Categories
Exclusive Interesting Facts Karachi KU MQM PPP انکشاف پیپلز پارٹی تہذیب وثقافت جامعہ کراچی دل چسپ سمے وار بلاگ سندھ سیاست قومی سیاست کراچی مہاجر صوبہ مہاجرقوم

الطاف حسین انتخابی سیاست کے خلاف کیوں تھے؟

سمے وار (تحریر: نوید صدیقی ہادی)
ایک مہاجر کے سوالات اور ان کا جواب ہے۔ اگر کچھ واقعات کی ترتیب میں غلطی ہوگئی ہو، یعنی آگے پیچھے ہوگئے ہوں تو پیشگی معزرت قبول فرمائیں۔ آپ کا پہلا سوال جائز دوسرا ناجائز لیکن سوال تو سوال ہوتا ہے۔ اور جواب کا حق دار بھی ہوتا ہے۔ چلیں تو شروع کرتے ہیں۔
پہلا سوال مہاجر کا لفظ ہٹا کر متحدہ کیوں بنائی؟
جواب:- اسے سمجھنے کیلئے پہلے اپنے مقام کو جاننا پڑے گا کہ ہم کہاں کھڑے تھے؟ یعنی ہمارا ابتدائی بیانیہ کیا تھا؟ مطلب منشور کیا تھا؟
نیز ہم نے اپنے منشور سے ہٹ کر انتخابات میں حصہ کیوں لیا تھا؟
کیا آپ جانتے ہیں کہ ایم کیو ایم کے منشور میں لکھا تھا کہ ہم یعنی تحریک، انتخابات کی سیاست نہیں کرے گی۔ اور اسی منشور کے تحت 1985 میں تحریک نے انتخابی ورک تو کیا، پر اس میں حصہ نہیں لیا تھا۔ بلکہ جہاں جہاں مہاجر نمائندے الیکشن میں کھڑے تھے، “خواہ وہ کسی بھی جماعت کے ٹکٹ ہولڈر ہوں” انہیں سپورٹ کیا تھا۔ اس کے بعد بھی ایم کیو ایم اپنے منشور پر عمل پیرا رہی۔
لیکن بلدیاتی الیکشن سے قبل ایم کیو ایم کو ایک سیاسی جماعت بنا دیا گیا۔ اس کی بنیادی وجہ اسوقت کی مرکزی کمیٹی کا متفقہ فیصلہ تھا کہ ہمیں جمہوری سیاست کرنا چاہیئے۔ جب کہ الطاف حُسین اپنے پہلے بیانیئے پر قائم تھے۔ اس بات پر قائد کا سخت اختلاف سامنے آیا۔ مگر فیصلہ اکثریت کی بیناد پر کیا گیا۔ یعنی انتخابی سیاست کے سہارے، جمہوری عمل کا حصہ بنکر منزل کی جانب سفر کا انتخاب کیا گیا تھا۔
مہاجر کی بنیاد پر 87 کے الیکشن سے پہلے” جن سیاست دانوں کو نگراں حکومت میں شامل کیا گیا تھا۔ انکی شمولیت و سیاسی وابستگی کے حوالے سے جنرل ضیاالحق نے ایک صحافی کے سوال کے جواب میں ( سوال تھا کہ آپ نے غیر سیاسی شخصیات کو نگراں حکومت میں شامل کیا ہے۔ ان میں مہاجروں کو شامل کرنے کی کوئی خاص وجہ؟ جسکے جواب میں ) ایک تاریخی جملہ کہا تھا کہ “مہاجر اس ملک کی پانچویں قومیت بن چُکے ہیں۔ اور میں ایک قوم کو اس جمہوری عمل سے باہر نہیں رکھ سکتا۔” اسکے بعد جنرل ضیا ایک فضائی حادثے میں مارے گئے۔
خیر آگے چلتے ہیں۔
(یہ یاد رہے کہ ایم کیو ایم اس سے پہلے بلدیاتی الیکشن میں بھرپور عوامی شرکت و کام یابی سے اپنی اہمیت و موجودگی کو ثابت کرچُکی تھی۔)
یہاں پہلے اس بات کو سمجھ لیں کہ یہ وہ پہلا موقع تھا، جب تحریک کا الطاف حُسین کی مخالفت کے باوجود ایک نیا منشور ترتیب دیا جا چُکا تھا۔ جس کی تیاری میں ڈاکٹر عمران فاروق، عظیم احمد طارق، احمد سلیم صدیقی، طارق جاوید، ایس ایم طارق وغیرہ شامل تھے۔
یاد رہے اس کمیٹی کا قائدِ تحریک الطاف حُسین بھائی نہ حصہ تھے اور نہ مشاورت کے عمل میں آپکا کوئی کردار تھا۔
منشور کی تیاری کے بعد متفقہ طور پر اسے تحریک کا منشور تسلیم کرلیا گیا۔ اور وہی منشور کچھ ترامیم کے بعد الیکشن کمیشن میں جمع کرواکر رجسٹر کروایا گیا۔ اور پھر الیکشن میں حصہ لیا گیا۔
