Categories
Education Exclusive History of Pakistan Interesting Facts Karachi KU تعلیم دل چسپ سمے وار بلاگ قومی تاریخ قومی سیاست کراچی مہاجرقوم

پاکستان کے جوہری پروگرام کی بناد رکھنے والے

سمے وار (مانیٹرنگ ڈیسک)
پاکستان کے جوہری پروگرام کی بنیاد رکھنے والے ڈاکٹر عشرت حسین عثمانی ہیں۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی تاریخ صرف چند معروف ناموں تک محدود نہیں۔ اس تاریخ کے ابتدائی اور انتہائی اہم کرداروں میں ایک نام ڈاکٹر عشرت حسین عثمانی (I. H. Usmani) کا ہے، جو ایک سائنس دان، ماہرِ طبیعیات، اعلیٰ سرکاری افسر اور پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے معماروں میں شمار ہوتے ہیں۔
وہ 15 اپریل 1917 کو علی گڑھ میں پیدا ہوئے۔ ان کی ابتدائی تعلیم علی گڑھ میں ہی ہوئی اور بعد ازاں انھوں نے اعلیٰ تعلیم کے لیے بمبئی اور پھر برطانیہ کا رخ کیا۔ ان کا علمی تعلق Aligarh Muslim University سے بھی رہا، جہاں انہوں نے طبیعیات کی تعلیم حاصل کی۔ بعد میں لندن میں انہوں نے ایٹمی طبیعیات میں ڈاکٹریٹ کی اور ان کا تحقیقی کام الیکٹرون ڈفریکشن اور کرسٹل کی ساخت جیسے موضوعات سے متعلق تھا۔ ان کے تحقیقی سفر میں ممتاز سائنس دان George Paget Thomson اور Niels Bohr جیسے نام بھی آتے ہیں۔
یہ وہ دور تھا جب دنیا ایٹمی سائنس کے ایک نئے عہد میں داخل ہو رہی تھی۔ عثمانی نے محض لیبارٹری میں سائنس دان بننے کے بجائے سرکاری انتظام اور قومی سائنسی پالیسی کے میدان میں قدم رکھا۔ 1942 میں انہوں نے Indian Civil Service (ICS) کا امتحان پاس کیا اور تقسیمِ ہند تک سرکاری خدمات انجام دیں۔ قیامِ پاکستان کے بعد وہ پاکستان آگئے اور مختلف اہم سرکاری ذمہ داریاں سنبھالیں۔
پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کی قیادت
1960 میں ڈاکٹر آئی۔ ایچ۔ عثمانی کو Pakistan Atomic Energy Commission (PAEC) کا چیئرمین مقرر کیا گیا۔ وہ تقریباً ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک اس ادارے کی قیادت کرتے رہے اور اسی زمانے میں پاکستان کے جوہری سائنس و ٹیکنالوجی کے بنیادی ڈھانچے نے نمایاں ترقی کی۔
عثمانی کا وژن بنیادی طور پر Peaceful Uses of Nuclear Energy پر مرکوز تھا۔ ان کے نزدیک ایٹمی سائنس صرف فوجی طاقت کا نام نہیں بلکہ توانائی، طب، زراعت، صنعت، تحقیق اور تعلیم کے لیے ایک طاقت ور ذریعہ تھی۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے پاکستان میں سائنس دانوں اور انجینئرز کی نئی نسل تیار کرنے پر خصوصی توجہ دی۔
نوجوان سائنس دانوں کی ایک پوری نسل تیار کی
ڈاکٹر عثمانی کی سب سے اہم خدمات میں سے ایک پاکستان کے نوجوان ذہنوں کو جدید سائنسی تعلیم کے مواقع فراہم کرنا تھا۔
ان کے دور میں ہونہار طلبہ کو بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم اور تربیت کے لیے بھیجا گیا۔ امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا کے مختلف اداروں میں پاکستانی طلبہ نے تعلیم اور عملی تربیت حاصل کی۔ بعض نوجوان سائنس دانوں کو Oak Ridge National Laboratory اور Argonne National Laboratory جیسے عالمی تحقیقی مراکز میں کام کرنے کے مواقع بھی ملے۔
یہ سرمایہ کاری دراصل عمارتوں سے کہیں زیادہ اہم تھی، کیونکہ ایٹمی پروگرام کے لیے صرف مشینیں نہیں بلکہ trained manpower درکار ہوتی ہے۔ عثمانی نے اس ضرورت کو بہت پہلے سمجھ لیا تھا۔
PINSTECH — پاکستان کی سائنسی بنیاد
ڈاکٹر عثمانی کے بڑے کارناموں میں Pakistan Institute of Nuclear Science and Technology (PINSTECH) کا قیام بھی شامل ہے۔
اسلام آباد کے قریب نیلور میں قائم ہونے والا یہ ادارہ پاکستان کے جوہری تحقیق، تربیت اور سائنسی ترقی کے اہم مراکز میں تبدیل ہوا۔ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کی تاریخ میں PINSTECH کو بنیادی اہمیت حاصل رہی ہے۔ 1965 میں اسی سائنسی ماحول میں پاکستان کا پہلا تحقیقی ری ایکٹر PARR-1 critical ہوا، جس نے ملک کی نیوکلیئر تحقیق کو عملی بنیاد فراہم کی۔
کراچی کا ایٹمی بجلی گھر
ڈاکٹر عثمانی کے دور کی ایک اور تاریخی کام یابی Karachi Nuclear Power Plant (KANUPP) کی بنیاد تھی۔
