سمے وار (تحریر: مریم عمر)
ہمارے معاشرے میں جسمانی بیماری کا ذکر تو کھل کر کیا جاتا ہے، لیکن ذہنی تکلیف کا اظہار اکثر کمزوری یا ناشکری سمجھا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بہت سے لوگ برسوں خاموشی سے اذیت جھیلتے رہتے ہیں اور مدد تک نہیں پہنچ پاتے۔ ڈپریشن اور بے چینی (اینگزائٹی) دنیا بھر میں سب سے عام ذہنی مسائل میں شمار ہوتے ہیں۔ انہیں سمجھنا ان سے نمٹنے کی پہلی سیڑھی ہے۔
ڈپریشن محض اداسی کا نام نہیں ہے۔ ہر انسان کبھی نہ کبھی غمگین ہوتا ہے، مگر ڈپریشن میں یہ کیفیت ہفتوں یا مہینوں تک برقرار رہتی ہے اور روزمرہ زندگی کو متاثر کرنے لگتی ہے۔ اس کی عام علامات میں مسلسل اداسی یا خالی پن کا احساس، پسندیدہ کاموں میں دل چسپی ختم ہو جانا، نیند میں خلل، بھوک میں نمایاں تبدیلی اور ہر وقت تھکاوٹ شامل ہیں۔ کچھ لوگوں کو توجہ مرکوز کرنے میں مشکل ہوتی ہے اور وہ خود کو بے قدر یا قصوروار سمجھنے لگتے ہیں۔
بے چینی ایک فطری ردِعمل ہے جو خطرے یا دباؤ کے وقت ظاہر ہوتا ہے۔ مسئلہ تب بنتا ہے جب یہ بلاوجہ، حد سے زیادہ اور بار بار ہونے لگے۔ اس میں دل کی تیز دھڑکن، ہاتھ پاؤں کا کانپنا، سانس پھولنا، پسینا آنا، پٹھوں میں تناؤ اور مسلسل فکر جیسی علامات سامنے آتی ہیں۔ کچھ لوگوں کو اچانک گھبراہٹ کے دورے (پینک اٹیک) بھی پڑتے ہیں، جن میں ایسا لگتا ہے جیسے جان نکل رہی ہو۔
ان مسائل کی کوئی ایک وجہ نہیں ہوتی، بلکہ عموماً کئی عوامل مل کر اثر ڈالتے ہیں۔ خاندانی رجحان اور دماغی کیمیائی عوامل اس میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ مالی پریشانی، بے روزگاری، گھریلو جھگڑے، کسی عزیز کی وفات یا کوئی صدمہ بھی ذمہ دار ہو سکتا ہے۔ بچپن کے تلخ تجربات، مسلسل دباؤ اور تنہائی بھی انسان کے ذہن پر گہرا اثر چھوڑتے ہیں۔
ہمارے یہاں اس موضوع پر کئی غلط فہمیاں عام ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ “یہ ایمان کی کمزوری ہے”، حالانکہ ذہنی بیماری ایمان کی کمی نہیں، بلکہ ایک طبی کیفیت ہے، بالکل ذیابیطس یا بلڈ پریشر کی طرح۔ کچھ لوگ کہتے ہیں “ہمت کرو، خود ٹھیک ہو جاؤ گے”، لیکن ایسے جملے مریض کو مزید تنہا کر دیتے ہیں، جبکہ ہمدردی اور توجہ زیادہ کارآمد ہوتی ہے۔ اسی طرح یہ سوچ بھی سراسر غلط ہے کہ ماہرِ نفسیات کے پاس صرف “پاگل” جاتے ہیں۔ ماہر سے مشورہ لینا سمجھداری اور ہمت کی علامت ہے۔
خوش خبری یہ ہے کہ ڈپریشن اور بے چینی قابلِ علاج ہیں۔ علاج میں عموماً نفسیاتی تھراپی، ضرورت پڑنے پر ڈاکٹر کی تجویز کردہ ادویات، یا دونوں شامل ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ روزمرہ زندگی میں کچھ چیزیں بہت مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ روزانہ کچھ دیر چہل قدمی یا ہلکی ورزش، وقت پر سونا اور جاگنا، متوازن غذا اور موبائل و سوشل میڈیا کا محدود استعمال ان میں سرِفہرست ہیں۔ گہری سانس لینا اور دعا و ذکر جیسی سکون بخش سرگرمیاں بھی دل کو راحت دیتی ہیں۔
اگر آپ کا کوئی عزیز ان کیفیات سے گزر رہا ہو تو اس کی بات بغیر فیصلہ سنائے سنیں اور اسے کم تر محسوس نہ کروائیں۔ نرمی سے اسے ماہر سے رجوع کرنے کا مشورہ دیں۔ کبھی کبھی صرف یہ جملہ کہ “میں تمہارے ساتھ ہوں” بہت بڑا سہارا بن جاتا ہے۔ اپنے جذبات کو دل میں دبانے کے بجائے قریبی لوگوں سے بیان کرنا بھی بہت فائدہ دیتا ہے۔
ذہنی صحت بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی جسمانی صحت۔ جب تک ہم اس موضوع پر کھل کر بات نہیں کریں گے، لوگ خاموشی میں دکھ سہتے رہیں گے۔ اگر علامات دو ہفتے سے زیادہ برقرار رہیں اور روزمرہ کاموں میں رکاوٹ بنیں تو بلا تاخیر کسی مستند ماہرِ نفسیات یا معالج سے رجوع کریں۔ مدد مانگنا کمزوری نہیں، بہتری کی طرف پہلا قدم ہے۔
.
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)
Categories
ذہنی صحت: ڈپریشن اور بے چینی کو سمجھنا
