Categories
Education Exclusive Interesting Facts Karachi Media MQM PPP Society انکشاف ایم کیو ایم پیپلز پارٹی جماعت اسلامی دل چسپ سمے وار بلاگ سندھ سیاست قومی سیاست کراچی مہاجر صوبہ

سانحہ گُل پلازا: یہاں کئی المیے جی رہے ہیں!

سمے وار (تحریر: محمد امین الدین)
سانحات، حادثات اور بد انتظامی کی وجہ سے صرف کراچی نہیں بلکہ پورا ملک گویا کسی آتش فشاں کے دہانے پر ہے۔ نہ جانے کب کہاں سے لاوا اُبل پڑے، کچھ معلوم نہیں۔
پاکستان میں سانحات کی 78 سالہ تاریخ ہے ۔ ہر سانحے کی فائل سرد مہری کے گردو غبار سے اٹی پڑی ہوئی ہے۔ مگر سماج میں مجرمانہ ذہنیت رکھنے والے سماج دشمن عناصر اکثر ذمہ داروں کے نام خفیہ رکھنے میں ید طولیٰ رکھتے ہیں۔ فائلیں ردی کا ڈھیر بن جاتی ہیں۔ نہیں معلوم کہ کبھی کوئی مجرم پکڑا گیا ہو۔ اکثر مجرم طاقت وَر مچھلیوں کی طرح ہوتے ہیں جو جال کو توڑکر بچ نکلتے ہیں۔
میں گل پلازہ کی عمارت میں آج سے کوئی 10 گیارہ برس پہلے گیا تھا۔ وہ تب بھی کسی الجھے ہوئے بھول بھلیاں کی طرح تھی ۔ اُوپر جانے کا راستہ ڈھونڈنا پڑتا تھا جو کہ محض پانچ بائی پانچ فٹ میں گھومتی ہوئی سیڑھی پر مشتمل تھا۔ کم جگہ میں جب زینہ بنایا جاتا ہے تو اس کا ہر اسٹیپ کھڑی ہوئی شکل میں بنتا ہے۔ یعنی اگر ایک فلور دس فٹ بلند ہے اور جگہ مناسب ہے تو ہر زینہ گیارہ انچ چوڑا اور چھے انچ اونچا بنایا جاسکتا ہے۔ ایسی صورت میں بیس زینے ہی بنتے ہیں مگر اس کے لئے بیس فٹ جگہ درکار ہوتی ہے۔ مگر جب جگہ کم ہو تو زینے کی چوڑائی کم اور اونچائی بڑھانا پڑتی ہے۔ ایسے زینے بچوں اور خواتین کے لئے بہت زیادہ مشکلات پیدا کرتے ہیں۔مجھے یہ تب بھی بھیڑ والی جگہ پر بے ڈھنگے ہی لگے تھے۔
میں کراچی کی بہت سی عمارتوں کے بارے میں جانتا ہوں جہاں اگر ذرا سی غفلت برتی گئی تو کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ گل پلازہ جب بنا تب ہی سے نامناسب تھا۔ اس کا بیس منٹ دکانوں کے لئے نہیں تھا مگر بعد میں اسے دکانوں میں کنورٹ کردیا گیا۔ بہت عرصے تک سامنے والے پلاٹ کو پارکنگ کے لئے استعمال کیا گیا اور شاید وہ بھی بند کردیا گیا۔اور اب حال ہی میں اس میں حد سے زیادہ دکانیں بنا دی گئیں۔
اس کے علاوہ ہمارے ہاں سامان اپنی دکانوں کو حدود میں سمیٹ کر رکھنے کا کلچر ہی نہیں ہے۔ زیادہ سے زیادہ سامان کو راہ داریوں میں رکھنے کا عام سا رواج ہے جس کی وجہ سے خریداروں کو گزرنے میں کافی دشواری ہوتی ہے، اور اگر کسی قسم کی ایمرجنسی ہوجائے تو بھگ دڑ مچ جاتی ہے۔ حالیہ واقعے میں یہی کچھ ہوا ہے۔
کراچی میں ایسی بےشمار عمارتیں ہیں جن کے اندر تہ خانے میں پارکنگ کے لئے بنائے گئے مگر بعد میں انہیں دکانوں میں تبدیل کردیا گیا۔ کوآپریٹو مارکیٹ ، بولٹن مارکیٹ ، مسکن چورنگی پر ایک پلازا، گلستان جوہر میں کئی عمارتیں، صدر میں کئی مارکیٹیں اس کی مثال ہیں۔ یاد رکھیے یہ حادثہ کوئی آخری حادثہ نہیں ہوگا۔ وقت کی پرورش جاری ہے۔
شاید حکومت کے ساتھ ہم بھی ذہنی طور پر کرپٹ لوگ ہیں۔ ہم اکثر اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لئے دوسروں کا نقصان کرنے سے ذرا بھجی نہیں ہچکچاتے۔ کراچی کی منصوبہ بندی کبھی بھی مستقبل کو سامنے رکھتے ہوئے نہیں کی گئی۔ اکثر ایڈہاک فیصلوں سے کام چلایا گیا ہے۔