سوال یہ ہے کہ اس پہلے یوٹرن کا ذمہ دار کون تھا؟
جی ہاں سب شامل تھے۔ لیکن سوال پھر وہی دوسرے انداز میں، اس کا مخالف کون تھا؟
جی ہاں صرف اکیلا الطاف حُسین۔
خیر مزید آگے بڑھتے ہیں۔ اس تحریکی سفر نے یہ بات ثابت کی جو الطاف حُسین نے اس منشور کے خلاف اپنے دلائل میں کہا تھا کہ! پاکستان کی سیاست میں ہم تمام تر مہاجروں کی نمائندگی حاصل کرنے کے باوجود مہاجر حقوق حاصل نہ کر پائینگے۔ جو کہ ثابت بھی ہوا۔
اسمبلی کی اکثریت کسی صورت مہاجروں کو حاصل نہ ہوسکی۔
تب پھر یہ بحث مرکزی کمیٹی میں دوبارہ شروع ہوئی اور اسکا حل یہ نکالا گیا کہ مہاجر قومی موومنٹ کو متحدہ قومی موومنٹ بنا دیا جائے۔ یہ بھی متفقہ طور پر طے کیا گیا تھا۔ اسی دوران عامر خان و آفاق احمد کا سلیم شہزاد سے زاتی نوعیت کا اختلاف پیدا ہوا اور یہ دونوں ملک سے باہر چلے گئے۔ اور اسکے یعنی متحدہ قومی موومنٹ کے اعلان سے قبل ہی تحریک کے خلاف 92 کا آپریشن شروع کر دیا گیا۔ عامر خان و آفاق احمد نے زاتی انا کی خاطر تحریک کی کمر میں وہ خنجر گھونپا کہ جس کے زخم سے آج تک خون رس رہا ہے۔ اس کی تفصیل میں جانا نہیں چاہتا۔ بس یوں سمجھ لیں کہ حالیہ ایک انٹرویو میں آفاق احمد نے تسلیم کیا ہے کہ ہم سے نادانی میں غلطی ہوئی، جس کی جناب نے قوم سے معافی بھی مانگی ہے۔ لہذا یہ بحث ہی ختم ہوجاتی ہے، کہ قصور وار کون تھا؟
آج جب آفاق احمد الطاف حُسین بھائی کو واپس مہاجر نظریعے کی طرف آنے کی دعوت دیتا ہے تو وہ اس لیئے کہ وہ جانتا ہے کہ! قائدِ تحریک تو خود اس سیاست کے قائل نہیں تھے۔
92 سے لیکر مشرف کے دور کے درمیان تک مہاجروں کی مُسلسل نٙسل کشی کا ذمہ دار کس کو قرار دیا جائے گا؟
خیر مشرف کو جب ضرورت محسوس ہوئی سیاسی چھتری کی تو اس نے مہاجر قیادت سے رابطہ کیا اور مہاجروں کو سیاسی آزادی دی۔
یہاں یہ بات زہن میں رہے کہ یہ سہولت مہاجروں کا حق سمجھ کر نہیں بلکہ اپنی ضرورت کیلئے مہاجروں کو استعمال کرنے کیلئے دیا گیا تھا۔
اسوقت مہاجروں کی پوزیشن وہی تھی جو 87 میں پیپلزپارٹی کی تھی۔ اور اسوقت مجبوراً بے نظیر نے قبول کی تھی۔ یعنی پارٹی نہایت کمزور ہوچکی تھی، اور مزید مزاحمت کی کوشش، پیپلز پارٹی کو صفحہِ ہستی سے مٹا سکتی تھی۔ لہذا بینظیر نے پارٹی بچانے کے لیے لولی لنگڑی حکومت قبول کرلی تھی۔
اسی طرح ایم کیو ایم کی حالت بھی کم و بیش ویسی ہی تھی۔ تو تحریک کو بچانے کے لیے مجبوراً مشرف فارمولا قبول کیا گیا تھا۔
اب یہ ذمہ داری تھی اس وقت کے ذمہ داران کی کہ تحریک کو مضبوط کرتے اور کارکنان کی نظریاتی بنیادوں کو واپس بحال کرتے مگر وہ کہتے ہیں نا کہ! اے بسا آرزو کے خاک شد
اب یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اس پورے عرصے میں تحریک تقریباً تمام ہی بنیادی ارکان سے محروم ہوچکی تھی۔ جسکی وجہ سے مفاد پرستوں کو موقع ملا اور جی بھائ جی بھائی کا کلچر پروان چڑھا۔ (جی بھائی جی بھائی کا مطلب تھا، سُنتے ضرور رہو مگر اپنے ایجنڈے پر عمل کرتے رہو)
اب اس دھوکے کے کاروبار نے جہاں مہاجروں کے احساسِ محرومی کو دو چند کیا، وہیں تحریک پر قابض ہوجانے والے گروہ سے لاتعلقی کا بے حس رویہ بھی عوام و تحریک میں فاصلے کا سبب بنا”
