سمے وار (تحریر: ڈاکٹر شاہد ناصر)
مقبوضہ کراچی میں کس کس چیز کا رونا روئیں ہر چیز پر باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت اور بہت خوب صورتی اور خاموشی سے قبضہ ہوتا چلا گیا ہے اور سب سے مزے کی بات ہے کہ خود جو اس شہر کے اصل وارث ہیں وہی اس سے آگاہ نہیں کہ ان کے پریس کلب، وکلا بار، کراچی چیمبر آف کامرس سے لے کر کراچی آرٹس کونسل تک پر بدترین غیر مقامی قبضہ ہوچکا ہے۔”
احمد شاہ کی فن کاری اور کاری گری کے نتیجے میں آرٹس کونسل میں جس طریقے سے انور مقصود سے منور سعید اور بجیا سے حسینہ معین تک کو اپنی مٹھی میں لے کر چلے ہیں اس پر یقیناً پی ایچ ڈی ہونی چاہیے۔ بہرحال اس کی قسمت اچھی ہے کہ کراچی والے ویسے ہی بے حس نکلے، پروپیگنڈے وار اور شہر کی تیز رفتاری میں سرمایہ داری کے ایک پرزے بن کر رہ گئے ہیں۔ انھیں پتا نہیں کہ ان کی سیاست کی بوری بند لاش اب دس برس بعد تعفن دینے لگی ہے۔
دنیا قیدی 804 کی نوٹنکیوں پر اچھل رہی ہے، اس کراچی والے کو بھی اس کا درد ہے، اپنے کھنڈر اور وڈیروں کے شکنجے میں جکڑۓ شہر کی خبر نہیں ہے۔ تازہ احوال یہ ہے کہ عالمی ثقافتی میلے کے نام پر احمد شاہ نے حس روایت ساری دنیا کی ثقافت کو خوب نچوایا پٹوایا اور جس شہر میں یہ آرٹس کونسل ہے ان کی ثقافت کے لیے ہمیشہ کی طرح خانہ خالی رہا۔ خالی کیوں نہ رہے اس شہر میں کوئی غیرت مند باقی نہیں جو اس پر سوال کرسکے۔ کسی سے کہا جائے تو بے شرمی سے وہ باتیں بناتا ہے کہ دنیا کا کلچر دکھا رہے ہیں اس میں مہاجر ثقافت کہاں سے آئے گی؟
ایسا نہیں تھا احمد شاہ نے ہمیشہ کی طرح پاکستان کی ہرثقافت موجود ہے، گذشتہ روز بھی ایسی ہی سرگرمی سامنے آئی جہاں پاکستان دکھا کر آپ نے صوبائی ثقافتوں کا ڈھنڈورا پیٹ دیا گیا۔ اور یہ شہر کراچی مر گیا ہے کسی نے ایک لفظ کہیں اس پر نہیں کہا کہ اس شہر کی سیاست تو اسٹیبلشمنٹ نے ختم کردی، اس شہر میں غیر مقامی تسلط اب اتنا زیادہ ہوگیا ہے کہ ان کے قبضہ کیے گئے اداروں میں ان کی ثقافت کا نام ونشان کسی حرف غلط کی طرح مٹا دیا جائے گا!!
ہاں یہ ہوگا کیوں کہ اب کوئی محسن بھوپالی کوئی عارف شفیق کوئی رئیس امروہوی زندہ نہیں۔ صحافیوں میں بھی بھانت بھانت کی بولیاں بولنے والے مہاجر ہیں، لیکن وہ اپنی شناخت اور برابری کے حق کی صدا بننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
سو بے غیر کراچی والوں بڑی معذرت کے ساتھ تم بہت بے شرم ہو، تمھی نے اپنے شہر کی بربادی کا تماشا دیکھا۔ تمھارے شہر تمھارے گھروں پر قبضے ہو رہے ہیں، ایوب خان نامی کسی حاکم نے کہا تھا آگے سمندر ہے۔ اب اسی سمندر میں تمھیں اور تمھاری ثقافت کو پھینک دیا گیا ہے۔
احمد شاہ!
