Categories
Education Exclusive India Interesting Facts Karachi KU اردوادب انکشاف تعلیم تہذیب وثقافت جامعہ کراچی دل چسپ سندھ قومی تاریخ قومی سیاست کراچی مہاجرقوم ہندوستان

بھارت میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والا۔!

سمے وار (تحریر: ابصار احمد)
یہ 28 جون کی ایک اداس شام تھی۔ میرٹھ کی فضائیں سوگوار تھیں، درخت خاموش کھڑے تھے اور “مصطفیٰ کاسل” کا ہر گوشہ ایک ایسے مردِ درویش کی جدائی پر اشک بار تھا جس نے اپنی زندگی قوم کی بیداری، ملت کی سربلندی اور تحریکِ پاکستان کی آب یاری کے لیے وقف کر دی تھی۔ جب ان کا جسدِ خاکی دہلی لے جایا گیا اور حضرت خواجہ نظام الدین اولیاؒ کے آستانے میں سپردِ خاک ہوا تو گویا برصغیر کے مسلمانوں کی سیاسی جدوجہد کا ایک درخشاں باب مکمل ہوا جس کی روشنی آج بھی پاکستان میں تاباں ہے ۔
نواب محمد اسماعیل خاں اُن راہ نماؤں میں سے تھے، جنھوں نے تحریکِ خلافت، مسلم اتحاد اور تحریکِ پاکستان۔۔۔ تینوں ادوار میں اپنی بے مثال صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ تحریکِ خلافت کے زمانے میں آل انڈیا خلافت کمیٹی کی مجلسِ عاملہ کے رکن اور یوپی خلافت کمیٹی کے صدر کی حیثیت سے انہوں نے وہ ذمہ داریاں انجام دیں جو علی برادران کی اسیری کے دوران تحریک کو زندہ رکھنے میں بنیادی حیثیت رکھتی تھیں۔
برصغیر کے مسلمان جب سیاسی انتشار کا شکار تھے، نواب اسماعیل خان نے مختلف مسلم جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی بھرپور کوشش کی۔ اگرچہ یہ کوششیں مکمل کامیاب نہ ہو سکیں، لیکن انھی تجربات نے انھیں اس نتیجے تک پہنچایا کہ مسلمانوں کی حقیقی سیاسی قیادت صرف آل انڈیا مسلم لیگ ہی کر سکتی ہے اس لیے وہ قائداعظم محمد علی جناح کے قابلِ اعتماد رفیق بن گئے اور پھر آخری دم تک آل انڈیا مسلم لیگ کا پرچم تھامے رکھا بلکہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ شہید ملت لیاقت علی خاں کے عہد میں وہ کراچی آئے تو شہید ملت نے ان کی خدمات دیکھتے ہوئے انھیں وزارت عظمی کی پیشکش بھی کردی تھی!
یوپی جیسے مسلم اقلیتی صوبے میں مسلم لیگ کی تنظیم سازی نواب اسماعیل خاں کا ایسا کارنامہ ہے جس کا اعتراف خود قائداعظم نے بھی کیا۔ ان کی ولولہ انگیز تقاریر، شائستہ اندازِ گفتگو اور غیر معمولی تنظیمی صلاحیت نے ہزاروں مسلمانوں کو مسلم لیگ کے قافلے میں شامل کیا۔ وہ جہاں بھی جاتے، پہلے اس شہر کی تہذیب اور اہلِ شہر کی تعریف کرتے، پھر حالاتِ حاضرہ کا تجزیہ پیش کرتے اور آخر میں نہایت مدلل انداز میں مسلم لیگ کا پیغام عوام تک پہنچاتے۔
دسمبر 1929ء میں جب آل انڈیا مسلم لیگ دھڑے بندی کا شکار تھی اور نہرو رپورٹ پر مسلمانوں میں بے چینی پائی جا رہی تھی تو دوسری جانب قائد اعظم نے اپنے 14 نکات پیش کرکے مسلمانوں کی ترجمانی کی اس موقع پر نواب صاحب نے لاہور میں ایک عظیم الشان جلوس کا اہتمام کیا جس میں کہتے ہیں کہ لاکھوں مسلمان شریک ہوئے۔ یہ جلوس اتنا بڑا تھا کہ مسلمانوں کی مکمل قوت محسوس ہونے لگا ۔اس کا مقصد یہی تھا کہ مسلم لیگ کی دھڑے بندی ختم کرکے قائد اعظم کو متفقہ طور پر آل انڈیا مسلم لیگ کا سربراہ مقرر کیا جائے ۔ بس یہاں لیگ کے دونوں دھڑوں نے اندازہ لگا لیا کہ مسلمانوں کا جھکاؤ قائد اعظم کی قیادت پر ہے اس طرح قائداعظم جو لندن میں مقیم تھے، انھیں واپس لانے کی کوششیں شروع ہوگئیں!
