سمے وار (تحریر: انیس شیخ)
1981میں اسلامی جمعیت طلبہ کی جانب سے پرتشدد طور پر جامعہ کراچی سے نکالے جانے کے وقت “اے پی ایم ایس او” کے ارکان کی تعداد 45 تک تھی۔ اس کے بعد جب علاقوں میں کام شروع کیا تو تب بھی 1983 تک “اے پی ایم ایس او” کے کارکنان 300 تک ہی بڑھ سکے تھے۔
اگست 1982 میں آفاق خان شاہد اور حسیب ہاشمی نے الکرم اسکوائر کراچی میں محصورین کی واپسی کے لیے بھوک ہڑتالی کیمپ لگایا تو ان کے ساتھ الطاف حسین بھی بیٹھے تھے۔ 1985 میں دونوں بالترتیب قومی اور صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ ایک ہفتے تک اس بھوک ہڑتالی کیمپ کا کوئی اثر نہ پڑا۔ لوگ دیکھتے اور چلے جاتے تھے۔
1983 کے بلدیاتی انتخابات میں “اے پی ایم ایس او” کی جانب سے 20 مہاجر امیدواروں کی حمایت کی۔ ان کی انتخابی مہم میں 200-300 افراد کی کارنر میٹنگ کی جاتیں، جس سے الطاف حسین اور عظیم احمد طارق خطاب کرتے۔ اس وقت پانچویں قومیت، کوٹا سسٹم کے تحت ملازمتیں اور داخلوں کا حصول اور تیسرا محصورین کی واپسی۔ ان کی بنیاد پر بات کی جاتی، لیکن اس وقت تک عوام میں ان باتوں کی کوئی کشش محسوس نہیں ہوئی، نتیجتاً ان کا ایک بھی حمایت یافتہ امیدوار نہ جیت سکا۔ عوام میں اس حوالے سے کوئی جوش نہیں ہوا۔
نومبر 1983 میں الطاف حسین اپنے بڑے بھائی اقبال حسین کے پاس شکاگو منتقل ہوگئے۔ جہاں کہا جاتا ہے کہ وہ ٹیکسی چلانے لگے۔ ادھر 18 مارچ 1984 میں ‘مہاجر قومی موومنٹ’ کے قیام کا اعلان کر دیا گیا۔ 15 اپریل 1985 کو بشریٰ زیدی کا واقعہ ہوگیا۔ جس پر عثمانیہ کالج، سرسید کالج اور ویمن کالج کی طالبات نے ناظم آباد چورنگی پر احتجاج اور مظاہرہ ہوا، طلبا بھی شریک ہوگئے۔ جلائو گھیرائو، آنسو گیس اور لاٹھ چارج میں 80 طالبات اور طلبا زخمی حالت میں عباسی شہید لائے گئے۔
16 اپریل 1985 کو یہ احتجاج ناظم آباد، نارتھ ناظم آباد، پاک کالونی، لیاقت آباد، فیڈرل بی ایریا تک پھیل گیا۔ کئی بسیں جلادی گئیں، ڈرائیوروں کو بسوں سے اتار کر مارا جا رہا تھا۔ یہ بیس برس کی کشیدگی کا نتیجہ تھا۔ پرائیوٹ منی بسوں کے ڈرائیور کنڈیکٹر مسافروں سے مارپیٹ اور خواتین کے ساتھ بدتمیزی کرتے تھے۔ اس دوران 16 یا 17 اپریل کو ناظم آباد نمبر دو کی پریس مارکیٹ سے چھپوایا گیا ایک پمفلٹ جس میں مہاجروں کو جوش دلوایا گیا تھا، اس ایک صفحے کے پمفلٹ نے آگ لگا دی۔ جس کے بعد ناظم آباد، لیاقت آباد، گولی مار، پاک کالونی، اورنگی کے کچھ علاقوں اور بنارس کالونی میں کرفیو لگا دیا گیا۔ جو شاید دس دن میں ختم ہوگیا۔ اس پورے عرصے میں 50 جاں بحق اور 200 زخمی ہوگئے۔
تین ماہ تک اورنگی اور قصبہ میں تصادم جاری رہا۔ 31 اگست 1985 کو ایک اور حادثہ ہوا کہ جب قائد آباد میں ریلوے پھاٹک کھول کر منی بس نکالنی چاہی تو وہ کسی طرح پٹریوں پر پھنس گئی اور اس دوران ٹرین آگئی اور وہ منی بس کو گھسیٹتی ہوئی لے گئی۔ اس میں تمام 42 مسافر جان سے گئے۔ اس واقعے کو ‘مہاجر مسافروں کو ماردیا’ کے تناظر میں دیکھا گیا اور لانڈھی، شاہ فیصل، ملیر اور ماڈل کالونی میں ہنگامے شروع ہوگئے۔ مبینہ طور پر پتا چلا کہ ڈرائیور بھی مارا گیا، لیکن اشتعال کے سبب دو دن کے ہنگاموں میں 40 افراد مارے گئے۔ اس کے بعد لوگ مہاجر تنظیم کی طرف متوجہ ہوئے۔ نومبر 1985 میں الطاف حسین کراچی واپس آگئے۔ اس کے بعد کی تاریخ اور واقعات تو کراچی کی تاریخ کا حصہ ہیں۔
.
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)
Categories
لوگ ‘ایم کیو ایم’ کی طرف کیوں آئے؟
