Categories
Education Exclusive Interesting Facts Karachi MQM PPP PTI Society ایم کیو ایم پاکستان تحریک انصاف پنجاب پیپلز پارٹی تعلیم تہذیب وثقافت دل چسپ سمے وار- راہ نمائی سندھ قومی تاریخ قومی سیاست مسلم لیگ (ن)

تینوں سیاسی جماعتیں قائداعظم کے خلاف متحد ہوگئیں!

سمے وار (خصوصی رپورٹ) بیماری کے علاج کے لیے سب سے پہلا مرحلہ تشخیص اور بیماری کو بیماری سمجھنا ہوتا ہے۔ اگر بیماری بیماری نہ کہلائے تو پھر اس کا علاج کیسے ہوگا؟ یہاں ہم ایک ایسی ہی بیماری کا ذکر کر رہے ہیں، جس میں ایک کے بعد ایک مبتلا ہوتا گیا۔ سب سے زیادہ لاڑکانہ سے تعلق رکھنے والی پیپلزپارٹی ہے، جس نے سرکاری اداروں میں قائداعظم کی تصویر کے ساتھ اپنے متنازع سیاسی قائدین کی تصویر لگانا شروع کردی۔

خود وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اس میں پیش پیش ہیں۔ اس پر کوئی نشان دہی نہیں کرتا اور نہ ہی اعتراض کرتا ہے کہ قائد کا مقام سب سے بلند ہے، وہ بابائے قوم اور بانی پاکستان ہیں۔ کوئی بھی دوسرا لیڈر ان کے برابر جگہ نہیں پاسکتا، لیکن ہوتا کیا ہم نے دیکھا نہال ہاشمی گورنر سندھ بنے تو جہاں انھوں نے منہ بھر بھر کے سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی تعریفیں کیں، وہیں انھوں نے پہلی بار گورنر ہائوس میں اپنی پارٹی کی قائد میاں نواز شریف کی تصویر چپکا ڈالی۔ جو تصایر سامنے آئی ہیں وہاں قائداعظم کی جگہ ان کے لیڈر ہی کی تصویر دکھائی دے رہی ہے،

پیپلزپارٹی نے تو چلیے پھر بھی قائداعظم کی تصویر کے ساتھ اپنے سرکاری شاہی خاندان کے شہزادے شہزادیوں کی تصویریں لگائی ہیں۔
اب جب دو بڑی جماعتوں نے اس گستاخی کا ارتکاب کیا تو ضروری تھا کہ تحریک انصاف بھی اس دوڑ میں شامل ہوتی، سو ہوگئی۔

ان کے ایک کونسلر کے دفتر کی تصویر سامنے آئی جس میں انھوں نے قائد اعظم کے ساتھ اپنے رہبر عمران خان کی تصویر ٹانگ رکھی ہے۔ اب کیا باقی رہ گیا؟ کیا یہ سرکاری وسائل ان پارٹیوں کے گھر کامعاملہ ہیں؟ آخر کیوں یہ تنگ دل ہوگئے کہ انھیں سرکاری اداروں تک میں بابائے قوم کی تصویر قبول نہیں رہی۔ اور یہ اس کی جگہ اور اس کے ساتھ اپنے اپنے سیاسی قائدین کی تصاویر لٹکا رہے ہیں؟ اس پر پورے میڈیا میں کسی نے بھی کبھی کوئی بات نہیں کی۔ ماضی میں بھی صرف “سمے وار” کے پلیٹ فارم سے اس غیر مناسب فعل کے خلاف آواز بلند کی گئی اور آج بھی ہم ہی اس کے حوالے سے رپورٹ شائع کر رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Verified by MonsterInsights