Categories
Education Exclusive Interesting Facts Karachi KU Media Society تعلیم تہذیب وثقافت دل چسپ ذرایع اِبلاغ سمے وار بلاگ سمے وار- راہ نمائی کراچی

ڈاکٹر یونس حسنی یہاں سے الیکشن بھی جیت جائیں!

سمے وار
تحریر: شگفتہ فرحت (محبان بھوپال فورم)
دہلی کالونی کا نام ہم نے اپنے بچپن سے سن رکھا تھا، اپنی شادی کے بعد ایک مرتبہ اپنے شوہر اویس ادیب انصاری صاحب کے ساتھ دہلی کالونی میں معروف ادیب نقاد اہل قلم سینیئر استاد اور دانش ور محترم ڈاکٹر یونس حسنی صاحب کہ گھر جانے کا اتفاق ہوا جو وہاں 35 40 سال سے رہ رہے تھے ڈاکٹر یونس حسنی صاحب ’محبان بھوپال فورم‘ کے سرپرستوں میں سے ایک ہیں۔ ہم تو شروع شروع میں انھیں پہلے پاکستانی پھر بھوپال کا سمجھتے رہے، مگر ان سے ملنے کے بعد معلوم ہوا کہ ان کی جائے پیدائش تو ٹونک ہے اور ابتدائی تعلیم ٹونک میں حاصل کرنے کے بعد وہ بھوپال چلے گئے تھے جہاں انھوں نے کالج اور یونیورسٹی تک کی تعلیم حاصل کی ان کا ٹونک کے علاوہ بھوپال میں بھی ایک وسیع ادبی اور علمی حلقہ ہے ایک بار دہلی کالونی ان کے گھر گئے، مگر بعد تک ذہن میں دہلی کے چٹخاروں کا نقشہ آنکھوں میں اور زبان پر گھومتا رہا، حال ہی میں دہلی کالونی سے وابستہ متحرک شخصیت رائٹر رضوان طاہر مبین نے ہمیں دہلی کالونی میں ایک ’منتظمہ ہال‘ ہے وہاں انے کی دعوت دی کے ڈاکٹر یونس حسنی صاحب کے اعزاز میں وہاں کے رہائشیوں کی جانب سے تقریب منعقد ہو رہی ہے، آپ ضرور آئیں ساڑھے اٹھ بجے کا وقت تھا، ہم ساڑھے سات بجے ہی روانہ ہو گئے اویس ادیب انصاری صاحب ہمیں ہماری ہمشیرہ شائستہ فرحت اور بھانجی لبنی فرحت کو لے کر گئے بہت ہی تنگ گلیوں اور بازاروں میں وہ گاڑی گھماتے رہے، گاڑی چلانے اور پیدل چلنے والوں کی جگہ اتنی تنگ تھی کہ پتا نہیں کہ مشکلات کے باوجود وہ گاڑی چلاتے رہے اس دوران گاڑی کے سامنے کے دونوں شیشوں سے محروم ہوئے مگر ہماری نظریں تو بازار میں کچی مچھلی جو وافر مقدار میں تھی، تازہ سبزیوں اور پھلوں پر ہی تھیں ڈاکٹر صاحب کی تقریب میں پہنچنے کی جلدی تھی سوچا واپسی میں خریدیں گے ہمیں ’منتظمہ ہال‘ ڈیڑھ گھنٹے بعد ملا جب وہاں پہنچے تو ڈاکٹر یونس حسنی صاحب کی تقریر چل رہی تھی جو اسی وقت شروع ہوئی تھی رائٹر اور سماجی شخصیت رضوان طاہر مبین اور ان کے رفقا ڈاکٹر یونس حسنی صاحب کے اہل خانہ بیٹیوں دامادوں نے ہمارا خیر مقدم کیا ابتدائی مقررین کی تقاریر ہم نہیں سن پائے دراصل ڈاکٹر صاحب نے اپنے اہل خانہ کے ساتھ یہاں بہت وقت گزارا ہے ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا لوگ کھڑے ہو کر ڈاکٹر صاحب کا خطاب سن رہے