سمے وار (تحریر: شاہین کمال)
اب مجھے پردیس کاٹتے ہوئے تقریباً سولہ برس بیت چکے ہیں۔ زندگی نے مجھے خوب خوب جھکولے دیے پر شکر اس مالک کا کہ اس نے ہاتھ نہیں چھوڑا ۔ میں کراچی یعنی شہر دلبرا کی متوسط طبقے کی ایک عام سی لڑکی تھی. جس کے خواب بھی اسی کی طرح معمولی اور چھوٹے چھوٹے سے، بس اتنا ہی کہ ایک نیم کی گھنیری چھاؤں والا آنگن ہو جہاں سر کے سائیں کے ہمراہ آباد گود کے ساتھ شاد رہوں۔ نہ مجھے چاند تسخیر کرنا تھا اور نہ ہی گینز بک آف ورلڈ میں کوئی ریکارڈ رقم کرنے کی آرزو.
جامعہ کراچی کی شعبہ فارمیسی سے فارغ ہوتے ہی بیاہ کر حیدرآباد کے تاریخی علاقے، پکہ قلعہ کی مکین ہوئی۔ یہیں میرے سسر سید اقتدار حیسن دلی سے ہجرت کر کے اپنے والدین اور پانچ بھائی بہنوں کے ساتھ آباد ہوئے تھے۔ جمشید میرے من میت نے انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی اور خوش قسمتی سے ان کی نوکری حیدرآباد ہی میں لگی۔ شادی کے تیسرے سال ابصار میری گود میں تھا۔ زندگی نے کٹھاس اور تلخی سے بھی آشنائی کرائی مگر مجموعی طور پر میری زندگی خوشگوار اور آرام دہ تھی۔
سنہ نوے میں، میں دوبارہ امید سے تھی پر میرا یہ حمل اپنے پہلی سہ ماہی ہی سے سخت ترین رہا۔ ان دنوں ماحول میں حیدرآباد کی روایتی گرمی کے علاوہ سیاسی پارے نے بھی خوب تپ چڑھائی ہوئی تھی۔ کچھ دن پہلے ہی میرا چھوٹا دیور مہران یونیورسٹی میں لسانی تعصب کی بناء پر شدید زد و کوب کیا گیا اور اسی سبب وہ آج کل گھر پر صاحب فراش تھا۔
بیس مئی کو اچانک ہی خبر پھیلی کہ پکہ قعلہ کی بڑی ٹنکی جو پورے علاقے کو پانی مہیا کرتی تھی اس میں زہر ملا دیا گیا ہے۔ پورے علاقے میں شدید اضطراب پھیل گیا۔ لوگ ڈی سی صاحب کے آفس بھاگے مگر کوئی سنوائی دہائی نہ ہوئی۔ اپنی مدد آپ کے تحت ٹنکی خالی کی گئی اور تین دن تک ٹنکی کا پانی گلی کوچوں میں بہتا رہا ۔ اماں نے میرے مضروب دیور اور اس کی تیمارداری کے خیال سے چھوٹی نند عفت کو منجھلی پھوپھی کی طرف لطیف آباد روانہ کر دیا۔ جمشید نے مجھ سے پوچھا بھی کہ کہو تو تمہیں کراچی چھوڑ آؤں یا پھر تم بھی منجھلی پھوپھی کی طرف لطیف آباد چلی جاؤ۔ میں نہ مانی، میں نے کہا نہیں، میں ادھر ہی ٹھیک ہوں۔ گو کہ ایک عجیب سا ڈر تھا جس سے دل بیٹھا جاتا تھا۔
