سمے وار (تحریر: ڈاکٹر شاہد ناصر)
کل ہی کی بات ہے کہ ہمارے دفتر میں “مصنوعی ذہانت” کی ہمارے مستقبل کے واسطے ہلاکت خیزی کا ذکر ہو رہا تھا، بلکہ ذکر بھی کہاں باقاعدہ بحث ہو رہی تھی ایک جانب سے یہ اصرار تھا کہ مصنوعی ذہانت بالآخر مصنوعی ہی رہے گی، یہ انسان کی طرح کا کام کر نہیں سکتی، سو انسان کو کوئی خطرہ نہیں ہے، گھر کے کام کے لیے ہمیں بازار پہنچانے کے لیے ہمیں انسان ہی چاہیے ہوگا۔۔
یہ سب کہتے ہوئے وہ یہ بھول گئے ممکن ہے کہ بازار جانے کی ضرورت مصنوعی ذہانت یا “اے آئی” باقی نہ رہنے دے اور پھر کیا خود کار گاڑیوں اور سواریوں کی باتیں اب بھی خواب وخیال ہیں؟ رہی بات گھر کے کاموں کی تو مشینوں کے ذریعے کیا ہم یہ سب ہوتا ہوا نہیں دیکھ رہے، اب اسے باقاعدہ روبوٹ کی شکل میں ہوتا دیکھنا کون سا دور رہ گیا ہے؟
بہرحال، ثبات ایک تغیر زمانے کو ہے، تبدیلیاں آتی رہی ہیں اور آتی رہیں گی، جو ہوگا دیکھ لیں گے۔ اس بحث کو لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم نے ایک مصنوعی ذہانت کے اکھاڑے یعنی جیمنائی سے ایک تصویر بنانے کو کہا، لیکن اس کے واسطے ہمارے ساتھ کیا ہوا، سوچا کہ اس تجربے میں ہم آپ کو بلا کم وکاست شریک کیے دیتے ہیں۔
ہم نے اُسے لکھا:
“ایک تصویر میں دفتر میں ہیڈ فون لگایا ہوا نوجوان ہے، اس کے سر کی طرف سے تصویر ہو، جس میں دونوں جانب بیٹھے ہوئے اشخاص گفتگو میں مصروف ہیں اور یہ ہیڈفون لگایا ہوا اس گفتگو سے لاتعلق ہے”
اس پر یہ تصویر بنا کر دی گئی:

ہم نے کہا “آپ سمجھے نہیں ہم نے دو مرد حضرات جو کہ اس کی کرسی کے دائیں بائیں بیٹھے ہوئے ہیں کہے تھے”
جس پر یہ صورت بنی:

ہم نے پھر کہا کہ “آپ سمجھ کیو ں نہیں رہے۔ وہ نوجوان اور گفتگو کرنے والے دونوں افراد اس کے دائیں بائیں بیٹھے ہوئے ہیں اور تصویر نوجوان کے بالکل پیچھے سے ہونی چاہیے”
اس بار پیش کش یوں ہوئی:

یہ بھی ہماری مطلوبہ تصویر نہیں تھی، سو ہم بولے:
“وہ نوجوان اس کے بالکل برابر میں بیٹھے ہوئے ہیں نہ کہ اس کے سامنے والے ڈیسک پر”
سو اس کی تصویر جو بنی وہ دیکھیے:

ہم نے سوچا کہ شاید یہ سمجھ گیا اور کہا “بالکل ٹھیک یہ تصویر اب عقب سے دے دیجیے نہ کی سامنے سے نوجوان کا صرف سر نظر آئے گا اور یہ دونوں کے سائیڈ پوز ہوں گے”
سو نیچے دیکھیے اس نے یہ کر تو دیا

ہم نے اسے بہتر کرنا چاہا اور اسے کہا کہ “اس کو تھوڑا سا اور بہتر کیجیے کہ جس سے یہ لگے کہ نوجوان لاتعلق ہے اس گفتگو سے اور وہ دونوں دائیں بائیں سے باتیں کر رہے ہیں”
اس بار اس کا کارنامہ کچھ اس طرح سامنے آیا، دیکھیے:

