Categories
Education Interesting Facts Tahreem Javed انکشاف تحریم جاوید تعلیم تہذیب وثقافت جماعت اسلامی خواتین دل چسپ ذرایع اِبلاغ سمے وار بلاگ قومی سیاست

حافظ نعیم نے خواتین کے روزگار کمانے کے حوالے سے کیا کہہ ڈالا؟

سمے وار (تحریر: تحریم جاوید)
مینار پاکستان کے تاریخی میدان میں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے خواتین کے حلقے سے خطاب کرتے ہوئے یہ کہہ کر مقبول بیانیے کے متوازی بات کرنے کی جرات کی۔
انھوں نے کہا کہ اگر اسلامی نظام ہو تو خواتین کو کام کرنے کے لیے باہر نکلنے کی ضرورت ہی نہ پڑے، لیکن بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ اسلامی نہیں، اور اس کی وجہ سے اخراجات کا توازن خراب ہے۔ اس وجہ سے خواتین کو بھی مختلف شعبوں میں کام کرکے گھر کے اخراجات پورے کرنے پڑتے ہیں۔
جماعت اسلامی میں پہلی بار مرکزی امیر قدرے نوجوان اور جدید انداز کے رنگ ڈھنگ والے آئے ہیں اور جماعت اسلامی نے بھی بہت سی چیزیں وقت کے تقاضے کے تحت بدلیں، جس میں سرفہرست ترانوں میں موسیقی کی شروعات ہے، ایسے میں لگتا تھا کہ جماعت اسلامی بہ تدریج اپنے قدامت پسند یا روایت پسند چہرے سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ مگر حافظ نعیم الرحمن نے اس موقع پر خوب صورتی سے ایک کڑا سچ مجمعے کے سامنے کہنے کی ہمت پیدا کرلی، ورنہ سرمایہ داری کی اولین ضرورت تو یہی ہے کہ پورے سماج ہی کو دو وقت کی روٹی کمانے کی دوڑ میں لگا دیا جائے۔ لوگوں کو آپس میں ملنے یا زندگی کا لطف لینے کا وقت نہ ملے۔ عورت جو ایک ماں بھی ہے وہ اپنا وقت کمپنی کو دے کر روپیا لے اور اپنے بچے کی تربیت کسی اور کو دے جائے اور اس تربیت کے واسطے اسے بھی پیسے دے۔ ایسے ہی گھر کے کاموں کی خدمت کسی اور سے لے اور اس کے لیے خود گھر سے باہر جا کر کام کرے۔ اس جمع تفریق میں سے ہاتھ میں کیا آیا؟
عورت کو آزادی کے نام پر خود گھر سے باہر نکال کر کاموں میں لگا دیا۔ سرمایہ داری کی جے جے ہوگئی۔ اسے سستی مزدور مل گئی۔ گاہک کو لبھانے کے لیے عورت کا چہرہ بھی مل گیا، یہ کوئی ٹھرک نہیں انسانی فطرت ہے۔ سائنس بھی یہی کہتی ہے، مخالف صنف کی کشش ہوتی ہے، اب یہاں کوئی مجھے دقیانوسی یا مولویت کے طعنے نہ دے۔ کوئی اس پر بات کیوں نہیں کرتا کہ یہ کیسا جنجال ہے، عورت کی آزادی گھر سے باہر نکال کر دکان پر بٹھانے، دفتر کی زینت بنانے میں ہے؟
کیوں ایک مرد کو اتنی تنخواہ نہیں ملتی کہ وہ گھر کے چار افراد کے اخراجات پورے کرلے؟
پھر خواتین کے معاش کی جدوجہد میں اترنے سے مرد بے روزگار ہو رہے ہیں، سوچیے تو کیسے توازن بگڑ رہا ہے، کیوں کہ 50 ہزار کے بہ جائے 30 ہزار میں ایک خاتون کام کرنے کے لیے تیار ہو رہی ہے، یا اس سے زیادہ کام لیا جانا ممکن ہو رہا ہے تو مردوں کا روزگار مارا جا رہا ہے، جو ان کی بنیادی ذمہ داری ہے، اس پر کوئی بات کیوں نہیں کرتا۔
میں جماعت اسلامی کی کارکن ہوں نہ کبھی کوئی خاص حامی رہی، لیکن اصولی طور پر میری طرف سے حافظ نعیم کو مبارک باد کہ انھوں نے ایک غیر مقبول بیانیے کو پیش کیا۔ یہی تحریک اور یہی نظریاتی جدوجہد کا تقاضا ہوتا ہے، اسے سرمایہ داری اور منہ زور میڈیا کے سامنے اپنی غیر مقبول بات کرنی ہوتی ہے جو بہت سارے لوگوں کو سمجھ میں آتی ہے اور نہ پسند۔
۔
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Verified by MonsterInsights