پچیس تاریخ کو پولس اور سندھ ریزو پورے علاقے میں گشت کرنے لگی اور ہم سب نے اطمینان کی سانس لی کہ حکومت ہم سے بےخبر نہیں مگر یہ خؤش گمانی چھبیس مئی کی شام ہوتے ہوتے گلے کا پھندا بن گئی۔ ان لوگوں نے علاقے کو چاروں طرف سے گھیر کر علاقے کی ناکہ بندی کر دی اور ساتھ ہی ساتھ بجلی ، پانی اور گیس کی ترسیل بھی منقطع کر دی گئی۔ رات ڈھلنے سے پہلے ہم پہ قیامت صغریٰ ڈھا دی گئی۔ پولیس والوں نے گھروں میں گھس کر لوٹ مار اور قتلِ عام شروع کر دیا۔ مردوں اور بزرگوں کو چن چن کے مارا جانے لگا۔ عزت آبرو، جان و مال کچھ بھی تو محفوظ نہیں تھا۔ گھر سے جمشید اور میرے سسر کو پکڑ کر لے گئے۔ پیاس سے نڈھال اماں، ابا اور جمشید کی خبر لینے اور ابصار کے لیے دو گھونٹ پانی کے بندوبست کے واسطے سر پر قرآن شریف لے کر نکلیں اور گولیوں سے چھلنی کی گئیں۔ اماں اپنی جنم جنماتی اور پرکھوں سے آباد زمین چھوڑ کر، ہندوؤں اور سکھوں کے قہر و انتقام سے بچ بچا کر اپنی پاک سر زمین پہ اپنے ہی کلمہ گو بھائیوں اور بیٹوں کے ہاتھوں ماری گئی۔ اماں اور ابا کا جرم محض اتنا تھا کہ وہ سندھ کے بیٹے نہیں تھے مگر بخشا انہوں نے جمشید کو بھی نہیں. جمشید جن کی پیدائش بھی پکہ قعلہ کی تھی اور سندھی زبان ایسی رواں کہ کیا سندھیوں کی ہو گی۔ جمشیدجنہیں شاہ جو رسالو حفظ تھی اور جو مکلی اور تھر کے شیدا تھے وہ اپنی پسندیدہ خاک میں پیوند خاک ہوئے۔
وہ بڑا ظالم اور سفاک وقت تھا، جانے کن دقتوں سے میرے ماں باپ حیدرآباد پہنچے اور مجھے اور ابصار کو کراچی لے آئے۔ میں فقط پانچ سال کی بیاہتا، محض انتیس برس کی عمر میں بیوہ ہو گئی ۔ میرے آگے لق و دق صحرا اور تن تنہا آبلہ پائی کا سفر تھا۔ میں مہینوں ہوش و خرد سے بےگانہ رہی. انصار کی پیدائش کے بعد مجھے ہوش میں آنا ہی پڑا کہ میرے ساتھ اب دو بچے بھی تھے جو میرے محبوب کی نشانی اور میری کل متاع ۔ عاشق زار بیوی کو اپنے دل میں دفن کر کے بچوں کی محافظ ماں آگے آ گئی۔ پھر زندگی جہدوجہد سے عبارت ہوئی۔
میرا پاکستان کی کٹھور زمین سے دل اجڑ چکا تھا اور میں اپنے بچوں کے لیے کسی پر امن خطے کی تمنائی تھی۔ ایسی جگہ جہاں انہیں زمین کا بیٹا ثابت کرنے کے لیے کاغذ کے ٹکڑے کی ضرورت نہ ہو. کوئی انہیں اپنے ہی گھر میں مہاجر کہتے ہوئے اردو بولنے کی پاداش میں بے دردی سے قتل نہ کر دے ۔ ابصار ساتویں جماعت میں تھا جب میں نے بڑی کوششوں سے کینیڈا کی امیگریشن اپلائی کی اور امیگریشن ملنے پر ٹورانٹو آ کر بس گئی۔ یہاں زندگی آسان تو نہیں پر محفوظ ضرور ۔ سب سے بڑی بات یہاں کوئی میرے بچوں سے ان کی شہریت کے ثبوت نہیں مانگتا۔
.
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)
Categories
کینیڈا: کوئی مہاجر سے شناخت نہیں پوچھتا
