Categories
Education Exclusive India Interesting Facts Karachi MQM Society انکشاف دل چسپ سندھ قومی تاریخ قومی سیاست کراچی مہاجر صوبہ مہاجرقوم ہندوستان

مہاجر شناخت چھوڑ دیں؟

سمے وار (تحریر: نازش عابدی)
یہ جو آج کل نسبتوں کا احتساب شروع ہوا ہے، اس میں سب سے پہلے لفظ “مہاجر” کٹہرے میں کھڑا ہے۔یوں لگتا ہے جیسے یہ لفظ کوئی جرم ہو جو نسل در نسل منتقل ہو گیا ہو، اور اب ہر نئی سانس کے ساتھ اس کا جواب دینا لازم ٹھہرا ہو۔۔۔۔۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ لفظ نہیں، کوئی پرانا قرض ہو جس کی رسید ہر نسل سے طلب کی جا رہی ہو۔۔۔۔۔لفظ “مہاجر” کوئی جغرافیائی اصطلاح نہ تھی، یہ تو ایک حالِ دل تھا۔۔۔۔یہ اس آدمی کا نام تھا جس نے اپنا کل چھوڑ کر ایک ایسے مستقبل کو اختیار کیا جس کی ابھی بنیاد بھی پوری نہ ڈلی تھی۔۔۔۔یہ لفظ بزرگوں نے اس لیے رکھا کہ ان کے پاس شناخت کے نام پر صرف ایک فیصلہ بچا تھا۔۔۔۔۔اور وہ فیصلہ ہجرت تھا۔
ہم نے کہا:
“حضور، ہم نے تو بس اپنا نام بتایا ہے۔”
فرمایا گیا:
“نام نہیں، ماضی بتایا ہے۔۔۔۔اور ماضی اب چھوڑ دینا چاہیے۔”
یہ سن کر دل نے عرض کی کہ بھلا تاریخ بھی کبھی ایسے چھوٹتی ہے جیسے پرانا کوٹ؟
“مہاجر” کوئی روزمرہ کا لفظ نہ تھا،
یہ تو ایک داستان تھی۔۔۔ایسی داستان جس میں گھر تھے مگر چھت نہیں،
راستے تھے مگر نقش نہیں،اور امید تھی مگر آسائش نہیں۔۔۔۔یہ لفظ بزرگوں نے اس لیے اپنایا کہ ان کے پاس یاد کے سوا اور کچھ بچا نہ تھا،اور یاد اگر لفظ نہ بنے تو بکھر جاتی ہے۔۔۔۔۔
پھر وقت آیا کہ لفظوں کے مزاج بدلنے لگے۔مہاجر کہیں “مکڑ” کہلایا۔۔۔کہیں “مٹروہ”۔۔۔کہیں “تلیر”۔۔۔۔اور کہیں صرف “ہندستانی” ۔۔۔۔۔انہوں نے تب بھی خاموشی سے لفظ سنبھالے رکھا،اس لیے نہیں کہ انہیں ضد تھی،بلکہ اس لیے کہ انہیں اپنی تاریخ سے فرار کا قرینہ نہ آیا۔
اب فرماتے ہیں کہ
“جو مقامی ہوتا ہے وہ خود کو مہاجر نہیں کہتا، کیوں کہ مقامی دھرتی کی اولاد ہوتا ہے۔”
عجب ہے!
اگر یہی بات ہے تو قبرستانوں میں دفن بزرگ کس شمار میں آئیں گے؟
اور اگر بات دھرتی کو ماں ماننے کی ہے تو شاید اولاد کا فرض جیسا مہاجر نے ادا کیا ویسا کوئی کیا ہی ادا کرے گا۔۔۔۔مہاجر نے اس دھرتی کے لیےخیموں میں راتیں کاٹیں۔۔لاشیں اٹھائیں۔۔آباء کی زمین ترک کی۔۔۔۔۔۔اس نے اس دھرتی کو اپنے خواب دیے۔۔۔اپنی جوانیاں دیں۔۔اپنی محنت دی۔۔۔محبت دی۔۔۔اپنی زبان دی۔۔۔۔۔۔یہاں تک کہ اپنے مردے بھی اسی دھرتی کو سونپ دیے۔۔۔۔۔۔۔ یہ سب کر کے بھی اگر کسی کی نظر میں اولاد نہ ٹھہرے تو اس کی بینائی مشکوک ہے!
یہ بھی کہا گیا کہ
“اب تو تم رچ بس گئے ہو،اب مہاجر پہچان چھوڑ دو۔”
عرض ہے کہ،”شناخت کوئی وردی نہیں جو موسم کے ساتھ بدل لی جائے۔
یہ تو زخم کی طرح ہوتی ہے۔۔۔۔ٹھیک ہو جائے تو بھی نشان چھوڑ جاتی ہے۔”
پنجابی اگر کراچی میں پیدا ہو کر بھی پنجابی ہے،سندھی اگر نسلوں بعد بھی سندھی ہے،تو مہاجر ہی کیوں مطالبۂ صفائی میں آئے؟
ایک صاحب نے فرمایا:
“مہاجر تو وہ ہوتا ہے جو واپس جانے کا ارادہ رکھتا ہو،جیسے افغان جا رہے ہیں۔”
یہ سن کر دل نے کہا:
جناب! مہاجر نے تو واپسی کا خواب بھی یہیں دفن کر دیا تھا۔مہاجر واپس نہیں گئے، وہ یہیں کے ہو گئے۔ فرق پناہ گزین اور مہاجر میں یہی تو ہے۔۔۔۔ایک ٹھہرتا ہے۔۔۔۔دوسرا جڑ پکڑتا ہے۔۔۔
اصل مسئلہ لفظ نہیں،اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان سے کہا تو گیا کہ “پاکستان تمہارا ہے”،مگر برابری کبھی پوری نہ ملی۔
جب شناخت نوکری میں پوچھی جائے،
جب زبان سیاست میں تولی جائے، قدم قدم یہ جتلایا جاۓ کہ تم ہم میں سے نہیں ہو۔۔۔۔ اور پھر یہ توقع بھی رکھنا کہ آدمی اپنی نسبت خاموشی سےکسی کونے میں دفن کر دے۔۔۔۔کچھ زیادہ ہی حسنِ ظن ہے۔

