Categories
Education Interesting Facts Karachi Media Society اردوادب انکشاف پیپلز پارٹی تہذیب وثقافت دل چسپ ذرایع اِبلاغ سمے وار بلاگ سندھ قومی تاریخ کراچی مہاجرقوم ہندوستان

کیا ڈراموں کے منفی کردار سندھی اور پختون ہوتے تھے؟

سمے وار (تحریر: نصرت امین)
نورالہدی شاہ، منور سعید اور ولن کے لسانی پس منظر کا معاملہ
ایک بار آرٹس کاونسل آف پاکستان کے ایک شو میں، نورالہدی شاہ صاحبہ اپنے خطاب کے دوران بتا رہی تھیں کہ ایک زمانے میں پی ٹی وی کراچی سینٹر میں کس طرح خاص کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے فنکاروں سے امتیازی سلوک برتا جاتا تھا۔ میں ان کی یہ بات کچھ کچھ سمجھنے کے باوجود، اندازہ نہیں کرسکا کہ وہ پی ٹی وی کراچی سنیٹر پر کس کمیونٹی کے ہاتھوں کس کمیونٹی کے استحصال کا ذکر کررہی تھیں، اور میرا ذہن یہ ماننے کو تیار نہیں تھا کہ ان کا اشارہ اردو اور سندھی بولنے والی کمیونٹیز کے درمیان کسی کشمکش کی جانب ہوسکتا ہے۔
ابھی میں ان کی بات اچھی طرح سمجھنے کی کوشش ہی کررہا تھا کہ انہوں نے مزید کہا کہ ایک زمانہ تھا جب اردو زبان میں پیش کئے گئے ڈراموں میں ولن کو عموما سندھی یا پختون دکھایا جاتا تھا۔ یہ بات میرے لئے نہ صرف حیران کن، بلکہ دلچسپ بھی تھی۔ مجھے تحقیق و تحریر کے لئے ایک بنا بنایا موضوع مل گیا تھا۔ میں نے پی ٹی وی کے چند سینئیر لوگوں سے رابطہ کیا اور پوچھا تو سب نے کم و بیش یہی جواب دیا کہ اردو ڈراموں میں منفی کردار کو سندھی یا پختون دکھانے کا کوئی واقعہ انہیں یاد نہیں! عصمت اللہ نیازی نے تو دو ٹوک کہا، “یہ بات درست نہیں ہے۔”
ان شخصیات سے گفتگو میں مجھے یاد دلایا گیا کہ پی ٹی وی کے ایک سوپر ہٹ کھیل “خدا کی بستی” میں دو اہم منفی کردار تھے۔ ان میں سے ایک (شاہ جی) دلی یا میرٹھی انداز میں اردو بولتا تھا جب کہ دوسرا (ظہور احمد) خالص اردو اسپیکنگ کردار تھا۔
باقی کرن کہانی، زیر زبر پیش، انکل عرفی، افشاں اور شہ زوری جیسے شائستہ موضوعات پر مبنی مقبول کھیلوں میں کسی غیر اردو اسپیکنگ کو کبھی ولن نہیں دکھایا گیا، بلکہ ان کھیلوں میں خاص طرح کے ولن تھے ہی نہیں؛ جب کہ ڈرامہ سیریئل دیواریں، جنگل اور کاررواں خالص سندھی کلچر پر مبنی ڈرامے تھے، ان میں ہیرو یا ولن سب کے سب ہی ظاہر ہے کہ سندھی تھے۔ امجد اسلام امجد کے شاہ کار ڈرامے “سمندر” میں تین زوردار قسم کے ولن تھے؛ ان میں محبوب عالم نے سرائیکی، عرفان کھوسٹ نے لاہوری تاجر اور نثار قادری نے بظاہر اردو اسپیکنگ ولن کا کردار ادا کیا تھا۔ لیکن یہ ڈرامہ لاہور اسٹیشن کی پروڈکشن تھا۔
لہذا میں بصد احترام نورالہدی شاہ صاحبہ کے بیان سے متفق نہیں، بلکہ مجھے تجسس ہے کہ ان جیسی انتہائی قابل احترام شخصیت کو ایسا کہنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی، یا یہ ان کی سوچ کا کوی داخلی معاملہ تھا جس کا دنیا یا تاریخ سے کوئی خاص حقیقی تعلق نہیں تھا۔ اگر محترمہ نے کبھی موقع دیا تو میں ہمت کرکے ان سے یہ سوال ضرور پوچھوں گا، بلکہ شاید سوالات کی بوچھاڑ کرڈالوں۔ ان میں ایک سوال یہ بھی شامل ہوگا کہ انہوں نے ٹی وی کے لئے طبقاتی جدوجہد پر مبنی شاندار کہانیاں لکھنے کے بعد، یہ کام کس کے کہنے پر ترک کردیا؛ وڈیروں کے، یا قوم پرستوں کے؟؟ لیکن فی الحال میں یہاں ان کے بیان کردہ واقعات سے تھوڑا مختلف، اپنا ایک انتہائی اچھوتا تجربہ شیئر کرنا چاہوں گا۔
ایک بار، شاید ایس ٹی این / این ٹی ایم کے زمانے میں، ایک پاکستانی پنجابی فلم ٹی وی پر دکھائی جارہی تھی، اس دور کی دیگر فلموں کی طرح اس فلم میں بھی انتہائی احمقانہ اور فضول قسم کے مناظر اور ڈائیلاگس شامل تھے جن پر میرا ہنس ہنس کر برا حال ہورہا تھا۔ فلم کے ایک منظر میں ہیروئین (غالبا انجمن) اکیلی کہیں جارہی تھی کہ اچانک اسکرین کی ایک جانب سے ایک ولن نمودار ہوتا ہے، اور وہ ہیروئین کو چھیڑ چھاڑ کے دوران ڈرا دھمکا کر اٹھا کر لے جانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہاں فلم کا ہیرو enter ہوتا ہے اور ولن کو مار بھگا کر ہیروئین کو بچا لیتا ہے۔ لیکن بات یہاں ختم نہیں ہوتی!
