Categories
Education Exclusive India Interesting Facts Media Society اچھی اردو اردوادب انکشاف تہذیب وثقافت دل چسپ ذرایع اِبلاغ قومی تاریخ ہندوستان

“انجمن ترقی اردو” نے ‘ہندی’ دیوان چھاپ دیا

سمے وار (خصوصی رپورٹ)
ہم جو کچھ اردو میں لکھ رہے ہیں اگر ہم اسے اردو یا فارسی کے رسم الخط یعنی الف، ب، پ کے بہ جائے دیوناگری یا ہندی رسم الخط میں لکھ دیں تو یہی اردو پھر ہندی ہو جائے گی۔ یہی معاملہ “ہندی” کا ہے، ہندوستان کی تقریباً بول چال اردو ہی ہے، وہ لکھتے ہندی یا دیوناگری رسم الخط میں ہیں، اس لیے اسے ہندی کہا جاتا ہے۔ وہاں کی سب زبان اگر اردو کے رسم الخط میں لکھ دیجیے تو وہ سب اردو کہلانے لگے گا۔
قیام پاکستان کے بعد جیسے وہاں کے مسلمانوں کو دھکا دیا گیا کہ جائو پاکستان بن گیا ہے وہاں جائو، ایسے ہی اردو کو بھی دھکا دے دیا گیا کہ اب اردو کے لیے پاکستان بنا دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں کی “انجمن ترقی اردو” کی تمام شاخوں کے لیے ایک مسئلہ پیدا ہوگیا ان کے وجود کے لیے سوالیہ نشان پڑ گیا۔ یہاں تک کہ “ریختہ” نامی ویب سائٹ نے بھی باریک کام کیا اور غالب اور میر سے لے کر تمام شعرا اور کلاسیکیل ادب تک “ہندی” رسم الخط میں میسر کردیا۔ کیوں کہ اس کا تعلق زبان کی ترقی سے زیاہ کاروباری تھا۔ سو انھوں نے اردو، ہندی اور رومن تینوں رسم الخط کے قارئین کو اپنی جانب گھسیٹا۔ ایسے ہی انجمن ترقی اردو ہندوستان کی جانب سے بھی ہندی رسم الخط کے سہارے لیے جانے لگے، لیکن قوالی یا مشاعرے چلیے ہم مان لیتے تھے کہ اردو کا فروغ ہے، لیکن زبان تو اردو ہی کہلاتی تھی، مطبوعات تو اردو زبان ہی کی ہوتی تھیں۔ لیکن اب شاید پہلی بار انجمن ترقی اردو حقیقت میں “انجمن ترقی ہندی” بن گئی اور اردو کے مہا شاعر میر تقی میر کا کلام ہندی رسم الخط میں چھاپ کر سب کو بدھائی دینے کے لیے مدعو کر رہی ہے، جس سے ہم ہندوستان میں اردو زبان کے تئیں رویے اور وہاں اردو کی حالت کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔
انجمن ترقی اردو (ہند) نئی دلی کی جانب سے اردو کے صف اول اور قدآور شاعر میر تقی میر کی شاعری کے بڑے حصے کی دیو ناگری رسم الخط میں اولین اشاعت کی گئی ہے۔ اس حوالے سے ‘دیوانِ میر’ کی باقاعدہ تقریب رونمائی 28 اپریل 2026 کو منعقد کی جا رہی ہے۔


بتایا جاتا ہے کہ یہ میر تقی میر کے کلام کو پہلی بار ہندی رسم الخط میں شائع کیا گیا ہے، جس میں میر کی غزلیات پر مشتمل چھے دواوین کے علاوہ قصیدوں، مثنویوں اور شکارناموں سے بھی غزلوں کا انتخاب شامل کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ 1947 میں قیام پاکستان کے بعد بابائے اردو کا خطاب پانے والے مولوی عبدالحق کراچی آگئے تھے اور انھوں نے کراچی میں انجمن ترقی اردو کی شاخ قام کی تھی اور یہاں پر اردو کے فروغ اور نشرواشاعت کے لیے جدوجہد کی تھی۔ جب کہ ہندوستان میں بھی بچی کچھی انجمن ترقی اردو موجود رہیں، گوکہ وہاں اس کی سوکن کے طور پر ہندی موجود تھی، جو بٹوارے کے بعد یکایک ہندی کہلانے لگی۔ بولنے میں تو معاملہ طے کرنا ممکن نہیں ہے کہ یہ اردو ہے یا ہندی۔ اس میں صرف ایک ہی تو فرق ہے، جسے رسم الخط یا لکھاوٹ کہتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Verified by MonsterInsights