Categories
Exclusive Interesting Facts Karachi MQM PPP Sajid Ahmed Society انکشاف ایم کیو ایم پیپلز پارٹی جماعت اسلامی دل چسپ ساجد احمد سمے وار بلاگ سندھ سیاست قومی تاریخ قومی سیاست کراچی مہاجر صوبہ مہاجرقوم

حاظم بھنگوار! یہ “تجاوزات” کی نوٹنکیاں بند کرو!

سمے وار (تحریر: ساجد احمد)
ضلع کراچی جنوبی کے موجودہ اسسٹنٹ کمشنر حاظم بھنگوار ایک بار پھر خبروں میں ہیں۔ یوں تو انھیں بھی شاید اس کا بے حد شوق ہے، جب وہ ضلع کراچی وسطی میں تعینات تھے، تب بھی ان کی خبریں اور کام سامنے آتے تھے۔ ذاتی زندگی میں وہ جو بھی ہیں، ہم اس کا انھیں حق دیتے ہیں، لیکن بیوروکریسی میں رہ کر اور کراچی جیسے شہر میں وہ جو کر رہے ہیں، اس پر ان کے حوالے سے بات ضرور ہونی چاہیے، کیوں کہ بہت سے لوگ ان کی “شخصیت” سے “متاثر” ہو کر ان پر وارے وارے جاتے ہیں۔ انھیں معصوم، مختلف، منفرد اور تبدیلی سے بھی تعبیر کرتے ہیں۔
ہم اس حوالے سے آرا رکھنے والوں کو ان کی ذاتی پسند وناپسند کا حق دیتے ہیں، لیکن اصل مدعے پر آتے ہیں کہ وہ جو “حضرت” نے “تجاوزات” کے نام پر اکبر روڈ کے پورے موٹر سائیکل مکینک بازار کو سیل کردیا، صدر میں روایتی پکڑ دھکڑ کرکے اپنی روزی کمانے والوں کے سامان ضبط کرلیے۔ یہی نہیں اپنے یہ کرتوت کسی سنسنی خیز فلم کی موسیقی کے ساتھ اپنے سوشل میڈیا پر لٹکا بھی دیے جیسے کسی مجرمانہ سرگرمیوں کے خلاف کوئی دبنگ کارروائی ہو رہی ہو!
ان صاحب کے نام پر مر مٹنے والے اور یہ خود حاظم بھنگوار صاحب!
اول تو یہ کہ ایسی حرکتیں کرکے ٹھیک ہے آپ کراچی جیسے شہر میں نام نہاد قانون کی رکھوالی کروا رہے ہیں ٹھیک ہے اس کا ڈھونگ بھی رچائیے لیکن یہ سنسنی خیز موسیقی چہ معنی؟
اس شہر ناپرساں میں غریب کی روزی روٹی جا رہی ہے اور آپ کو لگ رہا ہے کہ آپ نے کوئی کارنامہ انجام دے دیا۔ شرم آنی چاہیے آپ جیسی بیوروکریسی اور طاقت کے نشے میں ڈوبے افسر شاہوں کو۔ جنھیں صرف یہ دکھائی دیتا ہے کہ یہ “تجاوزات” ہے اور یہ کوئی بہت بڑی دہ شت گردی ہو رہی ہے، وہ یہ نہیں جانتے اس وقت مہنگائی میں دو وقت کی حلال روزی کتنی مشکل ہوگئی ہے۔ کس مجبوری میں لوگ محنت سے چار پیسے کما سکتے ہیں۔ ریاست ویسے ہی غریبوں کو کچل رہی ہے، لوگ مجرمانہ سرگرمیوں کی طرف جا رہے ہیں، ایسے میں اگر کوئی محنت کش کسی طرح کوئی پتھارا لگا رہا ہے تو اس کا کوئی مستقل حل ہونا چاہیے، یہ ہمیشہ سے رہا ہے کہ سرکاری اہل کار خود رشوت لے کر یہ لگنے دیتے ہیں اور پھر دوسری سرکار آکر چھری چلا دیتی ہے۔
میرا آپ سے سوال ہے کہ آپ نے ان پتھارے والوں سے رشوت لینے والے تھانے، سرکاری اداروں اور بہت سے دیگر اداروں کے کتنے افسران کی کان کھینچے؟
آپ نے پوچھا نہیں کہ تم کس کس کو اور کتنے پیسے بھتے کے دیتے ہو جو یہاں کھڑے ہونے دیا جاتا ہے؟
کیا آپ اتنے معصوم ہیں یا پھر آپ بھی اپنے غیر مقامی ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے کراچی کی ہڈیاں چبانا چاہتے ہیں؟ شاید یہی حقیقت ہے!
