سمے وار (مانیٹرنگ ڈیسک)
درس وتدریس یعنی پڑھانا کوئی “پارٹ ٹائم” جاب نہیں، یہ قوم کے دماغوں کی سرجری ہے۔ اگر آپ کے ہاتھ کانپتے ہیں یا اوزار (علم) پرانے ہیں، تو آپ مسیحا نہیں، قاتل ہیں۔ ایک ایسا استاد بننے کے لیے جسے دنیا یاد رکھے، آپ کو روایتی “مولا بخش” والی سوچ سے نکل کر 15 بے لاگ اور جدید اصول اپنانے ہوں گے۔یہ ہیں ایک بہترین استاد بننے کے 15 بے لاگ طریقے۔
1-دوست نہیں، “مینٹور” بنیں
نئے اساتذہ اکثر بچوں کا “یار” بننے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ وہ پسند کیے جائیں۔ یہ سب سے بڑی غلطی ہے۔ طلباء کے پاس دوست بہت ہیں، انہیں ایک رہبر (Leader) چاہیے۔ ایک ایسا فاصلہ رکھیں کہ وہ آپ سے اپنی ذاتی بات بھی کر سکیں، لیکن آپ کے سامنے بدتمیزی کرنے کا سوچ بھی نہ سکیں۔ عزت (Respect) دوستی سے زیادہ اہم ہے۔
2-جہالت کا اعتراف
اگر کوئی طالب علم ایسا سوال پوچھے جس کا جواب آپ کو نہیں آتا، تو غلط جواب دے کر یا اسے ڈانٹ کر چپ کروا کے اپنی ساکھ تباہ نہ کریں۔ سینہ تان کر کہیں، “مجھے ابھی نہیں معلوم، میں ریسرچ کر کے کل بتاؤں گا۔” یہ جملہ آپ کا قد چھوٹا نہیں کرتا، بلکہ بچوں کو یقین دلاتا ہے کہ آپ سچے اور ایماندار ہیں۔
3-بوریت ایک جرم ہے
اگر کلاس کے دوران بچے جمائیاں لے رہے ہیں یا سو رہے ہیں، تو قصور ان کا نہیں، آپ کا ہے۔ آپ کا لیکچر بورنگ ہے۔ پڑھائی اب صرف معلومات دینے کا نام نہیں، یہ “ایڈوٹینمنٹ” (Education + Entertainment) ہے۔ اپنی آواز میں اتار چڑھاؤ لائیں، لطیفے سنائیں، ڈرامائی انداز اپنائیں۔ کلاس روم آپ کا تھیٹر ہے اور آپ مرکزی اداکار۔
4-“ٹیچرز کے لاڈلا ” کا قتل
کلاس کے سب سے لائق بچے کو اپنا چہیتا (Favorite) بنا لینا باقی پوری کلاس کو آپ کا دشمن بنا دیتا ہے۔ نالائق اور شرارتی بچوں کو اتنی ہی توجہ دیں جتنی ٹاپر کو۔ جب “آخری بینچ والا” محسوس کرے گا کہ سر مجھے بھی اہم سمجھتے ہیں، تو وہ جان چھڑکنے لگے گا۔
5-“کیوں” کا جواب دیں
رٹہ لگوانا بند کریں۔ اگر آپ الجبرا پڑھا رہے ہیں تو پہلے بتائیں کہ “یہ فارمولا زندگی میں کہاں استعمال ہوگا؟” اگر آپ تاریخ پڑھا رہے ہیں تو بتائیں کہ “آج ہم اس سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟” جب تک دماغ کو “وجہ” سمجھ نہیں آتی، وہ معلومات کو کچرا سمجھ کر پھینک دیتا ہے۔
6-تیاری کے بغیر کلاس میں جانا “خودکشی” ہے۔
چاہے آپ 20 سال سے پڑھا رہے ہوں، لیکچر سے پہلے تیاری لازمی ہے۔ جو استاد بغیر نوٹس اور تیاری کے کلاس میں جاتا ہے، بچے فوراً بھانپ لیتے ہیں کہ “سر ٹائم پاس کر رہے ہیں۔” ایک گھنٹے کے لیکچر کے پیچھے تین گھنٹے کی محنت ہونی چاہیے۔
7-خاموشی بطور ہتھیار
