Categories
Education Exclusive Health Interesting Facts Karachi Rizwan Tahir Mubeen Society تعلیم تہذیب وثقافت دل چسپ رضوان طاہر مبین رمضان سمے وار بلاگ

بچپن کی یادوں میں وقت ضائع کرنا!

سمے وار (تحریر: رضوان طاہر مبین)
کبھی کبھی ہم سوچتے ہیں، (جی ہاں، کبھی کبھی ہی سوچتے ہیں، کیوں کہ سوچنے کی عادت کے باوجود روزی روٹی اس کی ‘اجازت’ کم ہی دیتی ہے) کہ زندگی کو جیسے ہم دیکھتے اور محسوس کرتے ہیں، کیا دوسرے بھی ایسے سوچتے ہیں؟ یا پھر صرف ہم ہی ایسے ہیں کہ سوچے جاتے ہیں۔۔۔
جیسے اگر کبھی وقت کی رفتار سست پڑے تو گزرا ہوا زمانہ، بچپن، مدرسہ، اسکول، پرانا گھر، پرانے لوگ، پرانا محلہ، پرانا اسکول، کالج، بچھڑ جانے والے ہم عصر اور گزر جانے والے بڑے۔ خاندان سے گلی محلے تلک، سب کے چہرے، ان کے ساتھ گزری یادیں اور ان سے جڑے دل چسپ حالات و واقعات سب نظروں میں گھومنے لگتے ہیں۔
شاید یہ بھی ایک ‘عیاشی’ ہی ہے کہ “اتنی وقت کی تنگی” میں اب “فضول میں” میں بیٹھ کر ماضی ہو جانے والی باتوں کا اِعادہ کیجیے۔ اس میں سب سے مزے کی بات یہ ہے کہ وہ لوگ جو کسی وقت میں روزانہ ملتے تھے، ساتھ کھیلتے کودتے تھے، ہنستے روتے تھے، سارے تہوار مناتے تھے۔ ایسے جیسے کہ یہ وقت ساری زندگی ہمیشہ ایسے ہی رہے گا۔ یہ صبح سے شام کا ہونا زندگیوں میں کوئی تغیر لائے گا اور نہ ہی وقت میں کسی قسم کا کوئی بھونچال۔۔۔
بس ایسے ہی ہر ہفتے چھٹی والے دن تک آکر زندگی ٹھیر جائے گی اور چھٹی گزر جانے کے بعد پھر اگلی چھٹی کا انتظار کرنا ہی زندگی ہوگا۔ عید گزر جانے کے بعد اگلی دن کے عید گنیں گے۔ بقرعید کے بعد اگلی بقرعید کا انتظار ہوگا، 14 اگست کے بعد اگلے برس کے اس تہوار کے لیے خاطر جمع کریں گے اور وہ اسکول کی دو مہینے کی چھٹیاں۔۔۔ زندگی کا سب سے تیز گزر جانے والے لمحے، گویا سال گزرتا ہی صرف اسی لیے کہ جون جولائی آئیں اور اسکول کا وقت اپنی مرضی سے جینے کے لیے مل سکے۔۔۔ اس دوران اگرچہ مدرسے کا وقت بڑھ جاتا، لیکن ٹیوشن جلدی جاتے اور جلدی واپس آتے اور پھر شام مغرب تلک ایک پوری عمر بتائی جاتی تھی۔ کیا آسودگی اور بے فکری ہوتی تھی، کوئی کٹھنائی اور نہ کوئی دل میں ٹھیس۔۔۔
پھر رمضانوں کی بات تو پوچھیے ہی نہ۔ اس پورے مہینے کے لطف کے فوراً بعد عید جیسا تحفہ، گویا کہ سونے پہ سہاگہ اسی ہی کو تو کہتے ہیں۔۔ پھر رشتے داوں کے ہاں آنا جانا، دعوتیں، بڑوں کی باتیں، بچوں کا اکٹھ۔ کہیں آنے جانے سے یاد آیا کہ گئے وقت میں ہم سب کتنے “فارغ” ہوتے تھے کہ یونھی بغیر کسی “وجہ” کے بھی اپنے رشتے داروں کے ہاں ملنے جاتے تھے، مطلب یہ ہے کہ کوئی تہوار یا خوشی غمی کے موقعے کے بغیر بھی ان کے ہاں چلے جاتے تھے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ مہنگائی، اور زندگی کی مشکلات اس کچھ وقت کے لیے ہم سے دور چلی جاتی تھیں، ہم اپنے حال کی مشکلات سے آزاد محسوس ہوتے تھے اور رہے ہم بچے تو وہ تو جیتے ہی مستقبل میں تھے!
