سمے وار (رپورٹ: سعد احمد)
جمعرات 11 جون 2026 کو کراچی آرٹس کونسل میں پیپلز پارٹی نے ایک سیمینار بہ عنوان: ’’کراچی کو وفاق کے ماتحت چلانے، این ایف سی ایوارڈ میں کتوتی،18 ویں ترمیم اور صوبائی خودمختاری کے خلاف باتیں سندھ کو ون یونٹ کی طرف دھکیلنے کی سازش تو نہیں‘‘
منعقد کیا گیا۔ اس طویل عنوان کو نظر انداز کرکے پہلے اس کا احوال ملاحظہ کیجیے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی بولے:
کراچی کوئی لاوارث نہیں سندھ کا بیٹا ہے، ہم سندھ کی تقسیم کا یہ خواب پورا نہیں ہونے دیں گے۔ وفاق کو اتنا ہی شوق “چُرایا” (جی ہاں موصوف ایک گھاگ شاعر ہیں، لیکن اس کے باوجود انھیں چَرایا اور چُرایا کا فرق نہیں معلوم) ہے تو لاہور کو وفاق کے حوالے کریں! صرف کراچی پر ہی نظر کرم کیوں؟ سندھ ایک ہے اور سندھ ایک رہے گا،
ایکسپریس کے کالم نگار اور ڈان نیوز کے میزبان وسعت اللہ خان نے نسبتاً دوسرے طریقے سے پیپلزپارٹی سے پوچھا کہ وہ کراچی اور شہری سندھ تک فنڈز کیوں منتقل نہیں کرتی؟ اگر اسلام آباد صرف پنڈی کو سنبھال لے تو سارا مسئلہ ہی حل ہو جائے، پیپلز پارٹی پارلیمنٹ میں ووٹ نہیں کرے گی تو کوئی قانون کیسے بن سکتا ہے۔
پیپلز پارٹی کے سندھ سے سینیٹر ضمیر گھمرو نے باقی مقررین کے برخلاف سندھی زبان میں اظہار خیال کیا کہ کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی باتیں 1948 سے ہو رہی ہیں۔ 2020 تک وفاق کے لوگ میئر بن کر آئے!
سندھی قانون دان شہاب سرکی کا کہنا تھا کہ پاکستان 1940 کی قرارداد کے تحت بنا، کراچی سندھ کا ایک مضبوط حصہ ہے۔ پیپلزپارٹی کو موقع دیں کہ وہ کام کریں۔ سندھ پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے۔
ممتازصحافی مظہر عباس گویا ہوئے: ہم صوبے کی لڑائی نہیں لڑ پا رہے، ہم مصلحتوں کے شکار ہیں، جب جمہوریت کمزور ہو شوشے چھوڑے جاتے ہیں، اگر پیپلز پارٹی کو فکر ہے کہ سندھ تقسیم ہوگا تو پی پی وفاق میں کیوں ہے۔ اگر یہ سب کچھ ہوگیا تو پھر سہولت کار تو آپ بھی ہوں گے۔ مقامی حکومتوں کو با اختیار کیوں نہیں کیا جا رہا ہے۔
سیمنار میں ڈراما نگار اور آرٹس کونسل کی عہدے دار نورلہدی شاہ بھی موجود تھیں، بولیں: جب سندھ کا معاملہ آئے گا تو پورا سندھ متحد ہوگا،کراچی کو علحدہ کرنے کی باتیں وفاق سے ہو رہی ہیں۔ سندھ وہ ہے جس نے پاکستان بنایا ہے
پیپلزپارٹی کے سینیٹر رضا ربانی فرماتے ہیں: تاریخی طور پر کراچی نہ سندھ سے الگ ہے نہ سندھ سے الگ ہو سکتا ہے۔ جو لوگ کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کی بات کرتے ہیں وہ وفاق اور صوبے میں دو تہائی اکثریت لائیں۔
اس سیمنار میں کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کے یا سندھ سے الگ کرنے کے خلاف قرارداد بھی منظور کرائی گئی۔
پیپلزپارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو تقریب کی صدارت کر رہے تھے، جب کہ آرٹس کونسل کے مرکزی عہدے دار ایوب شیخ نے نظامت کی۔
اس پورے پروگرام کی دل چسپ ترین بات اس کے مقررین تھے۔ کتنی دل چسپ بات ہے کہ
تقریب کے صدر نثار کھوڑو لاڑکانہ، مہمان خصوصی رضا ربانی لاہور، نظامت کرنے والے ایوب شیخ سکھر سے تعلق رکھتے ہیں۔۔۔
اسی طرح نورالہدی شاہ، شہاب سرکی، ضمیر گھمرو کا بھی کراچی سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ ان کی پیدائش بھی کراچی کی نہیں۔۔۔
یہاں تک کہ فاضل جمیلی ہری پور ہزارہ سے کراچی آکر احمد شاہ کی طرح کراچی پریس کلب کے صدر بن گئے، جیسے احمد شاہ کراچی آرٹس کونسل پر تسلط قائم کیے ہوئے ہیں۔
اور تو اور 9 مقررین میں سے صرف 2 مہاجر مقررین یعنی مظہر عباس اور وسعت اللہ خان کی پیدائش بھی کراچی کی نہیں۔ مظہر عباس حیدرآباد اور وسعت اللہ خان رحیم یار خان میں پیدا ہوئے۔۔
اس سے اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ اس سیمنار کے مقررین بھی ‘کراچی والے’ نہ ملے۔ 9 میں سے 2 مہاجر ملے، وہ بھی مصلحت پسند اور پیپلزپارٹی کی ہاں میں ہاں ملانے والے۔ تو اس حکم راں جماعت کی حالت کیا ہوگی۔
وما علینا الا بلاغ المبین!
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)
