Categories
Education Exclusive Health Interesting Facts Karachi Media MQM PPP Saad Ahmad Society انکشاف ایم کیو ایم پیپلز پارٹی تعلیم تہذیب وثقافت جامعہ کراچی دل چسپ سعد احمد سمے وار بلاگ سندھ کراچی مہاجرقوم

جامعہ کراچی: سیاہ بینر والے سوچیں کل کون آنے والا ہے؟

سمے وار (تحریر: سعد احمد)
جامعہ کراچی میں موجودہ وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی کی رخصتی پر سیاہ بینر آویزاں ہیں، جس پر مختلف طرح کے اشعار اور ان کی رخصتی پر اظہار اطمینان اور یوم نجات کی طرح کی باتیں لکھی گئی ہیں۔
ایک بینر پر رئیس الجامعہ وزیراعلیٰ سندھ کو قرار دیتے ہوئے ان سے اپنے مطالبات کی منظوری کا مکھن لگایا گیا ہے۔ یعنی ہوئے بیمار جس کے سبب اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں.
ایسے سارے بینر ملازمین اور اساتذہ کی انجمنوں نے آویزاں کیے ہیں، اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ڈاکٹر خالد عراقی ایک متنازع اور بدنام وائس چانسلر رہے۔ انھوں نے دھینگا مشتی، دروغ گوئی اور تنازعات کے ریکارڈ کو توڑنے کی کوشش کی، لیکن انھوں نے یہ سب پیپلز پارٹی اور وڈیرا شاہی کی آشیرواد سے کیا۔
2019 میں جب ڈاکٹر اجمل انتقال کرگئے تو اچانک انھیں وائس چانسلر بنایا گیا، ان کی مسند قائم مقام تھی، لیکن وہ اس پر 3 سال نکال گئے۔ ذلت اتنی کہ ہائیکورٹ نے نکال باہر کیا، لیکن یہی وزیراعلیٰ سندھ انتے ہٹ دھرم نکلے کہ انھیں دوبارہ وائس چانسلر بنا دیا اور اس کے بعد انھوں نے دوسری اننگ شروع کی اور وہی حرکتیں دوبارہ کیں۔ بے شمار وعدوں سے مکرے اور میڈیا میں اپنے من پسند لوگوں کے ذریعے غالب ہونے کی کوشش کی، اساتذہ کی ہڑتال پر ان کے خلاف پروپیگنڈے کروائے، بیٹ رپروٹروں کو گود میں لیا اور پھر اللہ دے اور بندہ لے والا معاملہ سب نے دیکھا۔۔۔۔
آج وہی پیپلز پارٹی اپنے مفادات کے ٹکرائو کی وجہ سے خالد عراقی کو کھڈے لائن لگا رہی ہے اور جامعہ کراچی کے معصوم اساتذہ اسی پر یوم نجات منا رہے ہیں۔ بہت سی سوشل میڈیا پوسٹ پر اسے فلاں کا کارنامہ اور فلاں کی جدوجہد کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ حالاں کہ دنیا کو پتا ہے کہ خالد عراقی اب منظور نظر نہیں رہے۔ اور یہ لوگ اسی وزیراعلیٰ سے مدد مانگ رہے ہیں جس نے عراقی کی مدد سے ان کو رسوا کیا اور ان کے سروں پر خالد عراقی کو دو بار مسلط کیا۔
کتنے عجیب لوگ ہیں؟ یہ نہیں دیکھ رہے کہ آنے والے دنوں کے لیے قائم مقام بھی ایک غیر مقامی اور غیر جامعی ڈاکٹر جوکھیو کو لایا گیا ہے، جو نوشتہ دیوار ہے کہ آنے والے دن میں شاید عراقی سے بھی برا ہونے والا ہے۔ یعنی پیپلز پارٹی کی من مانی اور بد تر طریقے سے جاری ہوگی اور عراقی سے زیادہ برا ہونے کے خدشات اب بڑھ چکے ہیں۔۔۔
اس لیے بینروں پر ’’یہ کون بول رہا تھا خدا کے لہجے میں‘‘ کے بہ جائے ’’وطن کی فکر کر ناداں مصیبت آنے والی ہے‘‘ لکھوا لیں تو بہتر ہے۔
.
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Verified by MonsterInsights