آنے والا کل!
بس کل یہ کھائیں گے، فلاں دن وہاں جائیں گے، تب یہ کھیلیں گے، پھر یہ خریدیں گے۔ اگلی بار وہاں ایسے گھومیں گے، ایسا کریں گے ویسا کریں گے وغیرہ وغیرہ۔ اس سے بالکل بے نیاز کہ یہ روز وشب کا یہ گھن چکر ہمیں رفتہ رفتہ اس وقت سے ہی نہیں بلکہ پوری زندگی سے ہی دور کر رہا ہے۔ ۔ ۔ یہ ہمیں اس بے فکر بچپن سے نکال کر آگے لیے جا رہا ہے۔ ہم اس حوالے سے سوچ ہی نہیں رہے، شاید ٹھیک ہی کر رہے ہیں کہ اگر تب بھی اسی فکر کو لے کر پلکیں بھگوتے تو پھر اس وقت میں آج میں کیا فرق رہا جاتا۔ بلکہ ہم تو کچھ نہ کچھ تب بھی سوچتے ہی تھے، گزرے ہوئے وقت کے بارے میں۔ سب سے پہلے نانی کا پرانا گھر۔ پھر ہمیں خود بھی گھر کی تبدیلی سے گزرنا پڑا تو اس ‘ہجر’ کو خود بھی بہت محسوس کیا، یہی نہیں پرائمری اسکول کی تکمیل پر سیکینڈری شفٹ میں جانا بھی ایک الگ ‘جدائی’ کا احساس بنا تھا۔
وقت گزرتا گیا، گزرتا ہی رہا۔ سوچ ہم یہ رہے تھے کہ ہم نے کبھی اپنے بچپن یا گزرے ہوئے وقت کو فراموش نہیں کیا، لیکن اکثر ایسا ہوا کہ جن لوگوں، جن احباب یا جن افراد کے بارے میں ہم گھنٹوں سوچتے، ہزاروں لفظ لکھ لیتے، کیا وہ بھی کم ہی سہی، لیکن کبھی ایسی یادوں میں جیتے ہوں گے؟
ہم جن سے کبھی نہ مل سکنے یا بہت دنوں سے نہ مل سکنے پر اداس ہوتے ہیں، اس وقت کی کمی محسوس کرتے ہیں، دل پر اس کا ایک عجیب سا درد محسوس کرتے ہیں، وقت کے بدلائو کا ‘دکھ’ جھیلتے ہیں، حالاں کہ یہ وقت کا گزرنا اور اس کا بدلنا کسی کے ہاتھ میں نہیں۔
ہمارا خیال ہے شاید نہیں! کیوں کہ ایسے جتنے ہم عمروں سے ملے، ان کی شخصیت ہی بدل چکی تھی، بے دھڑک ملاقاتوں والی بات کم ہی دیکھنے میں آسکی۔ زندگیوں کے تقاضے اور راستے بدل چکے تھے۔ یہ سب بدلائو تو ہمارے ساتھ بھی ہوا، لیکن ہم اب بھی اپنے اندر اسکول والا دور یا پرانے گھر اور پرانے تہواروں کا سا احساس تازہ رکھتے ہیں۔ دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ ان یادوں یا ساجھے ماضی کے باوجود یار لوگ بہت آگے جا چکے، شاید ان کے لیے اس گزر جانے والی وقت کی کوئی وقعت نہیں رہی، یا پھر وہ اس کا احساس نہیں پاتے کہ جیسا ہم پاتے ہیں۔ یا پھر شاید انھیں اس طرح یہ سب یاد ہی نہ ہو یا پھر یاد ہی نہ آتا ہو۔ لیکن ہم تو ایسے نہیں ہیں۔
کیا آپ بھی ایسے سوچتے ہیں؟
۔
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Verified by MonsterInsights