Categories
Education Exclusive Health Interesting Facts Karachi Sarah Shahida Society انکشاف تعلیم تہذیب وثقافت خواتین دل چسپ سارہ شاہدہ سمے وار بلاگ سمے وار- راہ نمائی کراچی

گلیوں میں کنگھی کے ٹوٹے بالوں کے پراسرار خریدار؟

سمے وار (تحریر: سارہ شاہدہ)
چیزوں کے نرخ کا اصول یہ ہے کہ ان کے حجم، استعمال اور ضرورت کے حساب سے ان کی قیمت بہ حوالہ وزن متعین کی جاتی ہے، جیسے عام مسالا جات کو ہم پائو ۤآدھا پائو، بلکہ اس سے بھی کم یعنی چھٹانک اور 100 گرام تک کی قیمت میں معلوم کرتے ہیں، کیوں کہ ان کا استعمال اتنی ہی مقدار میں ہوتا ہے۔ اس میں ہری مرچیں، سرخ مرچیں اور کالی مرچیں سبھی شامل کی جا سکتی ہیں۔
ایسے ہی آٹے کو کبھی ایک کلو سے کم میں نہیں بتایا جاتا، بلکہ بعض صورتوں میں اس کے پانچ، دس کلو تھیلے سے لے کر اس کی فی من قیمت تک میں بات کی جاتی ہے، کیوں کہ اس کی کھپت بہت زیادہ ہوتی ہے، لوگ اسے زیادہ مقدار میں خریدتے ہیں اور یہ روز مرہ کی غذائی ضرورت کو پورا کرتا ہے۔ ایسے ہی پھلوں کو بھی عموماً کلو کے حساب سے ہی بتایا جاتا ہے تاآں کہ بہت مہنگا اور کم یاب پھل نہ ہو۔
امید ہے کہ آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ کس طرح مختلف چیزوں کو مختلف پیمانوں میں بتایا جاتا ہے۔
اب اگر آپ یہ سنیں کہ گلی میں کوئی پھیری والا آواز لگاتا ہے کہ کنگتی کے ٹوٹے ہوئے بال بیچ لو آٹھ ہزار روپے کلو!
تو یقیناً آپ اس کی عقل پر شک کریں گے یا اس کی حماقت پر ہنسیں گے کہ کیسا جاہل آدمی ہے کہ اگر کوئی انسان ساری زندگی کے اپنی کنگھی کے ٹوٹے ہوئے بال بھی جمع کرے تو تب بھی جانے وہ کلو، آدھا کلو بھی ہوسکیں گے یا نہیں؟
چلیے اگر کوئی خاتون “آٹھ ہزار روپے” کی لالچ میں آکر اپنے سر کے بالوں کی پوری چوٹی بیچنے کے لیے آمادہ ہوجاتی ہے تو اس کا وزن بھی آدھا کلو کیا ایک پائو تک بھی نہیں ہوسکتا۔
پھر پاکستان میں ایک خاتون کے سر کے تمام بالوں کا وزن اوسطاً 150 گرام تک ہو سکتا ہے۔ تب گلیوں میں ایسے بے تکے آوازے لگانے والے چہ معنی؟
اول تو انسانی سر کے بالوں کو ایسے خریدنے کی کیا آفت آگئی ہے کہ یہ گلی گلی جا کر آوازیں لگا رہے ہیں، دوسرا اس کے پیچھے لوگوں کو اتنی تمیز بھی نہیں ہے کہ وہ انسانی سر کے بالوں کو کلو کے حساب سے خریدنے کے لیے چلا رہا ہے، وہ بھی کنگھی کے ٹوٹے ہوئے بال۔ ایک دن میں اگر پورے محلے کے لوگ بھی اپنی کنگھیوں کے ٹوٹے ہوئے بال جمع کردیں تب بھی یہ چھٹانک بھر نہ ہوں گے!
کوئی ان سے پوچھتا بھی نہیں ہے کہ کنگھی سے ٹوٹے ہوئے بال تو شاید ایک سے دو گرام کے بھی نہ ہوں تم اسے کس نشے میں کلو میں خریدنے کی بات کر رہے ہو۔۔ اور ایک نہیں کئی خریدار آرہے ہیں جو کوئی آٹھ تو کوئی دس ہزار روپے کلو میں خریدنے کی آواز لگاتے ہیں اور کوئی ان کو پوچھنے والا نہیں کہ آیا یہ ماجرا کیا ہے۔ آخر ان بالوں کو خرید کر کیا کرا جا رہا ہے اور اس کے پیچھے مقصد کیا ہے؟
کہنے کو انسان بالوں کی “وِگ” بنائی جاتی ہے اور حجاموں اور پارلروں سے ان بالوں کو خرید لیا جاتا ہے، لیکن آپ تو کراچی میں کچرا کنڈیوں سے بھی دیکھا گیا ہے کہ بالوں کو چُنا جا رہا ہے۔ ایسے میں یہ معاملہ بہت مشکوک ہو جاتا ہے کہ کیا کوئی تحقیق کی جارہی ہے، جس کے لیے زیادہ سے زیادہ انسانی بالوں کے نمونے درکار ہیں۔ ان کے ذریعے کوئی ڈیٹا حاصل کیا جا رہا ہے، ان بالوں کی تحقیقات سے کچھ مقاصد حاصل ہونے ہیں اس کی بنیاد پر مستقبل کی کوئی منصوبہ بنندی ہونی ہے، کوئی دوا بننی ہے، یا کوئی اس سے بھی بڑھ کر انسانی بیماریوں کے حوالے سے کچھ اچھا یا برا مقصد حاصل کرنا ہے۔ ہنوز یہ معاملہ پردہ اخفا میں ہے۔ نہ ہی کسی خبرنامے یا اخبار اور نہ ہی کسی اور جگہ اس حوالے سے خبریں سامنے آئی ہیں۔۔
۔
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Verified by MonsterInsights