سمے وار (تحریر :ڈاکٹر طارق مسعود)
سندھ میں سندھی زبان بولنے والے لوگوں کی پانچ (5) بڑی کیٹیگریاں ہیں:
1۔ پہلی کیٹیگری ’’سماٹ سندھی‘‘ ہیں۔
یہ اصل سندھی ہیں۔ یہ یا تو ہندو ہیں یا ہندو مذہب سے مسلمان ہوئے ہیں۔ یہ سندھ کے قدیم باشندے ھیں اور تاریخی طور پر پنجابی قوم کے ہم سائے رہے ہیں۔ یہ گھر کے اندر اور باہر سندھی ہی بولتے ہیں اور اپنے نام کے ساتھ اپنی ذات لکھتے ہیں۔
2۔ دوسری کیٹیگری ’’عربی پس منظر رکھنے والے سندھی‘‘ ہیں۔
یہ محمد بن قاسم کے سندھ پر قبضے کے بعد عربوں اور ترکوں کے ادوار میں ‘ مختلف اوقات میں ‘ ایران کے راستے سندھ آئے۔ جیسے عباسی ‘ انصاری ‘ گیلانی’ جیلانی’ قریشی’ صدیقی وغیرہ۔
درگاہیں اور مزارات قائم کر کے آباد ھوئے۔ پیری مریدی شروع کی یا حکومتی معاملات سے وابستہ ھوئے۔ بلکہ سندھ کی زرخیز زمینیں بھی حاصل کیں۔ یہ گھر کے اندر اور باھر سندھی ھی بولتے ھیں اور اپنے نام کے ساتھ اپنی ذات لکھتے ھیں۔ بعض اپنی ذات کے ساتھ سید بھی لکھتے ھیں یا صرف سید لکھتے ہیں۔
3۔ تیسری کیٹیگری ’’بلوچ پس منظر رکھنے والے سندھی‘‘ ہیں۔
یہ 1700ء میں عباسی کلہوڑا دورِ حکومت میں سندھ آئے۔ کلہوڑا فوج میں شامل ھوئے اور 1783ء میں کلہوڑوں سے حکومت چھیننے کے بعد سندھ پر حکمرانی شروع کی۔ مزید بلوچ قبائل کو سندھ لا کر زمینیں دے کر آباد کیا گیا۔ یہ زیادہ تر گھر میں بلوچی یا سرائیکی بولتے ھیں اور باھر سندھی بولتے ھیں اور اپنے نام کے ساتھ اپنی ذات لکھتے ھیں۔ بعض صرف بلوچ بھی لکھتے ھیں۔
4۔ چوتھی کیٹیگری ’’پنجابی پس منظر رکھنے والے سندھی‘‘ ہیں۔
یہ 1900ء سے بھی بہت پہلے سے سندھ میں آباد ھیں اور اب تو گھر میں ‘ آپس میں اور باھر بھی سندھی ھی بولتے ھیں۔
جیسے بھٹو’ بھٹی’ مہر’ کلیار’ سیال’ جویا’ کچھیلا ‘ کھرل’ کھوکھر’ کھیڑا’ میتلا’ نائچ’ بوسن’ سیہڑ’ ساریو’ اسران’ چاچڑ وغیرہ۔
یہ اکثر اپنے نام کے ساتھ ’’پنجابی‘‘ لکھنے کے بہ جائے اپنی ذات لکھتے ہیں۔
5۔ پانچویں کیٹیگری بھی ’’پنجابی پس منظر رکھنے والے سندھی‘‘ ہیں۔
یہ 1901ء میں نارا کینال اور 1932ء میں سکھر بیراج کی تعمیر کے دوران سندھ آ کر آباد ھوئے اور غیر آباد زمینیں خرید کر آباد کیں۔ سندھی ثقافت اور رسم و رواج اختیار کرنے کے بعد اب یہ سندھی نظر آتے ھیں اور باھر سندھی زبان بھی بولتے ھیں۔ مگر گھر کے اندر یا آپس میں اب بھی پنجابی بولتے ھیں۔ جیسے ارائیں’ جاٹ’ راجپوت’ گجر’ اعوان’ شیخ وغیرہ۔
دیہی سندھ میں رہنے والے سماٹ سندھیوں ‘ عربی پس منظر رکھنے والے سندھیوں ‘ بلوچ پس منظر رکھنے والے سندھیوں اور پنجابی پس منظر رکھنے والے سندھیوں کے درمیان باھمی کاروباری اور سماجی تعلقات موجود ھیں۔ لیکن اس وقت دیہی سندھ میں سماٹ سندھیوں اور پنجابی پس منظر رکھنے والے سندھیوں کے مقابلے میں عربی پس منظر اور بلوچ پس منظر رکھنے والے سندھیوں کی سیاسی’ سماجی’ معاشی’ انتظامی اور اقتصادی بالادستی ہے۔
شہری سندھ ‘ خصوصاً کراچی میں سماٹ کے علاوہ بلوچ’ براہوئی’ پنجابی’ پٹھان’ کوھستانی’ چترالی’ سواتی’ گلگتی بلتستانی’ راجستھانی’ گجراتی’ یوپی اور سی پی سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی رہتے ہیں۔ لیکن سندھ کے سب سے بڑے شھر اور سندھ کے دارالحکومت کراچی پر اردو بولنے والے یوپی اور سی پی والوں کی سیاسی ‘ سماجی ‘ معاشی ‘ انتظامی اور اقتصادی بالادستی ہے۔
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)
Categories
سندھ میں پنجابی پس منظر رکھنے والے