ان کی قیادت میں پاکستان نے ایٹمی توانائی کو بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال کرنے کی سمت عملی قدم اٹھایا۔ بعد میں کراچی میں قائم ہونے والا KANUPP پاکستان کی تاریخ کا پہلا نیوکلیئر پاور پلانٹ بنا اور 1970 کی دہائی کے آغاز میں بجلی کی پیداوار شروع ہوئی۔
یہ منصوبہ اس لحاظ سے بھی اہم تھا کہ پاکستان ترقی پذیر دنیا کے ان ممالک میں شامل ہوگیا جو ایٹمی توانائی کو بجلی کی پیداوار کے لیے استعمال کرنے کی صلاحیت حاصل کر رہے تھے۔
زراعت، طب اور صنعت میں ایٹمی سائنس
عثمانی کا تصور صرف ایٹمی بجلی گھر تک محدود نہیں تھا۔ ان کے دور میں نیوکلیئر ٹیکنالوجی کو زراعت، خوراک، طب اور صنعتی شعبوں تک لے جانے کی کوششیں بھی ہوئیں۔
اسی وسیع وژن کے نتیجے میں پاکستان میں نیوکلیئر ایگریکلچر اور نیوکلیئر میڈیسن کے مراکز کے قیام کی بنیاد پڑی۔ Nuclear Institute for Agriculture and Biology (NIAB) فیصل آباد اور دوسرے تحقیقی ادارے اسی وسیع سائنسی منصوبہ بندی کا حصہ تھے۔
خلائی پروگرام سے بھی تعلق
ڈاکٹر عثمانی کا کردار صرف ایٹمی توانائی تک محدود نہیں تھا۔ پاکستان کے ابتدائی خلائی پروگرام میں بھی ان کی خدمات شامل رہیں۔ وہ SUPARCO کے ابتدائی دور میں شریک چیئرمین کے طور پر بھی وابستہ رہے، جبکہ ڈاکٹر عبدالسلام اس ادارے کی قیادت میں نمایاں کردار ادا کر رہے تھے۔
یوں دیکھا جائے تو عثمانی پاکستان کے ان ابتدائی سائنس پالیسی سازوں میں شامل تھے جنہوں نے ایک ہی وقت میں ایٹمی سائنس، خلائی تحقیق اور سائنسی تعلیم کے ادارہ جاتی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی کوشش کی۔
عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی
ڈاکٹر عثمانی کی خدمات پاکستان تک محدود نہیں رہیں۔ وہ International Atomic Energy Agency (IAEA) کے ساتھ بھی اہم ذمہ داریوں پر فائز رہے اور 1960 کی دہائی میں اس کے Board of Governors سے وابستہ رہے۔ بعد کے برسوں میں انہوں نے اقوامِ متحدہ کے لیے بھی توانائی کے شعبے میں مشاورتی خدمات انجام دیں۔
وہ ایٹمی ٹیکنالوجی کے پُرامن استعمال اور nuclear arms control کے بھی حامی تھے۔ ان کی علمی و انتظامی زندگی کا یہ پہلو اس بات کو واضح کرتا ہے کہ ان کے نزدیک جوہری سائنس کا مقصد صرف عسکری طاقت کا حصول نہیں تھا۔
ایک مختلف انداز کے ایٹمی معمار
پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا ذکر ہو تو عام طور پر ڈاکٹر عبدالسلام، منیر احمد خان، ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور ذوالفقار علی بھٹو جیسے نام نمایاں ہوتے ہیں۔ لیکن اس پوری داستان کے ابتدائی ادارہ جاتی ڈھانچے کو سمجھنے کے لیے I. H. Usmani کا کردار نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
وہ بنیادی طور پر ایک ایسے institution builder تھے جنہوں نے یہ سمجھا کہ ایٹمی طاقت صرف ایک بم یا ایک ری ایکٹر کا نام نہیں؛ اس کے پیچھے یونیورسٹیاں، تحقیقی ادارے، تربیت یافتہ سائنس دان، انجینئرز، لیبارٹریاں اور طویل المدت قومی سائنسی پالیسی ضروری ہوتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ انہیں پاکستان کے ابتدائی ایٹمی پروگرام کے اہم معماروں میں شمار کیا جاتا ہے۔
آخری ایام اور قومی اعزاز
ڈاکٹر آئی۔ ایچ۔ عثمانی 1991 میں پاکستان واپس آئے اور 17 جون 1992 کو کراچی میں انتقال کرگئے۔ ان کی خدمات کو بعد از وفات پاکستان کے اعلیٰ ترین سول اعزازات میں سے ایک Nishan-i-Imtiaz سے تسلیم کیا گیا۔
آج جب پاکستان کے جوہری سفر کی تاریخ لکھی جاتی ہے تو ڈاکٹر آئی۔ ایچ۔ عثمانی کا نام اس ابتدائی نسل کے سائنس دان اور منتظم کے طور پر سامنے آتا ہے جس نے پاکستان میں ایٹمی سائنس کے لیے ادارے بنائے، نوجوان سائنس دان تیار کیے اور تحقیق و توانائی کے ایک وسیع قومی پروگرام کی بنیاد رکھی۔
علی گڑھ کے علمی ماحول سے نکلنے والا یہ سائنس دان آخرکار پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی ابتدائی سمت متعین کرنے والی شخصیات میں شامل ہوگیا۔
۔
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Verified by MonsterInsights