سمے وار (مانیٹرنگ ڈیسک)
عراق کے دارالحکومت بغداد میں قرآن کریم کا ایک ایسا دل چسپ اور عجیب نسخہ بھی محفوظ ہے جسے مکمل طور پر انسانی خون سے لکھا گیا ہے۔
یہ خون کسی اور کا نہیں بلکہ خود سابق عراقی صدر صدام حسین کا ہے۔ اس کام کے لیے تقریباً 27 لیٹر خون استعمال کیا گیا۔
یہ قرآن مجید آج بھی کئی دہائیوں بعد بحث اور حیرت کا موضوع بنا ہوا ہے۔ اس ‘مصحف’ کو لکھنے والے خطاط کی بینائی تقریباً متاثر ہو گئی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ کام ایک نذر (منت) پوری کرنے کے لیے کروایا گیا تھا، لیکن سوال اب بھی یہ ہے کہ عراقی مرد آہن صدام حسین نے اس قدر مشکل اور غیر معمولی کام کیوں کروایا؟ حالاں کہ خون اسلامی شریعت میں ناپاک ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ اس کام کے لیے انتہائی خفیہ طریقے سے ایک عراقی فن کار کو یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ پورا قرآن کریم ان کے خون سے لکھے۔ اس نے تقریباً دو سال تک مسلسل محنت کی اور قرآن کی 605 صفحات پر مشتمل مکمل کتابت کی۔ تمام صفحات صدام حسین کے خون سے لکھے گئے۔
یہ قرآن مجید، جسے عموماً “صدام حسین کا خون سے لکھا ہوا مصحف” کہا جاتا ہے، سابق عراقی صدر کی زندگی کا ایک انتہائی متنازع اور حیران کن واقعہ سمجھا جاتا ہے۔
جب 31 دسمبر 2006 کو صدام حسین کو پھانسی دی گئی تو اس کے بعد یہ مصحف مزید مشہور ہو گیا۔ بعض لوگوں کے مطابق یہ صدام حسین کی ذاتی موجودگی کی آخری جسمانی نشانیوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔
یہ قرآن اس وقت بغداد میں موجود ہے۔ اسے امّ القریٰ مسجد (جسے پہلے “ام المعارک مسجد” کہا جاتا تھا) کے ساتھ ایک عمارت میں محفوظ رکھا گیا ہے۔
اس مصحف میں 604 صفحات ہیں جن میں پورا قرآن کریم موجود ہے۔ برطانوی اخبار دی گارجین کے مطابق اس مصحف کو لکھنے کے لیے تقریباً 24 سے 27 لیٹر خون استعمال کیا گیا۔
اس کام کے بارے میں عراقی خطاط عباس شاكر الجودی بتاتے ہیں کہ ایک دن صدام حسین نے انھیں فوراً بلایا اور ایک غیر معمولی درخواست کی۔ صدام حسین نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ پورا قرآن کریم ان کے خون کو روشنائی کے طور پر استعمال کرتے ہوئے لکھا جائے۔
الجودی کے مطابق یہ کام کرنا آسان نہیں تھا۔ مجھے سب سے پہلے صدام حسین کے خون کی ایک بوتل دی گئی اور میں نے فوراً کام شروع کر دیا۔ ایک ہفتے بعد میں نے ایک صفحے کا نمونہ پیش کیا جسے ایک خاص کمیٹی نے جانچا اور منظور کیا۔ اس کام کے لیے ایک ماہرین کی کمیٹی بھی بنائی گئی تھی۔ اس کمیٹی کا کام صرف قرآن کے متن کی درستی دیکھنا نہیں تھا بلکہ یہ بھی دیکھنا تھا کہ خون وقت گزرنے کے باوجود محفوظ رہ سکے گا یا نہیں۔
آج یہ قرآن ایک تہہ خانے میں رکھا ہوا ہے جو تین بند دروازوں کے پیچھے محفوظ ہے۔ ان دروازوں کی چابیاں تین مختلف افراد کے پاس ہیں:
مسجد کے شیخ، شہر کے ایک پولیس افسر اور ایک تیسری خفیہ شخصیت کے پاس اگر کوئی شخص اس قرآن کو دیکھنا چاہے تو اسے عراقی حکومت کو باقاعدہ درخواست دینا پڑتی ہے۔ برطانوی اخبار کے مطابق اس نایاب اور متنازع مصحف کا ہدیہ لاکھوں بلکہ کروڑوں ڈالر تک ہو سکتا ہے۔
Categories
انسانی لہو سے لکھے گئے کلام پاک کا ہدیہ کتنا ہے؟
