سمے وار (تحریر: رضوان طاہر مبین) ’دُہری ملازمت‘ آپ کے لیے ایک بڑا سکون بھی ہو سکتی ہے اور بھرپور اذیت بھی۔ دوسری ملازمت کرنے میں سکون یہ ہوتا ہے کہ اگر آپ کی ایک ملازمت چُھوٹ جائے، تو دوسری ملازمت کے ذریعے آپ اپنی ’گزر بسر‘ تو کر ہی سکتے ہیں، لیکن دوسری طرف اگر ایک ملازمت سے گزارا ہی نہ ہو اور آپ مکمل طور پر انحصار ہی دو ملازمتوں پر کر رہے ہوں، تو ایسی صورت میں زندگی سے سکون کا عنصر بالکل غائب ہو جاتا ہے۔ یوں بھی ’ملازم آدمی‘ کی زندگی تو خود ہی ایک ’المیہ‘ ہوتی ہے، اور کہاں یہ کہ وہ دو، دو جگہ نوکری کرتا پھرے۔
دوسری نوکری کا جاں گسل ہونا، کسی مرد کے دو بیویاں رکھنے جیسا کٹھن مرحلہ ثابت ہوتا ہے، اگر یہ صورت ’تُہری ملازمت‘ تک پہنچ جائے، تو پھر آپ اسے تین بیویوں کے شوہر کی ’حالت زار‘ تک دراز کر سکتے ہیں۔ ایسے میں پہلی نوکری بعینہ وہ کردار ادا کرتی ہے، جو کہ روایتی طور پر پہلی بیوی کا قرار پاتا ہے، یعنی شکوے شکایات، اعتراضات اور وقت اور توجہ نہ دینا وغیرہ۔ چاہے آپ دوسری ملازمت کی خبر پہلی جگہ کریں یا نہ کریں، ہر دو صورت میں پہلا دفتر آپ پر اپنا بھرپور حق جتائے رکھتا ہے، اس کا بس نہیں چلتا کہ کسی طرح وہ دوسری ملازمت سے بے دخل ہی کرا دے یا آپ کو اپنے ہاں سے مستعفی ہونے پر مجبور کر دے۔ وہ دفتر یہ سمجھنے سے بالکل قاصر رہتا ہے کہ کوئی بھی بھلا آدمی جب ایک نوکری خوشی سے نہیں کرتا، تو دو جگہ کیوں اپنے پیر پھنسائے گا۔ پھر جب پہلی نوکری اپنے معیاری وقت کی پاس داری کے ساتھ سخت پابندی¿ وقت کا تقاضا بھی کر دے، تو ایسے میں بہت زیادہ دشواری پیش آتی ہے کہ اب کہاں جائیے گا؟ ایک طرف پہلی نوکری کے ’لوازمات‘ ہوتے ہیں، تو دوسری طرف، دوسری نوکری والا بھی جو کہ اکثر آپ کی پہلی نوکری سے آگاہ ہوتا ہے، وہ بھی کسی نہ کسی طور دباﺅ ڈالتا رہتا ہے اور اسے آپ کی پہلی نوکری سے کوئی سروکار ہوتا ہے اور نہ وہاں کے مسائل سے۔ وہ بھی تو پیسے دے رہا ہے، تو اسے بھی اپنا کام وقت پر چاہیے۔ الغرض ’دُہرا ملازم‘ پوری طرح ’دُہرا‘ ہوا جاتا ہے اور ہر دو جگہوں پر کسی ’شٹل کاک‘ یا چکی کے دو پاٹوں کے درمیان جیسی حالت میں ہوتا ہے۔
دوسری نوکری پر مجبور لوگوں کی کسی ”اچھی جگہ“ نوکری نہ کرنے کو ان کا دفتر ان کی ’کمزوری‘ بنا لیتا ہے۔ اُسے لگتا ہے کہ وہ بہت شان دار قسم کا ادارہ ہے، یا پھر اس کے ملازم ہی میں کوئی ’کمی‘ ہوگی، تبھی تو وہ کسی اور جگہ نوکری کرنے کے بہ جائے برسوں سے انھی کے دَر پر پڑا ہوا ہے۔ ورنہ اُس نے پکڑ کر تھوڑی بٹھایا ہے کہ کم اور نہ بڑھنے والی تنخواہ میں خود کو گھسواتے رہو!
