سمے وار (تحریر: شاہ جی سوا)
آج میرا شہر کراچی جس کی اصل خوب صورتی کبھی اس کا ساحل، اس کی بندرگاہ اور اس کی کھلی فضا ہوا کرتی تھی، وہاں اب بلند و بالا عمارتوں کا ایک ایسا جال بچھایا جا رہا ہے کہ لگتا ہے جیسے شہر کو زمین سے نہیں، آسمان سے آباد کرنے کا منصوبہ بنا لیا گیا ہو۔
یہ زمین ساحلی ہے، اس کی اپنی ایک برداشت ہے، مگر ہم اس پر مسلسل بوجھ ڈالتے جا رہے ہیں۔ اب 50، 60 بلکہ 80 منزلہ عمارتوں کا ایک نیا دور شروع ہو رہا ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم اس شہر کو اس سے زیادہ کوئی اور نقصان پہنچا سکتے ہیں؟
شاید نہیں۔
ایک ایسے شہر میں جہاں آج بھی بہت سے علاقوں میں پینے کے صاف پانی کا مسئلہ ہے، نکاسیٔ آب کا نظام بوسیدہ ہے، سڑکیں معمولی بارش میں تالاب بن جاتی ہیں، ہوا آلودہ ہے، کچرے کا مناسب انتظام نہیں اور سبزہ مسلسل کم ہوتا جا رہا ہے، وہاں ہم آسمان کو چھوتی عمارتیں تو بنا رہے ہیں، مگر زمین پر موجود بنیادی مسائل حل کرنے کو تیار نہیں۔
ذرا سوچئے!
پچاس منزلہ عمارت میں اگر آگ لگ جائے تو کیا ہمارے پاس اسے بجھانے کا مکمل انتظام ہے؟
کیا ہمارے پاس ایسی عمارتوں کے لیے جدید فائر فائٹنگ کا نظام، مناسب ریسکیو آلات اور تربیت یافتہ عملہ موجود ہے؟
اگر ایسی عمارت میں ہزاروں لوگ آباد ہوں تو ان کے لیے پینے کا صاف پانی کہاں سے آئے گا؟
روزانہ پیدا ہونے والا ہزاروں کلو کچرا کہاں جائے گا؟
سیوریج کا پانی کہاں جائے گا؟
بجلی کا نظام، ہنگامی اخراج کے راستے، پارکنگ، ٹریفک اور دیگر بنیادی سہولیات کا کیا ہوگا؟
یہ سوال کسی ترقی کے مخالف شخص کے نہیں، بلکہ اس شہر سے محبت کرنے والے شہری کے سوالات ہیں۔
ہمیں ترقی ضرور چاہیے، مگر ایسی ترقی نہیں جو شہر کی بنیادیں کمزور کر دے۔
کراچی پہلے ہی اپنی اصل گنجائش سے کئی گنا پھیل چکا ہے۔ آبادی بڑھتی گئی، شہر پھیلتا گیا، مگر اس کے بنیادی ڈھانچے کو اسی رفتار سے مضبوط نہیں کیا گیا۔ آج شہر اپنی استطاعت سے کئی گنا زیادہ بوجھ اٹھا رہا ہے۔
ایسے میں اگر کسی آفت، زلزلے، شدید بارش، آگ یا کسی بڑے حادثے کا سامنا ہو گیا تو نقصان صرف ایک عمارت تک محدود نہیں رہے گا۔ جب ایک عمارت میں ہزاروں انسان آباد ہوں اور اردگرد بھی اسی نوعیت کی بلند عمارتیں کھڑی ہوں تو ایک حادثہ بڑے انسانی المیے میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
ترقی کا مطلب صرف یہ نہیں کہ شہر میں بلند عمارتوں کی تعداد بڑھ جائے۔
ترقی یہ ہے کہ شہری کو صاف پانی ملے، نکاسیٔ آب کا مؤثر نظام ہو، صاف ہوا میسر ہو، کچرے کا مناسب انتظام ہو، سبزہ اور کھلی جگہیں محفوظ ہوں، سڑکیں اور ٹریفک کا نظام بہتر ہو اور کسی ہنگامی صورتِ حال میں شہری کی جان محفوظ رکھنے کی مکمل صلاحیت موجود ہو۔
ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہمیں صرف بلند عمارتیں چاہییں یا بلند معیارِ زندگی بھی؟
کیونکہ عمارت جتنی بلند ہوتی ہے، اس کے ساتھ ذمہ داری بھی اتنی ہی بلند ہونی چاہیے۔
خدا کے لیے اب رحم کریں۔
شہر کو مزید بوجھ دینے سے پہلے اس کی سانسوں کا خیال کریں۔ آج اگر ہم نے صرف اپنے فائدے کے لیے کراچی کی زمین، پانی، ہوا اور بنیادی ڈھانچے کو نظرانداز کیا تو ممکن ہے کہ آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہ کریں۔
بلند عمارتیں ضرور بنائیں، مگر ایسا شہر بھی بنائیں جس میں انسان محفوظ طریقے سے رہ بھی سکے۔
ورنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہماری نام نہاد ترقی ہی ہماری تنزلی کی وجہ بن جائے اور پھر اس کا خمیازہ صرف ہم نہیں، ہماری آنے والی نسلیں بھی بھگتیں.
.
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)
Categories
کراچی پر بلند عمارتوں کا عذاب؟