شور مچانے پر چیخیں مت، گلا خراب مت کریں۔ بس خاموش ہو جائیں اور شور مچانے والے کو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر گھورنا شروع کر دیں۔ 30 سیکنڈ کے اندر پوری کلاس میں سناٹا چھا جائے گا۔ آپ کی پراسرار خاموشی آپ کے چیخنے سے زیادہ خوفناک اور موثر ہے۔
8-نصاب سے باہر کی دنیا
بچوں کو صرف کتابی کیڑا نہ بنائیں۔ انہیں زندگی کی ہیکنگ سکھائیں۔ انہیں بتائیں کہ ڈگری کے ساتھ ساتھ اسکلز کیسے سیکھنی ہیں۔ انہیں ‘محرک’ جیسی ایپس اور جدید ٹولز کے بارے میں بتائیں جو ان کی شخصیت سازی (Personality Grooming) کریں۔ جو استاد نصاب سے ہٹ کر زندگی سکھاتا ہے، اصل میں وہی “استاد” ہے۔
9-اپنی انا (Ego) دروازے پر چھوڑ دیں۔
اگر کوئی طالب علم آپ کی غلطی نکالے (چاہے ہجے کی غلطی ہو یا حقائق کی)، تو اسے اپنی توہین نہ سمجھیں۔ اس بچے کی سب کے سامنے تعریف کریں کہ “شاباش! تم جاگ رہے ہو۔” یہ عمل آپ کے اعتماد کا ثبوت ہے اور بچوں کو سوال اٹھانے کی جرات دیتا ہے۔
10-کہانی سنائیں
انسان ڈیٹا بھول جاتا ہے، کہانیاں یاد رکھتا ہے۔ نیوٹن کا قانون پڑھانے سے پہلے سیب گرنے کی کہانی سنائیں۔ تاریخ کو ایک فلم کی طرح بیان کریں۔ اپنے لیکچر کو خشک حقائق کی بجائے ایک دلچسپ داستان (Story) میں بدل دیں۔
11-کرسی پر بیٹھنا حرام ہے
جو استاد پوری کلاس میں کرسی پر بیٹھ کر یا روسٹرم کے پیچھے چھپ کر پڑھاتا ہے، وہ کمزور ہے۔ پوری کلاس میں گھومیں، آخری بینچ تک جائیں۔ آپ کی جسمانی نقل و حرکت (Movement) بچوں کو الرٹ رکھتی ہے اور انہیں سونے نہیں دیتی۔
12-سزا میں تخلیقی بنیں
مارنا پیٹنا یا “مرغا بنانا” اب فرسودہ ہو چکا ہے۔ سزا ایسی ہو جس سے اصلاح ہو۔ مثلاً، “تم نے شور مچایا ہے، اب کل تم پوری کلاس کو یہ ٹاپک پڑھاؤ گے۔” اس سے بچہ شرمندہ ہونے کی بجائے ذمہ دار محسوس کرے گا (اور اسے سبق بھی مل جائے گا)۔
13-نام یاد رکھیں
“او لڑکے” یا “تم کھڑے ہو جاؤ” کہنے کی بجائے طالب علم کو اس کے نام سے پکاریں۔ یہ نفسیاتی جادو ہے۔ جب استاد نام لے کر پکارتا ہے، تو طالب علم کو اپنی اہمیت کا احساس ہوتا ہے اور وہ استاد کی عزت کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
14-گھنٹی کا احترام
جیسے ہی پیریڈ ختم ہونے کی گھنٹی بجے، لیکچر فوراً روک دیں۔ جو استاد بریک ٹائم یا دوسرے پیریڈ کا وقت کھاتا ہے، بچے اس سے شدید نفرت کرتے ہیں۔ وقت کی پابندی سکھانے کے لیے پہلے خود وقت کا پابند بنیں۔
15-وراثت
صرف تنخواہ کے لیے نہ پڑھائیں، یہ سوچیں کہ آپ ایک وراثت چھوڑ رہے ہیں۔ یہ سوچیں کہ 20 سال بعد جب یہ بچہ کسی بڑے عہدے پر ہوگا، تو کیا یہ آپ کو یاد کر کے مسکرائے گا یا گالی دے گا؟ آپ کا اصل رزلٹ کارڈ بچوں کے نمبر نہیں، ان کا کردار ہے۔
۔
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)