غریب کے حق کیلئے برسرِ پیکار عوامی نمائندے و ذمہ داران، تو ضرور اشرافیہ کا حصہ بن رہے تھے، مگر عوام بد حال سے بد حال تر ہورہی تھی۔
الطاف حُسین کو عملاً عوام سے الگ کردیا گیا تھا۔ یہاں تک کہ جو قائد کو آگاہ کرنے کی کوشش کرتا، وہ خود لاپتہ ہوجاتا۔ یا کسی حادثے کا شکار ہوکر، دنیا کے پردے ہی سے محروم کردیا جاتا۔ یا اسے مثالِ عبرت بنا دیا جاتا۔
کیا یہ سب نہیں ہوا؟
بہرحال کسی نہ کسی طرح قائد تک یہ معاملات پہنچ ہی گئے۔ اس حقیقت سے آگاہی فراہم کرنے والے کا نام جانتے ہیں کیا تھا؟
خیر چھوڑیں، یہ حقیقت بھی وقت آنے پر معلوم ہوجائے گی۔ فی الحال اس کا وقت نہیں آیا۔ آپ سُنیں گے تو پہلے تو یقین ہی نہیں کریں گے۔ پھر 90 پر وہ ہوا جو مہاجر عوام و کارکنان کے دل کی پکار تھی۔ لیکن اس کا نتیجہ مشرف کی پلاننگ کا حصہ تھا۔ جی ہاں 2016 کے بعد کی صورت حال۔
“مائنس ون فارمولا” ایک طے شدہ پلان جس کا حصہ اس وقت کے تمام زمہداران تھے۔ جو اس منصوبے کے خلاف تھے، وہ بھی لب کشائی نہیں کررہے تھے۔
مگر جو قائد کے واقعی نظریاتی کارکنان تھے وہ ڈٹ گئے اور اس سازش کو طشت از بام کرنے میں جُت گئے۔
جبکہ لندن و پاکستان کی رابطہ کمیٹی نے قائد کی تحریک سے علیحدگی اور پاکستان میں موجود رابطہ کمیٹی کو اختیارات کی منتقلی کے دستخط شدہ ایجازت نامہ کو بھی تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔
سترہ ستمبر تک ایک جمود طاری تھا۔ سوائے ان دیوانوں کے جنہوں نے پنجرے کی دیواروں کو اپنے زخمی سروں کی ٹکروں سے پاش پاش کردیا۔ اور بلاآخر قائدِ تحریک نے ان ساتھیوں کا ہاتھ تھام لیا۔ اور لندن و پاکستان رابطہ کمیٹی سمیت سب کو معطل کردیا۔ رابطہ کمیٹی توڑ دی گئی۔
اور اج تک انھی کیساتھ محوِ سفر ہیں۔
ہمیں یہ کہنے میں زرا بھی عار نہیں کہ اس سازش کی باقیات اب بھی موجود ہیں۔ مگر انہیں ہم سے زیادہ قائد جانتے ہیں۔ اور عن قریب ان کی رو نمائی بھی ہونے والی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ وہ آستین سے ہوتے ہوئے دل تک پہنچ گئے ہیں۔ انہیں پہلے باہر نکالنا ضروری ہے۔ اگر ان ناموں کا ابھی اعلان کردیا گیا تو یہ اپنے بلوں سے باہر نہیں نکلیں گے۔
اب یہ بات ہمارے لیئے بھی کسی معمے سے کم نہیں کہ جب رابطہ کمیٹی توڑ دی گئی تھی تو اسے بحال کب کیا گیا؟
یا دوبارہ رابطہ کمیٹی کب بنائی گئی؟
اسکے علاوہ بھی مزید سوالات ہیں۔ پر ان کے کرنے کا فی الحال وقت نہیں آیا۔ وہ بھی ضرور اپنے وقت پر کیے جائیں گے۔ اس لیے انتظار کریں۔ ہم بھی منتظر ہیں۔
بس یہ یاد رکھیں!
نہ کل قائدِ تحریک اپنے ابتدائی عہد سے منکر ہوئے تھے اور نہ آج اس عہد کو بھولے ہیں۔ قوم کو مایوس نہیں کریں گے۔ آپ شاید نہیں جانتے کہ کون کون واپسی کا منتظر ہے؟ لیکن درست فیصلہ بھی غلط وقت پر غلط ثابت ہوتا ہے۔
بس انتظار ہے، درست وقت کا۔ کہ انتظار ہی اہلِ وفا کا کام ہے۔
یہ انتظار مفاد پرستوں کے بس کی بات بھی نہیں۔
والسلام!
۔
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Verified by MonsterInsights