سمے وار (تحقیقی رپورٹ)
حال ہی میں وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے تحریک انصاف کی خیبرپختونخوا کی حکومت کے خلاف گورنر راج عائد کردیا گیا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں گورنر راج کے ادوار کا جائزہ لیا جائے تو چاروں صوبوں میں مجموعی طور پر 10 مرتبہ گورنر راج نافذ کیے گئے۔ ان میں پنجاب میں 2، سندھ میں 3، بلوچستان میں 2 اور خیبر پختونخوا میں 3 مرتبہ گورنر راج شامل ہے۔ یعنی حالیہ گورنر راج سے پہلے سندھ میں سب سے زیادہ گورنر راج کے اقدام ہوئے تھے، تاہم اب خیبر پختونخوا بھی سندھ کے ساتھ تین تین مرتبہ اس اقدام سے گزر چکا ہے۔
پنجاب — جنوری 1949ءتا اپریل 1951ئ
قیامِ پاکستان کے بعد پہلا گورنر راج پنجاب میں نافذ ہوا۔ وجہ یہ تھی کہ وزیراعلیٰ نواب ممدوٹ اور گورنر ممتاز دولتانہ کے درمیان سیاسی اختلافات پیدا ہوئے۔ جنوری 1949ء میں وزیراعظم لیاقت علی خان نے لاہور کا دورہ کیا۔ اس دوران صوبائی اسمبلی میں اکثریت کے دعوے اور پیش کردہ دستاویزات کے حوالے سے اختلاف سامنے آیا۔ وفاقی حکومت نے نواب ممدوٹ کی حکومت برطرف کرکے صوبائی اسمبلی تحلیل کر دی اور گورنر راج نافذ کیا۔ یہ دور اپریل 1951ءمیں ختم ہوا۔
2۔ سندھ — دسمبر 1951ءتا مئی 1953ئ
لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد وزیراعلیٰ سندھ محمد ایوب کھوڑو کو بدعنوانی اور ناقص انتظامی کارکردگی کے الزامات کے تناظر میں عہدے سے ہٹایا گیا۔ اس کے بعد صوبے کا انتظام گورنر کے تحت چلایا گیا۔ یہ دور تقریباً ایک سال اور پانچ ماہ جاری رہا۔ 1953ءکے صوبائی انتخابات کے بعد پیرزادہ عبدالستار کی قیادت میں نئی صوبائی حکومت قائم ہوئی اور گورنر راج ختم ہوا۔
3۔ بلوچستان 14 فروری 1973ئتا اپریل 1973ئ
14 فروری 1973ءکو ذوالفقار علی بھٹو کی وفاقی حکومت نے بلوچستان کی نیشنل عوامی پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام کی حمایت سے قائم حکومت برطرف کر دی اور گورنر میر غوث بخش بزنجو کو بھی ہٹا دیا۔ وفاقی حکومت نے اس کارروائی کے لیے صوبے میں بدامنی اور اسلام آباد میں عراقی سفارت خانے سے اسلحے کی مبینہ برآمدگی جیسے معاملات کا حوالہ دیا۔ اگلے روز نواب اکبر خان بگٹی گورنر مقرر ہوئے اور صوبے کا انتظام ان کے ذریعے چلایا گیا۔ اس دور میں بلوچستان کے مختلف علاقوں میں فوجی کارروائیاں بھی ہوئیں۔ اپریل 1973ء کے اواخر میں گورنر راج ختم ہوا اور جام غلام قادر خان کی سربراہی میں نئی صوبائی وزارت قائم ہوئی۔
4۔ خیبر پختونخوا — 16 فروری تا 3 مئی 1975ئ
1975ءمیں وفاقی حکومت نے ہنگامی حالات اور ایسے بیرونی عوامل کا حوالہ دیتے ہوئے صوبائی حکومت کے اختیارات گورنر کو منتقل کیے جنہیں اس وقت مقامی انتظامیہ کے قابو سے باہر قرار دیا گیا۔ اس دوران صوبائی کابینہ کے اختیارات ختم کر دیے گئے اور میجر جنرل (ریٹائرڈ) سید غوث کے ذریعے صوبائی انتظام چلایا گیا۔ 3 مئی 1975ئ کو یہ انتظام ختم ہوا اور نصراللہ خان خٹک نے وزارتِ اعلیٰ سنبھالی۔
5۔ سندھ — 24 جون تا 31 اگست 1988ئ
