تھا کہ مولانا کی یادداشت کمزورہے، ہندوستان میں کئی وائس چانسلر اور صدر بھی مسلمان بن چکے ہیں۔ جب کہ اس کے جواب میں یہ کہا گیا کہ مولانا مدنی شاید آج کے ہندوستان کی بات کر رہے ہیں۔ بہت سے صارفین ہندوستانی مسلمانوں پر تبرا کرنے لگے، ان کا خیال تھا کہ وہاں رہنا ہی غلط تھا، انھیں پاکستان آنا چاہیے تھا، جس کا جواب دیا گیا کہ یہاں تو آنے ہی نہیں دیا گیا، بہت سے مہاجروں کو واپس بھی بھیجا گیا اور ویسے بھی ہندوستان بھر کے مسلمانوں سے ووٹ ضرور لیے گئے تھے لیکن سب کے لیے تو یہ پاکستان تھا بھی نہیں۔ ایسے میں ہم کیسے وہاں کے مسلمانوں کو کوئی طعنہ دے سکتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ اس المیے کی وجہ جاننے کی کوشش کریں کہ آدھے مسلمان ان سے الگ ہو کر اپنے دو الگ ملک پاکستان اور بنگلا دیش بنا کر رہ رہے ہیں جس کے نتیجے میں وہاں کے مسلمان اور چھوٹی اقلیت ہوگئے۔ کیا اس کی وجہ یہ تو نہیں۔ دوسری طرف ملک تقسیم ہونے سے انتہا پسندوں کی شدت بھی کئی گنا بڑھ گئی۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ ہندوستان کے مسلمان ان کے اس بیان اور موقف پر کیا تبدیلی محسوس کرتے ہیں، کیوں کہ بہت سے مسلمان مصلحت کا شکار ہو کر اس پر چپ رہنے میں ہی عافیت جانتے ہیں، انھیں نہیں پتا ہوتا کہ کب انھیں پاکستانی قرار دے کر ملک سے چلے جانے کا کہہ دیا جائے۔
Categories
ہندوستانی مسلمانوں پر مولانا مدنی کے بیان پر بحث شروع