مزے کرو رئیس امروہوی مر چکا ہے۔ کوئی محسن بھوپالی اور کوئی عارف شفیق زندہ نہیں جو اس شہر کے لوگوں کا نوحہ لکھنا تو درکنار محسوس بھی کرسکتا۔ ان گنت نامی گرامی صحافی تمھیں دوست کہہ کر تمھاری گود میں ہیں اور بے شمار قلم کاروں کا قلم تمھاری جیب میں ہے
اس شہر کے اکثر کلا کاروں کی کلا ہر رات کو تمھاری چوکھٹ پر ناچ ناچ کر گھنگرو توڑ دیتی ہے
تم خوش نصیب ہو احمد شاہ تمھارے قبلے کو ٹھیک کرنے کو کوئی بھی باقی نہیں رہا۔ اثر ڈالنے والے سب تمھارے حلقے میں ہیں یا پھر کہیں بھی نہیں
تمھارے نصیب اچھے ہیں تمھارے لیے اسٹیبلشمنٹ نے ایک مفتوحہ شہر تمھاری جھولی میں اٹھا کر پھینک دیا ہے۔ تم جو اس شہر میں پیدا نہیں ہوئے لیکن تم اس شہر میں زندگی جیے، لیکن کیوں اس کے وفادار بھی نہ بن سکے۔ افسوس ہے تم نے اس شہر والوں کی آواز بننے کے بہ جائے اپنی لسانی اور سیاسی تعصب کی بات کو آگے بڑھایا اور کیوں نہ بڑھائو تمھیں اب سمجھانے اور روکنے ٹوکنے والا کوئی بھی نہیں۔ تم سندھی پنجابی، بلوچ اور پشتو کشمیری سے لے کر یوگنڈا یوٹوپیا کے کلچر دکھائو
بس اس شہر کے کلچر کے لیے کبھی اپنا اسٹیج نہ دینا۔ یہاں تک کہ عالمی ثقافت میں بھی تاریخ کو دھکا دے کر دکھانا کہ یہ پاکستان کی ثقافت ہے کہ جس ثقافت کا تاریخ پاکستان اور تحریک پاکستان میں دور دور تک ذکر نہ تھا، وہ مہاجر ثقافت جس کی بنیاد پر پاکستان بنایا اسے بطور قومیت بھی ایک جگہ نہ دینا۔
مزے کیجیے کہ اب رئیس امروہوی زندہ نہیں کہ وہ کہہ دیتے کہ “ثقافت کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے!”
ارے یہ تو ثقافتی میلہ ہے تم نے تو اردو کانفرنس سے اردو نکال دی، تم تو سب کچھ کرسکتے ہو۔ تم بہت بڑے آدمی ہو۔
کاش تم سن سکتے، کاش تم جان سکتے، کاش تم کرسکتے، کاش تم سوچ سکتے کاش تم مان سکتے!
کاش تمھیں ایسے لوگ ملے ہوتے جنھوں نے تعمیری تنقید کی ہوتی، کاش وہ اسٹیج حاصل کرنے اور اپنی شہرت اور نمود و نمائش کے لیے تمھاری ٹانگیں ہن کھیچنتے تو تمھیں پتا ہوتا کہ تنقید کرنے کا مطلب دل دُکھنا ہوتا ہے دل دکھانا نہیں۔
کوئی نکتہ چینی کرتا ہے تو اس کا دل صاف بھی تو ہو سکتا ہے۔ وہ اس کے بدلے میں صرف اصلاح چاہتا ہے۔
وہ صرف اپنے شہر پر اپنے ادارے پر دنیا جہاں کی ثقافت کے ساتھ اپنا حق بھی چاپتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ ہر قوم کی طرح مہاجر قوم کو بھی کھل کر برابر کی نمائندگی ملے۔ مہاجر قوم کو یہ احساس نہ ہو کہ اس شہر کی طرح ان کے شہر کی آرٹس کونسل بھی اب کسی غیر کے پاس ہے۔ اس شہر نے احمد شاہ کو مان دیا ہے۔ لیکن جواب میں احمد شاہ اس شہر والوں کے دل کی آواز کیوں نہیں بن رہا۔
تلخی و ترشی کی معافی، جذبات کی رو میں بہہ گیا، لیکن رہا نہیں جاتا۔ خدا کرے کسی کے دل میں اتر جائے میری بات۔
.
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)
Categories
احمد شاہ مزے کرو! رئیس امروہوی مرچکا ہے!
