سمے وار (تحریر: حنیف راجا)
نیچے دی گئیں تین تصویروں میں سے ایک میں آپ یہ منظر دیکھ رہے ہوں گے، پاکستان فلم انڈسٹری کے لیجنڈ فلمسٹارز جن میں محمد علی، زیبا، ریما، غلام محی الدین، روبی نیازی، محسن حسن خان، جاوید شیخ، عمر شریف، سلمی مراد(بیگم وحید مراد) اور بہروز سبزواری نظر آرہے ہیں، مذکورہ تصاویر 1992 میں ہونے والے وحید مراد ایوارڈز کی تقریب کی ہیں جو کراچی کے ریکس آڈیٹوریم میں منعقد ہوا تھا۔ یہ تقریب عیدالاضحیٰ کے دو ہفتے بعد منعقد ہوئی تھی۔ تقریب سے دو دن پہلے ہی سپر ہٹ اسٹیج ڈراما “گڈ لک معین اختر” اپنے 20 کامیاب شو مکمل کرکے ختم ہوا تھا جس میں معین اختر صاحب، روبی نیازی میں (حنیف راجا) اور دیگر مشہور کاسٹ تھی،وحیدی ایوارڈ کیلۓ اس اسٹیج ڈرامے سے نامزد معین بھائی، روبی نیازی، ڈائریکٹر سید فرقان حیدر صاحب اور میں ہوۓ تھے۔ اس تقریب میں میرے حوالے سے جو واقعہ رونما ہوا اس سے اس بات کی تصدیق ہوگئی کہ ذہانت اپنی جگہ اہم سہی لیکن تجربے کا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔ 1990 تا 1995 میرے فنی کیریئر کے پنپنے کے اہم سال تھے۔ہوا کچھ یوں کہ تجربہ کم اور جوش زیادہ تھا کم عمری میں الثر ایسا ہی ہوتا ہے۔نیچے موجو د تصاویر میں سے ایک میں ،میں عمر بھائی (عمر شریف) سے ایوارڈ لے رہا ہوں ،مجھے ایوارڈ دیے جانے سے پہلے میری ا اؤنسمنٹ ہوئی اسٹینڈاپ کامیڈی پرفارمنس کے لیے میں نے جم کر کامیڈی کی ہال آڈینس سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا کوئی نشست خالی نہیں تھی حتی کے لوگ سیڑھیوں پر براجمان تھے میری پرفارمنس کو میرے عقب میں تشریف فرما فلم اسٹار محمد علی صاحب کے بلند قہقہے نہایت جلا و جوش بخش رہے تھے۔بعد از پرفارمنس میرے ایوارڈ کی اناؤنسمنٹ ہوئی ،کیٹیگری تھی سال 1991 کے بہترین اسٹینڈاپ کامیڈین اور اداکار کی لوگوں نے بڑی فراخ دلی سے دوبارہ بھرپور تالیوں سے استقبال کیا مجھے ایوارڈ دینے کے لیے بیگم وحید مراد یعنی سلمی مراد صاحبہ سے درخواست کی گئی وہ اٹھ کر آئیں اور مجھے دینے کیلۓ ایوارڈ تھام لیا میں نے عمر بھائی (عمر شریف ) کی محبت و عقیدت میں فرمائش کردی کہ میں یہ ایورڈ عمر شریف صاحب کے ہاتھوں لینا چاہتا ہوں، صورت حال عجیب سی ہوگئی ،سلمی صاحبہ میرا ایوارڈ عمر بھائی کو تھما کر واپس اپنی نشست پر بیٹھ گئیں بہر حال عمر بھائی نے مجھے ایوارڈ دیا اورمیرے کام کو بہت سراہا ہال میں پھر تالیوں کا شور ابھرا اور میں ایوارڈ ملنے کی مبارک بادیں سمیٹتا ہوا دوسرے کسی شو میں پرفارمنس کے لیے چلا گیا۔
دوسرے دن روبی نیازی کا میرے گھر فون آیا، روبی نیازی عمر بھائی کی فلم مسٹر 420 سے ہٹ ہوچکی تھیں اور فرقان حیدر بھائی کے ا سٹیج ڈرامے ” گڈ لک معین اختر” میں میرے ساتھ ہی کام کررہی تھیں لہٰذا ان سے اچھی سلام دعا بھی ہوگئی تھی،روبی ایک ملن سار ہنس مکھ اور کاسٹ کیساتھ گھل مل جانے والی انسان تھیں جب کہ وہ اسوقت سپر ہٹ ہوچکی تھیں مگر گھمنڈ سے دور تھیں خیر سلام دعا کے بعد انہوں نے بتایا کہ فرقان بھائی سےآپ کا نمبر لے کر فون کیا ہے ،دراصل کل ایوارڈ شو میں آپ سے نادانستگی میں ایسی غلطی ہوگئی جو سلمی مراد صاحبہ کے لیے یقینا ہزیمت کا باعث بنی ہوگی اور انہوں نے پورا واقعہ دہرایا… اوہ میرے خدا یہ تو واقعئی مجھ سے بڑی گستاخی ہوگئی ..میں نے روبی کا میری غلطی کی اس نشاندہی پر شکریہ ادا کیا۔ روبی نے کہا شکریہ کی کوئی بات نہیں آرٹسٹ ہونے کے ناطے یہ میرا فرض تھا کہ دوسرے آرٹسٹ کی رہنمائی کروں۔میں اپنی اس نادانی پر دل میں بے حد نادم ہوا حالاں کہ میری نیت صاف تھی ایسا نادانستہ ہوگیا تھا پھر بھی اخلاقی تقاضے کےعین مطابق انہی دنوں ایک تقریب میں جب میری سلمیٰ مراد صاحبہ سے ملاقات ہوئی تو میں نے اپنی اس نادانی پر معذرت چاہی جو انھوں نے بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوۓ قبول کرلی۔زندگی کے سفر میں رونما ہونے والا ہر واقعہ کچھ سکھا کر جاتا ہے اس واقعہ میں سبق یہ ہے کہ اگر آپ نے اپنی غلطی تسلیم کرکے معذرت کرلی تو سمجھ جائیں آپ ترقی کی ایک سیڑھی چڑھ گۓ ہیں۔