مئی 1988ءمیں صدر جنرل ضیا الحق نے وزیراعظم محمد خان جونیجو کی وفاقی حکومت اور صوبائی اسمبلیاں تحلیل کر دی تھیں۔ اس کے بعد سندھ میں نگران انتظامی بندوبست بھی تبدیل ہوا۔ 24 جون 1988ءکو سندھ میں گورنر راج نافذ ہوا اور صوبے کے انتظامی اختیارات گورنر جنرل رحیم الدین خان کو منتقل کر دیے گئے۔ یہ دور 31 اگست 1988ءکو ختم ہوا اور تقریباً 68 دن جاری رہا۔
6۔ خیبر پختونخوا — 25 فروری تا 24 اپریل 1994ئ
1994ءمیں وزیراعظم بے نظیر بھٹو نے صوبے میں مسلم لیگ (ن) کی قیادت والی حکومت، جس کے وزیراعلیٰ صابر شاہ تھے، کو معطل کر دیا۔ اس کے بعد صوبے کے انتظامی اختیارات گورنر کو منتقل ہوئے۔ یہ واقعہ اس وقت کے وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان سیاسی کشیدگی کے باعث خاصا متنازع رہا۔ 24 اپریل 1994ءکو گورنر راج ختم ہوا اور پیپلز پارٹی کے آفتاب احمد خان شیرپاو¿ نے وزیراعلیٰ کا منصب سنبھالا۔
7۔ سندھ (1998ءتا 1999)
30 اکتوبر1998ءکو نواز شریف نے کراچی میں حکیم محمد سعید کے قتل کو جواز بنا کر سندھ میں صوبائی حکومت ختم کرکے گورنر راج نافذ کردیا۔ معین الدین حیدر نئے گورنر سندھ بنے۔17 جون 1999ءکو ان کی جگہ ممنون حسین گورنر اور غوث علی شاہ مشیر اعلیٰ مقرر کیے گئے۔ جس وقت گورنر راج نافذ کیا گیا تو نواز لیگ کے حمایت یافتہ لیاقت جتوئی وزیراعلیٰ تھے اور ان کی سب سبے بڑی اتحادی ایم کیو ایم تھی، جس پر نواز شریف نے حکیم محمد سعید کے قتل کا الزام عائد کیا تھا۔ اس کے بعد فوجی عدالتوں کے ذریعے ایم کیو ایم کے کارکنان پر مقدمے چلائے گئے تاہم فروری 1999ءمیں سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں کو خلاف آئین قرار دے دیا۔
8۔ پنجاب — فروری 2009ءتا مارچ 2009ء
فروری 2009ءمیں سپریم کورٹ کی جانب سے نواز شریف اور شہباز شریف کی نااہلی کے بعد صدر آصف علی زرداری نے پنجاب میں گورنر راج نافذ کیا۔ اس اقدام کے تحت وزیراعلیٰ شہباز شریف اور ان کی کابینہ کو عہدوں سے ہٹا دیا گیا، تاہم صوبائی اسمبلی کو معطل نہیں کیا گیا تھا۔ گورنر سلمان تاثیر نے صوبے کے انتظامی اختیارات سنبھالے۔ یہ بندوبست تقریباً ایک ماہ بعد مارچ 2009ءمیں ختم ہوا اور پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت بحال ہوئی۔
9۔ بلوچستان — جنوری تا مارچ 2013ئ
جنوری 2013ءمیں کوئٹہ میں ہزارہ شیعہ برادری کے افراد کی بڑی تعداد میں ہلاکتوں کے بعد شدید احتجاج ہوا۔ جس پر وزیراعظم راجا پرویز اشرف کی حکومت نے بلوچستان کی صوبائی حکومت برطرف کر دی۔ گورنر ذوالفقار علی مگسی نے صوبے کے انتظامی اختیارات سنبھال لیے۔ یہ گورنر راج مارچ 2013ء میں ختم ہوا، جب انتخابات سے قبل صوبے میں نگران انتظامی بندوبست کی طرف پیش رفت ہوئی۔
10۔ خیبر پختونخوا — 11 اکتوبر 2026ءسے
11 اکتوبر 2026ءکو صدر آصف علی زرداری نے وفاقی کابینہ کی سفارش پر خیبر پختونخوا میں ہنگامی حالت اور گورنر راج نافذ کرنے کی منظوری دی۔ اس کے نتیجے میں پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کے اختیارات معطل ہوئے اور صوبے کا انتظام گورنر کے ذریعے چلانے کا اعلان کیا گیا۔
Categories
چاروں صوبوں میں گورنر راج کے 10 واقعات کب رونما ہوئے؟