تھے، ان کے پرانے اہل محلہ اور دہلی کالونی کے مکین کافی بڑی تعداد میں وہاں موجود تھے، ڈاکٹر یونس حسنی صاحب کی آنکھوں میں اپنے دہلی کالونی کے پرانے لوگوں احباب اور شاگردوں کے لیے خلوص و محبت اور خوشی کی گہری چمک واضح طور پر محسوس کی جا سکتی تھی، وہ بیتے ہوئے دنوں کی یادوں کو دُہرا رہے تھے اور اظہار مسرت کر رہے تھے، آرٹس کونسل اف پاکستان کراچی کی گورننگ باڈی کے سابق رکن اور سابق چیئرمین یوتھ کمیٹی اویس ادیب انصاری اپنی تقریر میں کہہ رہے تھے کہ یہ ڈاکٹر صاحب کی محبت ہے، جو ہمیں یہاں کھینچ کر لائی، وہ نہ صرف سینیئر استاد محقق نقاد اور معروف اہل قلم ہیں اور اردو ادب کا ایک قیمتی سرمایہ ہیں، نوجوان نسل کو ان سے سیکھنا چاہیے حاضرین محفل نے بھی ڈاکٹر یونس حسنی صاحب سے سوالات کا سلسلہ شروع کیا، جو مختلف موضوعات پر مشتمل تھا ڈاکٹر صاحب خندہ پیشانی سے جوابات دیتے رہے بزم شعر و سخن کے صدر و مکالمہ کے نام سے ادبی محفلیں منعقد کرنے والے شہرِ قائد کی ممتاز شخصیت بھائی طارق جمیل نے کہا کہ ڈاکٹر یونس حسنی جیسی بڑی علمی ادبی شخصیات بہت کم رہ گئی ہیں، ہم ان کی دل سے قدر کرتے ہیں وہ ہم سب کے لیے تبرک ہیں صاحب صدر پروفیسر محمد نقی چاندنہ نے اپنی تقریر میں کہا کہ ڈاکٹر یونس حسنی صاحب جیسی علمی ادبی شخصیت دہلی کالونی کی باسی رہی ہے، ہم سب ان کے اعلیٰ اخلاق کردار تہذیب و تمدن کی وجہ سے ان سے بے پناہ محبت کرتے ہیں اور ان کا دل سے احترام کرتے ہیں۔
راقم الحروف کی رائے میں ڈاکٹر یونس حسنی صاحب کو دہلی کالونی سے اس قدر محبت ہے کہ اگر ان کو دہلی کالونی میں دوبارہ رہنے کی پیشکش کی جائے تو وہ بلا تامل قبول کر لیں گے، جب کہ تقریب میں علاقے کے مکینوں کی اس قدر بڑی تعداد دیکھ کر اندازہ ہوا کہ وہ یہاں بہت مقبول ہیں اور کم از کم سندھ اسمبلی کا الیکشن بہت آسانی کے ساتھ جیت سکتے ہیں، صدارتی تقریر کے بعد دہلی کالونی کے مکینوں کی جانب سے انھیں نشانِ سپاس پیش کیا گیا، جب کہ مختلف شخصیات نے انھیں گل دستے اور تحائف پیش کیے، اظہار تشکر رضوان طاہر مبین نے کیا، اتنی خوب صورت تقریب کے نشے میں سرشار ہو کر جب ہم منتظمہ ہال سے باہر نکلے تو مچھلی سبزی اور پھل فروش اپنی دکانیں بڑھا چکے تھے، جب کہ دہلی کے دانے دار قورمے کی خوش بو بھی دم توڑتی نظر ائی کہ اب پھر واپسی کے لیے تنگ گلیوں اور بازاروں کا سفر کرنا تھا ڈاکٹر یونس حسنی صاحب کی محبت میں یہ بھی قبول تھا ان کے اعزاز میں منعقدہ تقریب کی کام یابی پر علاقہ مکینوں کو دلی مبارک باد پیش ہے۔
۔
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Verified by MonsterInsights