یہ خود کو “مہاجر” اس لیے نہیں کہتے کہ یہ کہیں اور کے ہیں، بلکہ اس لیے کہتے ہیں کہ انہوں نے کہیں اور کو چھوڑ کر یہیں کو سب کچھ مان لیا تھا۔ یہ تکبر نہیں،یہ ایک امانت ہے۔۔ بزرگوں کی، وقت کی، تاریخ کی۔۔۔۔اب اگر حکم ہو کہ شناخت بدلو تو جناب شناخت اجازت سے نہیں، تسلسل سے چلتی ہے۔اور ان کا تسلسل ہجرت ہے۔۔۔
یہ ان کی مرضی نہیں، ان کی تاریخ ہے۔۔۔
آخر میں بس اتنا ہی عرض ہے کہ مہاجر کہنا نہ بے وطنی کا اعلان ہے،نہ برتری کا دعویٰ،نہ واپسی کا اشارہ اور نہ ہی کسی اور کی نفی۔۔۔۔۔یہ صرف اتنا کہنا ہے کہ مہاجر اس داستان کے وارث ہیں جس سے یہ وطن وجود میں آیا تھا اور یہ وراثت۔۔۔۔ یہ نسبت ہمارا فخر ہے۔۔۔۔
اور شاید غالب نے سچ ہی کہا تھا:
وفاداری بشرطِ استواری اصلِ ایماں ہے۔۔
اور ہم نے یہ استواری ایمان کی طرح نبھائی ہے، لفظ سے بھی، وطن سے بھی۔
.
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Verified by MonsterInsights