یہاں پہلے دفتر میں بہت سے ایسے ’کردار‘ بھی ہوتے ہیں، جو خود تو سیٹھ نہیں ہوتے، لیکن سیٹھ کے سے رویوں کو ضرور آپ تک پہنچاتے رہتے ہیں۔ جیسے ہم اپنی ریاست کو بڑے بڑے افسران اور ان کے طور طریقوں سے پہچانتے ہیں، ایسے ہی ان ظالم دفاتر میں ایسے ’افسران‘ ہوتے ہیں، جو اپنے ادارے کے ’فوائد‘ اور سیٹھ کی فراخ دلی کے گُن گاتے نہیں تھکتے، جیسے یہ کہتے ہیں کہ ”شکر کرو یہاں ملازموں کو نکالتے نہیں ہیں!“
”آج کے دو رمیں یہ نوکری کسی ’نعمت‘ سے کم نہیں ہے!“
”یہاں تو کچھ زیادہ کام ہی نہیں ہوتا، فلانی جگہ دیکھو، اتنے سارے کام کرواتے ہیں۔“ وہ بہانے بہانے سے جتاتے بھی ہیں کہ اس ادارے میں یہ ’سہولت‘ ہے کہ ہر مہینے تنخواہ مل جاتی ہے، ورنہ فلاں فلاں کمپنی میں تو تین، تین مہینے کا ناغہ چل رہا ہے، کہیں بیس کو ملتی ہے تو کہیں پچیس تاریخ کو تنخواہ ملتی ہے! وغیرہ وغیرہ۔
بہت سے سیٹھ کے ’نمک خوار وفادار‘ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جو دُہری ملازمت کی وجہ سے کام متاثر ہونے پر اپنے ہی ساتھی کے خلاف سیٹھ کی زبان بولنے لگتے ہیں کہ اگر کم تنخواہ ہے، تو اس کا مطلب یہ تو نہیں ہے کہ آپ کا ’کام خراب‘ ہو۔ آپ نے کمپنی کی شرائط سے متفق ہو کر ہی یہ ملازمت قبول کی ہے، اس لیے آپ کا تو فرض ہے کہ کام ویسا ہی کریں، جیسا سات سال پہلے اسی تنخواہ میں کر رہے تھے۔ اب کوئی ان سے پوچھے کہ مہنگائی ہر سات روز کے بعد بڑھ رہی ہے، اِدھر تنخواہ ہے کہ اس کے بڑھنے کا کچھ پتا نہیں ہے۔ ایسے میں جان بوجھ کر کارکردگی متاثر کوئی بھی نہیں کرتا، یہ دوسری جگہ کام کرنے اور نیند پوری نہ ہونے کے اثرات ہوتے ہیں۔
دُہری ملازمتیں کرنے والوں کی حالت یہ ہوتی ہے کہ ہر شام جب ساری دنیا دن بھر کے پیشہ ورانہ ’سیاپے‘ سے آزاد ہو کر اپنے اپنے گھروں کا رخ کر رہی ہوتی ہے، تو یہ لوگ گھڑی دیکھ کر دوسری جگہ دوڑنے کی تگ ودو میں مصروف ہوتے ہیں۔ ہفتہ وار، سالانہ یا تہوار کی چھٹیوں میں جب عام لوگ سُکھ کا سانس لیتے ہیں، آرام کرتے ہیں، گھومتے پھرتے ہیں۔ یہ دُہری ملازمتیں کرنے والے اس دن بھی اپنی دو نوکریوں کا خراج دے رہے ہوتے ہیں، اکثر یہ چھٹی ان کے لیے کسی طور پر بھی چھٹی نہیں ہوتی۔
بہت سے لوگ پہلی ملازمت میں معقول تنخواہ نہ ہونے کی بنا پر کسی دوسری جگہ نوکری پر مجبور ہوتے ہیں۔ بہت سوں نے پہلی ملازمت پر ”میں صرف تمھارا ہوں، اور صرف تمھارا ہی رہوں گا“ جیسے کاغذات پر دستخط بھی کیے ہوئے ہوتے ہیں، ایسے میں وہ دوسرے نکاح کی طرح دوسری ملازمت کو بھی راز رکھنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ اپنے پہلے دفتر سے دیر سویر کے لیے نئے نئے ’گھریلو‘ اور ’نجی‘ قسم کے ’بہانے‘ تراشتے رہتے ہیں، تاکہ کسی نہ کسی طرح ان کی دوسری نوکری کی گاڑی بھی چلتی رہے۔ یہ اس لیے بھی ضروری ہوتا ہے کہ کبھی کبھی تو ’اصل‘ نوکری سے زیادہ دوسری یا تیسری نوکری، (جسے پیار سے ’پارٹ ٹائم‘ جز وقتی نوکری قرار دیتے ہیں) کی تنخواہ بن جاتی ہے، ایسی صورت میں اندازہ لگانا مشکل نہیں ہوتا کہ ایک طرف مستقل یا مرکزی نوکری ہوتی ہے، تو دوسری طرف ایک ’معمولی‘ یا مجبوری میں کی جانے والی نوکری۔ ان دونوں کی اہمیت کے درمیان فیصلہ کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ اگر دفتر معمول سے زیادہ وقت کا تقاضا کرلے، تو پھر دوسرا دفتر ’قضا‘ ہونے لگتا ہے، گویا ان کے پاس ذرا سا بھی آگے پیچھے ہونے کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔
پہلے دفتر والے اکثر ہمارے گناہوں کی سزا اور ’خدا کا قہر‘ دکھائی دیتے ہیں، جنھیں ہماری تنخواہ بھی نہیں بڑھانی ہوتی اور وقت کی جکڑ بندیوں پر بھی سختی سے عمل کروانا ہوتا ہے، انھیں اگر بھنک پڑ جائے کہ دفتر سے جانے کے بعد ان کا ملازم کہیں اور سے بھی آمدنی پا رہے، تو بس پھر نہ پوچھیے، ارے بھئی کوئی شوق سے تو نہیں کرتا دوسری نوکری، کسی بِھڑ نے کاٹا ہے کہ پورے آٹھ گھنٹے کی نوکری کرنے کے بعد کراچی کے ٹریفک میں پھنس کر ایک دفتر سے دوسرے دفتر دوڑتے پھریں اور چھوٹی سی زندگی کے روزانہ 12 سے 14 گھنٹے صرف روزی روٹی کی نذر کر دیں! اس کے جواب میں وہ کہیں گے حالات خراب ہیں، ہماری بھی مجبوری ہے، لیکن اگر واقعی کمپنی، بحران کا شکار اور خسارے میں ہے، کئی سال تنخواہ نہیں بڑھا سکتی، تو اس کے بدلے میں اپنے ملازمین کے لیے اوقات کار کی تو کچھ سہولت دے ہی سکتے ہیں کہ ایک ملازم کم ازکم اپنے بنیادی اخراجات تو ڈھنگ سے پورے کر سکے، لیکن وہ ایسا نہیں کرتے۔
دو جگہ نوکری کرنے والوں کا ایک بہت بڑا مسئلہ یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ اگر کسی دوسری جگہ ملازمت اختیار کرنا چاہیں، تو انھیں اس کے ساتھ ساتھ دوسری ملازمت کے اوقات کار اور مجبوریوں کو بھی مدنظر رکھنا پڑتا ہے۔ اس کے بغیر ان کا گزارا نہیں ہوتا۔ اکثر یہی چیز ان کی نوکری بدلنے کی راہ میں بھی حائل ہو جاتی ہے اور وہ اسی ’برباد کمپنی‘ میں پڑے رہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ نئی جگہ جانے کے بعد تنخواہ تو اتنی نہیں بڑھے گی، لیکن دوسری ملازمت ہاتھ سے جائے گی۔ اس پر بھی بس نہیں، اگر آپ کسی کو بتائیں کہ آپ دو جگہوں پر ملازمت کرتے ہیں، تو وہ بھی بہ جائے آپ کے حوصلے اور ہمت کے داد دینے کے، الٹا اس خوبی کو ’عیب‘ گرداننے لگتا ہے۔
ہونا تو یہ چاہیے کہ اِسے ایک شخص کی خوبی مانا جائے کہ وہ کس طرح دو اور بعضے وقت تین جگہوں پر اپنی ملازمت کو جاری رکھے ہوئے ہے، لیکن یہ دنیا بے قدر ہے، ایسا کم ہی ہوتا ہے۔ بہت سے سنگ دل تو دو، دو جگہ نوکری کرنے کو ہمارے ’پیسے کی ہوس‘ قرار دے دیتے ہیں! اس موقعے پر جو کچھ جی میں آتا ہے، وہ ہم یہاں لکھ نہیں سکتے!
.
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)
Categories
دُہری نوکری یا دو بیویاں رکھنا؟
