سمے وار (تحریر: رفیق بلوچ)
ٹنگ، ٹنگ، ٹنگ (اردو کy پیریڈ کے لیے گھنٹی بج گئی )۔
ٹیچر کو اپنی کلاس میں آتے ہوئے دیکھ کر طلبا بہ یک زبان ہوکر: السّلامُ علیکُم وَ رحمتہ اللہِ و برکاتہ
ٹیچر: وعلیکُم السّلام، بچو! آج ہم اردو گرامر پڑھیں گے۔ آپ لوگ فیصل اردو ورک بُک تو لائے ہوں گے، اس کو کھولیے اور مجھے صفحہ نمبر بتا دیجئے تاکہ میں بھی پڑھ سکوں۔
ایک طالب علم: سر یہ مولوی عبد الحق کون ہیں؟
ٹیچر: کیوں! میرا پوچھ رہے تھے کیا؟
طالب علم: نہیں سر! کیا آپ مولوی عبد الحق کو نہیں جانتے؟
ٹیچر: اب شہر میں ہزاروں مولوی گھومتے ہیں، میں کس کس کو پہچانوں، مجھے تو اپنی مسجد کے مولوی کا نام بھی معلوم نہیں، بس فرض پڑھ کر جلدی سے نکل جاتا ہوں کہیں چالیس روزے پر جانے کا وعدہ نہ کرنا پڑجائے۔
طالب علم: سر! وہ اردو کے ایک مشہور دانشور اور ادیب ہیں، انھوں نے اردو ادب کی بہت خدمت کی ہے۔
ٹیچر: اچھّا، تمھیں کہاں ملے تھے۔ مجھے بھی بتاؤ تاکہ میں اس سے مل کر اردو کے بارے میں اپنے علم میں مزید اضافہ کرسکوں (حالانکہ اب بھی جتنا علم اللہ نے مجھے دیا ہے میری اوقات سے بھی زیادہ ہے)۔
طالب علم: سر! ان کا انتقال ہو گیا ہے۔
ٹیچر: ارے، تو تم اب اس کے بارے میں بتا رہے ہو، پہلے بتا دیتے تو ہم بھی ان سے مل لیتے۔ خیر یہ بتاؤ تم قبرستان کیا کرنے گئے تھے؟
طالب علم: نہیں سر! ان کا مزار تو اردو کالج کے احاطے میں ہے۔ میں وہاں اپنے بھائی کے ساتھ گیا تھا تو وہیں دیکھا۔
ٹیچر: لوگ بھی عجیب ہیں، مرنے کے بعد بھی سرکاری زمینوں پر قبضہ کرنے سے باز نہیں آتے۔
طالب علم: سر! ایسی بات نہیں ہے، انہوں نے اردو کے فروغ کے لیے بہت محنت کی ہے اور درجنوں کتابیں لکھی ہیں، جس کی وجہ سے انھیں بابائے اردو کا خطاب بھی دیا گیا ہے اور انہی خدمات کے صلے میں انھیں اردو کالج کے احاطے میں دفن کیا گیا ہے۔
ٹیچر: ماشاءاللہ! تم نے میرے شاگرد ہونے کا حق ادا کردیا۔ اردو ادب کے بارے میں تمھیں جو کچھ پڑھایا، تم نے اسے ذہن نشین کرکے میرا دل خوش کردیا۔ بیٹا! اسی طرح دل لگا کر پڑھا کرو مجھ جیسا استاد پھر تم لوگوں کو نصیب نہیں ہوگا۔
طالب علم: سر میں نے مولوی عبدالحق کی قبر پر یہ اشعار لکھے دیکھے تھے، لیکن مجھے اس کی سمجھ نہیں آئی۔ آپ برائے مہربانی ان کی تشریح کریں، اس کے لیے ہمیں فیصل اردو ورک بُک دیکھنے کی بھی ضرورت نہیں پڑے گی کیوںکہ یہ اشعار ہماری کتاب میں شامل نہیں ہیں۔ وہ شعر یہ ہیں: گیسوئے اردو ابھی منت پذیرِ شانہ ہے۔
ٹیچر: بیٹا سچ پوچھو تو سمجھ مجھے بھی نہیں آئی ہے۔ گیسو کا لفظ شاید گیس سے نکلا ہے جیسے فیض سے فیضو، اب اس کا اردو سے کیا تعلق ہے؟ یہ معلوم کرنا ہوگا۔ تم ذرا فیصل اردو ورک بُک دیکھو اس میں کہیں نہ کہیں اس کے بارے میں لکھّا ضرور ہوگا۔ رہی بات شانہ کی تو میرے خیال میں یہ کسی لڑکی کا نام ہوگا۔ جہاں تک میری ناقص عقل کام کرتی ہے (ویسے تو بہت کم ہی کام کرتی ہے) ایسا لگتا ہے کہ شاعر یہ کہنا چاہتا ہے کہ ایک مرتبہ اردو کو (یہاں شاعر نے اردو کو استعارہ کے طور پر ایک عاشق نامراد کے لیے استعمال کیا ہے) شاید پیٹ میں گیس کی شکایت ہوگی جس کے لیے اس نے شانہ بی بی سے مِنّت کرکے کوئی مناسب سی دوائی جیسے گیسٹوفل وغیرہ مانگی ہوگی جو شانہ نے دینے سے انکار کیا ہوگا جس کی وجہ سے اردو کے گیسو شانہ کے منت پذیر ہوگئے۔ بس بابائے اردو کے مزار پر یہ شعر کسی نے لکھ دیے ہوں گے۔
ٹنگ، ٹنگ، ٹنک۔۔۔ (اردو کی پیریڈ ختم ہونے کی گھنٹی بج گئی)
ٹیچر دل میں سوچتے ہوئے “آج تو بچے نے جان ہی نکال دی تھی۔ کل اردو کالج جاکر دیکھ کر آتا ہوں کہ مزار پر اور کیا لکھا ہوا ہے”۔
.
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)
Categories
کون مولوی عبدالحق؟ کیا میرا پوچھ رہے تھے؟