1930ء میں علامہ محمد اقبالؒ کی رخصتی کے بعد آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس کی صدارت کرنا، مسلم لیگ کے آئین کی نظرثانی کے لیے منتخب ہونا، قراردادِ لاہور کے تاریخی اجلاس میں مسلمانوں کی نمائندہ آواز کو قائداعظمؒ کی آواز قرار دینا اور 1943ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کی مجلسِ عمل کا چیئرمین منتخب ہونا، ان کی غیر معمولی سیاسی بصیرت اور قائدانہ صلاحیتوں کا واضح اعتراف تھا۔
تاریخ کا ایک دل چسپ منظر یہ بھی ہے کہ 1937ء میں قائداعظم محمد علی جناح نے جلسہ گاہ میں جانے سے قبل نواب محمد اسماعیل خان سے ان کی سیاہ سموری ٹوپی مانگی۔ قائداعظم نے وہ ٹوپی پہنی تو وہی بعد میں “جناح کیپ” کے نام سے برصغیر کے مسلمانوں اور پھر پاکستان کی قومی شناخت کا حصہ بن گئی۔
قیامِ پاکستان کے بعد انہوں نے بھارت میں رہنے کا فیصلہ کیا تاکہ وہاں رہ جانے والے مسلمانوں کے حقوق اور مفادات کی نگہ بانی کر سکیں، جب کہ اپنی اولاد کو پاکستان بھیجا تاکہ وہ نئے وطن کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرے۔ یہ فیصلہ ان کی قومی بصیرت، ایثار اور وسیع النظری کا آئینہ دار تھا۔ وہ 1947ء سے 1948ء تک علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر بھی رہے جہاں انھوں نے اس تاریخی جامعہ سے “مسلم” کا لفظ حذف نہ ہونے دیا۔
آج نواب صاحب کے پوتے نواب اسد اسماعیل خاں اور پوتی عائشہ اسلام پاکستان میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ اسد خاں بطور سول انجینیئر پاکستان کی کئی اہم عمارتوں کے نقشے تیار کر کے ہیں جبکہ اہم سرکاری تنصیبات میں توسیعی کام بھی ان کی نگرانی میں ہوا جن میں پارلیمنٹ ہاؤس کی لاج کے علاؤہ پاک بحریہ کا ہیڈکوارٹر بھی شامل ہے ۔ جب کہ محترمہ عائشہ اسلام ایک نامور سماجی رہنما کے طور پر بھی پہچانی جاتی ہیں۔
28 جون 1958ء کو نواب محمد اسماعیل خاں اس جہانِ فانی سے رخصت ہوئے، مگر تحریکِ پاکستان کی تاریخ جب بھی وفاداری، تنظیم سازی، اصول پسندی اور قائداعظم کے مخلص رفقا کا ذکر کرے گی، نواب محمد اسماعیل خان کا نام احترام اور عقیدت کے ساتھ ہمیشہ زندہ رہے گا۔
.
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Verified by MonsterInsights