کوئی یقین کرے یا نہ کرے، پنجابی فلم کی پنجابن ہیروئین کو راستے میں روکنے والے ولن کا کردار، یوپی کے شہر امروہہ سے تعلق رکھنے والے نامی گرامی شاعر، مفکر اور ادیب جناب رئیس امروہوی کے بھائی مفکر و صحافی جناب سید محمد تقی کے داماد محترم منور سعید صاحب نے ادا کیا؛ لیکن اصل بات یہ ہے کہ منور سعید ولن کے اس رول میں، پنجابی زبان کی اس فلم میں، پنجابی کے بجائے اردو بول رہے تھے، اور حد تو یہ ہے کہ ہیروئین کو دھمکانے کے دوران انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں ہنستے ہوئے کم از کم ایک بار “گویا” کا لفظ بھی استعمال کیا، “گویا” منور سعید صاحب کے معروف سسرالیوں کا پسندیدہ لفظ ہے، اور میں حلفیہ بیان کرسکتا ہوں کہ میں نے ذاتی طور پر رئیس امروہوی، جون ایلیا اور منور سعید صاحب کے سالے صحافی و دانشور جناب سید تقی حیدر مرحوم کو بارہا اور بات بات میں یہ لفظ ادا کرتے سنا ہے۔ سید حیدر تقی صاحب روزنامہ جنگ میں میرے کالم چھاپتے رہے ہیں، ایک بار دیر سے کالم چھپنے پر میں نے انہیں فون کرکے وجہ پوچھی، تو انہوں نے فرمایا، “گویا،” اور میں نے اگلے لمحے ہی فون رکھ دیا۔ انہوں نے بعد میں میرے دفتر آکر چائے پی اور پھر بتایا کہ جب میرا فون آیا تھا، وہ اس وقت میرا کالم رکوانے والوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ اور جب میں نے کالم رکوانے والوں کا نام پوچھا، تو وہ فورا اٹھ کھڑے ہوئے، ایک بار پھر “گویا” کہا اور اپنے دفتر چل دئے۔
لہذا ایک پنجابی فلم میں خاص طور پر اردو بولنے والے ولن کو دکھانے کے ساتھ ساتھ، اس معروف امروہوی خاندان کے مردوں کا پسندیدہ یہ خاص لفظ شامل کرنا، یقینا ایک فکر انگیز بات ہے۔ پھر بھی یہ منظر دیکھ کر میری ہنس ہنس کر حالت دوہری ہوگئی، اور نہ جانے کیوں میں بحیثیت ایک اردو اسپیکنگ پاکستانی، اس بات کا برا ماننے کے بجائے آج تک متجسس رہتا ہوں کہ آخر کار پنجابی فلم کی کہانی میں کوئی امروہہ یا لکھنوو کا ولن کیسے دکھایا جاسکتا ہے!
مجھے اب تک اس فلم کا نام نہیں معلوم ہوسکا ہے، میں نے اس سلسلے میں خالد فرشوری صاحب سے مدد اور رہ نمائی کی درخواست کی تھی، لیکن ان کی اپنی زندگی میں ان گنت مصروفیات ہیں۔ لہذا میں اب فیس بک پر موجود دوستوں سے درخواست کرتا ہوں کہ کوئی اس فلم کا نام معلوم کرکے، اس کی ایک کاپی حاصل کرے اور نورالہدی شاہ صاحبہ تک پہنچا دے۔ اور نورالہدی شاہ صاحبہ سے صرف یہ درخواست کروں گا کہ وہ ماضی کے سارے شکوے بھلا کر مذکورہ فلم کا یہ منظر ضرور دیکھیں، مجھے یقین ہے کہ وہ خود اس مضحکہ خیز منظر کی تاب نہ لاتے ہوئے، مبینہ طور پر اردو ڈراموں میں سندھی اور پختون ولن دکھانے والے ہدایت کاروں اور پروڈیوسرز کو ہمیشہ کے لئے معاف کردیں گی۔
شاید اس پنجابی فلم کے کہانی نویس یا ہدایت کار، یا دونوں کے لئے یہ منظر “ایکشن” نہیں، بلکہ “کامیڈی” سے متعلق تھا۔ اور ہاں، محترمہ کو یہ فلم دیکھنے سے پہلے یہ بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ پنجابی فلم کے اس منظر میں اردو بولنے والے امروہہ کے مہاجر ولن نے رنگین کرتا اور پاجامہ پہنا ہوا ہے۔
۔
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Verified by MonsterInsights