سمے وار (تحریر: منیر پٹھان)
تحریر کا عنوان آپ کو عجیب سا لگ رہا ہوگا، لیکن یہ عجیب نہیں، بلکہ دردناک ہے۔ آپ نے شہر میں مختلف جگہوں، جیسے کسی فٹ پاتھ، کسی چوراہے یا کسی اور کھلی جگہ پر بہت سے جنگلی کبوتر دیکھے ہوں گے، جو زمین سے دانہ چگ رہے ہوتے ہیں۔ قریب ہی کوئی شخص تین چار بورے لیے بیٹھا ہوگا۔ لوگ اس کے پاس سے دانہ خریدتے ہیں اور کبوتروں کے جھنڈ میں گھس جاتے ہیں۔ کبوتر چھوٹی سی اڑان بھرتے ہیں، پھر نیچے آ جاتے ہیں۔ وہ شخص انہیں دانہ ڈالتا ہے اور مطمئن ہو کر چلا جاتا ہے۔ اس کے دل میں ایک سرشاری ہوتی ہے کہ اس نے ایک نیک کام کر لیا۔
ایسے ہی کسی فٹ پاتھ، کسی چوراہے یا کسی ہوٹل کے سامنے بھی ہجوم ہوتا ہے، لیکن یہ ہجوم کبوتروں کا نہیں، انسانوں کا ہوتا ہے، جو انتظار کرتے ہیں کسی سیلانی کا، کسی جے ڈی سی کا، کسی چھیپا کا، کسی جماعتِ اسلامی کا یا کچھ مخیر لوگوں کا۔ وہ آتے ہیں، کھانا تقسیم کرتے ہیں اور اس کھانے کے بدلے کھانا کھانے والوں کی عزتِ نفس لے جاتے ہیں۔ ممکن ہے، ان میں سے کسی کو ابتدا میں کچھ جھجھک ہو، لیکن دو تین بار مفت کا کھانا کھانے کے بعد ساری جھجھک دور ہو جاتی ہے۔ وہ اپنی عزتِ نفس لپیٹ کر ایک طرف رکھ دیتے ہیں۔ اگلے دن اپنے ساتھ دو چار اور لوگوں کو بھی لے آتے ہیں۔ تینوں وقت کا کھانا مل جاتا ہے، بغیر محنت کیے، تو پھر محنت کرنے کی کیا ضرورت ہے؟
ان درد مند لوگوں نے انسانوں سے تو ان کی عزتِ نفس چھینی ہی تھی، پرندوں سے قدرت کی طرف سے ودیعت کردہ ایک صفت بھی چھین لی۔ وہ پرندے جو بلند فضاؤں میں پرواز کر کے اپنا رزق تلاش کرتے تھے، اپنی پرواز بھول گئے۔
یہ درد مند لوگ غریب پیدا کرنے والی مشینوں کے مالک ہیں۔ شہر کے لوگوں کو تو غریب بنا ہی رہے ہیں، اب دوسرے شہروں سے آنے والے لوگ بھی یہاں آ کر غریب بن رہے ہیں۔
میں نے ایک دس، گیارہ سالہ بچے کو دیکھا، جس کے ہاتھ میں دس، بیس، پچاس اور سو روپے کے نوٹ تھے۔ وہ ایک دکان پر آیا اور دکاندار کو پیسے دیتے ہوئے کہا:
“گن لو، پورے دو ہزار ہیں۔”
میں نے دکان دار سے پوچھا، “یہ کیا معاملہ ہے؟”
وہ کہنے لگا “ہمیں کھلے پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے اور انہیں بندھے ہوئے نوٹوں کی۔ دونوں کا کام ہو جاتا ہے۔”
میں نے بچے سے پوچھا، “یہ پیسے کتنی دیر میں جمع کیے؟”
بولا، “چار پانچ گھنٹے میں۔”
میں نے پوچھا، “اب چار پانچ گھنٹے بعد پھر اتنے ہی جمع کرو گے؟”
بولا، “ہاں، پھر ہم گھر چلے جائیں گے۔”
میں نے پوچھا، “ہم؟ تمہارے ساتھ اور کون ہے؟”
کہنے لگا، “دو بہنیں، ایک بھائی اور ایک ماں۔”
“تو کیا سب اتنے ہی پیسے جمع کرتے ہیں؟”
کہنے لگا، “ہاں۔”
یعنی پانچ بھکاری روزانہ بیس ہزار روپے کماتے ہیں۔
کیا ان میں سے کوئی محنت مزدوری کرے گا؟
اور جن درد مند لوگوں نے انہیں یہ پیسے دیے، ان میں سے بہت سے شاید خود بھی اتنا نہیں کماتے ہوں گے۔
ایک زمانہ تھا، ٹیلی وژن پر مرحوم طارق عزیز کا نیلام گھر آتا تھا۔ بڑی مشقتوں سے اس کا پاس ملتا تھا، اور بہت مشکل علمی سوالوں کے جواب دینے کے بعد کہیں جا کر ایک واٹر کولر ملتا تھا۔ موٹر سائیکل یا کار جیتنا تو گویا دیوانے کا خواب ہوتا تھا۔
اور یہ خواب بھی وہی لوگ دیکھتے تھے، جو علم کے سمندر میں غوطے لگا رہے ہوتے تھے۔ وہ بھی کسی ایک پروگرام میں نہیں، بلکہ کئی مقابلوں کے بعد یہ مرحلہ آتا تھا۔
شعری مقابلے، یعنی بیت بازی میں ایسے ایسے ذہین لوگ دیکھنے کو ملتے تھے، جن کے شعری ذوق پر رشک آتا تھا۔
پھر ایک دور آیا فہد مصطفیٰ کے جیتو پاکستان کا، جہاں ایک ہی دن میں کئی کئی موٹر سائیکلیں مسخرہ نما لوگوں کو احمقانہ حرکات کرنے پر مل جاتی ہیں۔ جب وہ آواز لگاتا ہے، “کہاں ہیں لڑکیاں؟” تو پچاس، پچپن سالہ خواتین بھی لچکتی مٹکتی اپنی نشستوں سے اتر آتی ہیں۔
کسی کا وزن بے ڈول اور بے ہنگم ہو تو اسے بھی موٹر سائیکل مل جاتی ہے۔ اور پھر اس موٹر سائیکل پر فہد مصطفیٰ کے ساتھ پیچھے بیٹھنا گویا ایک اعزاز سمجھا جاتا ہے۔
ہم کس سمت جا رہے ہیں؟
یہ کون سی ترقی ہے، جہاں ہم انسانوں کو ان کی عزتِ نفس سے محروم کر رہے ہیں؟ کیا عزتِ نفس سے عاری قوم اقوامِ عالم میں سر اٹھا کر جی سکتی ہے؟
ذرا سوچیے۔
.
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)
Categories
حرام خوروں اور بھکارویوں کا کراچی؟