شاید پندرہ برس پہلے کی بات ہے۔ عمارات کے نام سے رسالہ نکالنے والی حیات امروہی نے ایک سیمنار سر سید یونیئورسٹی میں منعقد کیا۔ عنوان اس سے ملتا جلتا تھا کہ کراچی کی بد نظمی کا ذمہ داد کون وغیرہ۔ میں وہاں اسٹیج پر بیٹھے افراد جن میں زیڈ اے نظامی اور این ای ڈی کے دو اساتذہ کی گفتگو سن رہا تھا تو میرے جی میں آئی کہ میں اسٹیج پر جاؤں اور کہوں کہ مجھے دس منٹ بولنے کا موقع دیا جائے اور پھر میں شہر کی خرابیوں کی تفصیل بیان کرتے ہوئے بتاؤں کہ یہاں بیٹھا ہوا ایک شخص خود بھی کراچی کی اس بد ترتیبی ، بد نظمی اور بد شکلی کا ذمہ داد ہے۔ مگر میں ایسا نہیں کرسکا، کیونکہ میں جانتا تھا کہ میں جوں ہی بولنا شروع کروں گا مجھے باہر نکال دیا جائے گا۔
ہم ایک کے بعد دوسرے سانحہ ہے گزر رہے ہیں۔ مگر صاحب اختیار بہتری کا کوئی قدم اُٹھاتے دکھائی نہیں دیتے بلکہ انہیں بوقت ضرورت ہمدردی جتانے کا نقاب اُوڑھنا خوب آتا ہے۔
اکثر سمجھا جاتا ہے کہ پہلا سانحہ قائداعظم کی ایمبولینس میں موت ہے ۔ میرا خیال ہے کہ یہ غلط ہے ۔ پہلا سانحہ ہجرت کرنے والوں کی قتل و غارت گری ہے ۔ اگر سنجیدگی اور نیک نیتی سے اس زمانےکے حالات و واقعات کا جائزہ لیا جائے تو بہت سی تلخ حقیقتوں سے پردہ اُٹھ سکتا ہے۔ تب سے اب تک ہم بد انتظامی، بد نیتی اور بے حسی کے عادی ہو چلے ہیں۔
اب تک پورے پاکستان میں سینکڑوں سرکاری اور نجی عمارتوں کو باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت آگ لگائی گئی ہے ۔ کبھی سرکاری ریکارڈ تلف کرنے کے لئے، کبھی فراڈ چھپانے کے لئے، کبھی مخالفین کو نقصان پہنچانے کے لئے،کبھی اپنی دھاک بٹھانے کے لئے اور کبھی بلڈر مافیا کی لالچی حرص کو پورا کرنے کے لئے ان جرائم کا ارتکاب کیا گیا ۔ اسی طرح ٹرینوں کے حادثات کا بھی ایک ٹریک ریکارڈہے ۔ بڑے بڑے پُل یا فلائی اوور گرنے کے کئی واقعات ہوئے ہیں۔ سیلاب کی تباہ کاریاں بھی کبھی قدرتی آفات کی شکل میں اور کبھی کبھی انسانی پیدا کرده المیوں کی صورت دیکھنے میں آتی رہی ہیں ۔ لاتعداد بستیاں اُجاڑی گئی ہیں۔ طاقت وروں کی زمینوں اور فصلوں کو بچانے کے لئے سیلابی پانی کا رُخ موڑا گیا ہے جس کے نتیجے میں لاکھوں غریب لوگوں کے جان و مال اور املاک برباد ہو گئیں ۔ سرکاری دفاتر میں اگ لگنے کے واقعات بھی بے شمار ہوئے ہیں جن کی مدد سے پچھلا ریکارڈ ضائع کرکے نئی اور جعلی فائلیں بنائی گئی تھیں ۔ سمندر میں آئل بہا کر لاکھوں آبی مخلوقات کو نقصان پہنچانے تک کے واقعات پاکستانی تاریخ کا حصہ ہیں۔ اسٹیل مل میں حادثات کے کئی واقعات ہوئے ہیں ۔ تاریخی عمارتوں، عجائب گھروں ، سنیما گھروں ، ہوائی جہازوں، سمندری جہازوں، آئل ٹینکروں کے سانحات بھی لاتعداد ہیں ۔ زلزلے قدرتی آفات میں شمار ہوتے ہیں، مگر ان سانحات سے جہاں بہت سے لوگ متاثر ہو رہے ہوتے ہیں وہیں بہت سے لالچی اور خود غرض لوگ ان سے فوائد حاصل کرتے چلے آرہے ہیں ۔
میں یہ بات کہنے یا مجبورہوں کہ ہمارے ہاں کوئی ایک بھی واقعہ ، حادثہ، سانحہ یا قدرتی آفت ایسی نہیں ہے جس سے سماج کے مخصوص طبقات نے فوائد نا حاصل کئے ہوں ۔ یہ فطرت ہمارے خون میں شامل ہو گئی ہے ۔ کیسے ؟ یہ ایک بہت مشکل سوال ہے ۔
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Verified by MonsterInsights