دوسری بات
حاظم بھنگوار صاحب!
آپ کو “تجاوزات” کے نام پر ٹیکس دینے والے جائز کاروبار کرنے والے اور محنت کش ہی دکھائی دیے۔ یہ فٹ پاتھوں اورپلوں کے نیچے جو سندھ اور پنجاب سے لا لا کر ہیرونچی اور ان کے پورے خاندان پڑ رہے ہیں۔ انھیں ہٹانے کی جرات نہیں ہے؟ کیا یہ مہاجروں کو اقلیت میں بدلنے کا عظیم منصوبہ ہے۔ کہ یہ جے ڈی سی کے شتر مرغ، سیلانی کے قورمے اور چھیپا کی بریانیاں کھا کر راتوں کو سڑکوں کے کنارے لگے جال نوچیں۔
گٹروں کے ڈھکنے اٹھا اٹھا کر لے جائیں؟ موبائل چھینیں، چوریاں اور بدمعاشیاں کریں؟
کیا یہ تجاوزات نہیں؟ یہاں بہت سے لوگ غریبوں کے غم میں مرنے لگیں گے تو بھائی ذرا جا کر پوچھو، چند دن پہلے، چند ہفتے پہلے، چند ماہ اور چند سال پہلے کہاں ہوتے تھے؟ یہاں کراچی کے مرکز میں فٹ پاتھوں پر لا کر کس نے پھینکا ہے؟ کیوں کوئی پوچھتا نہیں ہے تمھیں؟ یہ کون سی سازش ہے اور یہ حاظم بھنگوار جیسوں کو دکھائی کیوں نہیں دیتے؟
تیسری بات
کیا “تجاوزات” کے حوالے سے نام نہاد فلاحی اداروں اور خیراتی تنظیموں نے کیا شہر کی سڑکوں کو اپنے باپ کا مال سمجھ لیا ہے۔ جس پل کے نیچے دیکھو، جس سڑک کے کنارے دیکھو ان کی ایمبولینسیں کھڑی ہوئی ہیں؟
میت گاڑیاں پوری سڑک کے کنارے پر مستقل طور پر موجود ہیں، ان کے حرام خور دسترخوان جاری ہیں، کسی نے عقیقے اور صدقے کے بکرے کاٹنے اور پالنے شروع کردیے ہیں، کسی نے اپنے کائونٹر جما دیے ہیں؟
کیا یہ این جی اوز، یہ چھیپا، سیلانی اور ایدھی شہر کے بیچوں بیچ لوگوں کی آمد ورفت میں رکاوٹ ڈالنے کا حق رکھتی ہیں؟ کیا یہ تجاوزات نہیں؟ کیا ان سے ٹریفک جام اور لوگوں کو مشکلات نہیں ہو رہیں؟
حاظم بھنگوار
اس ریاست کے روایتی اشرافیہ اور نوکر شاہی کی طرح کراچی والوں کا خون پینا اور ان کی زندگی وبال کرنا بند کرو۔ یہ دہرے معیار، یہ ششکے، یہ ڈرامے بازیاں، یہ نوٹنکیاں دکھانے کے لیے کوئی اور جگہ دیکھ لو ہمارے شہر اور ہمارے نگر کی جاں بخش دو۔ ویسے ہی یہاں بہت سے عذاب موجود ہیں!
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Verified by MonsterInsights