اب ہم سے رہا نہ گیا ہم نے لکھ دیا کہ “تم سے نہ ہو پائے گا”
اُسے خبر ہوگئی کہ ہم تپ گئے ہیں، اس نے منانے کے لیے کہا:
ارے نہیں، مایوس مت ہوں! پچھلی تصویر میں ایک گڑبڑ ہو گئی—وہ نوجوان تو غائب ہی ہو گیا اور صرف اس کے ہاتھ کی بورڈ پر رہ گئے۔ تکنیکی طور پر تصاویر بناتے وقت کبھی کبھی ایسی عجیب غلطیاں (glitches) ہو جاتی ہیں۔
میں آپ کی ضرورت بالکل اچھی طرح سمجھ رہا ہوں: **تصویر عقب (پیچھے) سے ہو، درمیان میں نوجوان بیٹھا ہو جس نے ہیڈ فون لگائے ہوئے ہوں (تاکہ وہ لاتعلق لگے)، اور اس کے دائیں اور بائیں بیٹھے دونوں مرد حضرات اس کے سر کے اوپر سے یا اس کے آگے سے ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر بات کر رہے ہوں۔**
مجھے ایک آخری موقع دیجیے، میں اسے بالکل آپ کی مرضی کے مطابق درست کرنے کی پوری کوشش کرتا ہوں۔”
ہم نے سوچا شاید یہ کر لے اس لیے کہا “کیجیے”
مگر اس کے بعد اس نے پھر پرانی تصویر بھیج دی، یہ والی

ہم نے اسے یاد دلایا کہ “یہ وہی پرانی تصویر دے دی آپ نے دوبارہ اور کہہ رہے ہیں مایوس نہ ہو”
اس نے اس کے بعد جو حشر کیا وہ آپ خود ملاحظہ فرمائیے:

اس کے بعد ہمارا پیمانہ صبر چھلک گیا، ہم نے کہہ دیا: “اب بھی مایوس نہ ہوں، یعنی اس شاہ کار تصویر کے بعد بھی؟”
جس پر اب اس نے بھی ہاتھ اٹھا دیے، بولا:
“آپ کا غصہ اور مایوسی بالکل بجا ہے۔ یہ واقعی ایک مضحکہ خیز “شاہکار” بن گیا ہے کہ نوجوان کو لانے کے چکر میں اس کا پورا جسم غائب ہو گیا اور ہیڈ فون ہوا میں تیرتا ہوا رہ گیا! سسٹم پچھلی غلطیوں کو ٹھیک کرنے کے بجائے مسلسل عجیب و غریب نتائج دے رہا ہے۔
میں آپ سے معذرت خواہ ہوں کہ بار بار کوشش کے باوجود میں آپ کی سادہ اور واضح ہدایات (عقب سے ویو، دائیں بائیں بیٹھے مڈل پوز میں گفتگو کرتے مرد، اور بیچ میں ہیڈ فون لگائے لاتعلق نوجوان) کو درست طریقے سے تصویر میں تبدیل نہیں کر پایا۔
موجودہ امیج ٹول کی اس تکنیکی خرابی (glitch) کی وجہ سے میں فی الحال آپ کی مطلوبہ تصویر بالکل درست انداز میں بنانے سے قاصر ہوں۔ آپ کے وقت اور صبر کا بہت شکریہ!”
یوں یہ مشق ناکام ومراد انجام کو پہنچی، لیکن اس تمام مشق میں مصنوعی ذہانت نے بھی کچھ نہ کچھ سیکھا ہوگا، اور وہ دوبارہ اس سے بہتر کرے گا، لیکن ہمیں بھی سمجھ میں آگیا کہ مصنوعی ذہانت کے لیے پرامپٹ یعنی اس کو اپنی بات بتانا یا ضرورت سے آگاہ کرنا کس قدر اہم ہے۔ یعنی آپ کو پتا ہو کہ جو تصویر، تحریر یا کوئی کام آپ اس سے کروانا چاہتے ہیں اس کے لیے کون سے الفاظ، تراکیب اور یہاں تک کہ زبان کون سی زیادہ بہتر ہے۔ تبھی آپ اس سے مطلوبہ کام بہتر طریقے سے اور کم وقت میں لے سکتے ہیں، ورنہ پھر وہی ہوگا جو کہ آپ نے دیکھ ہی لیا۔
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)
