سمے وار (تحریر: رضوان طاہر مبین)
سابق گورنر سندھ کامران ٹیسوری جتنے متنازع رہے، اتنے ہی منفرد گورنر بھی ثابت ہوئے۔ یقیناً وہ ایک ایسی شخصیت تھے، جو الطاف حسین کو الگ کرنے والی “بہادرآباد ایم کیو ایم” میں شامل ہوئے تو اپنے ساتھ کچھ “مسائل” بھی لے کر آئے۔ انھیں ابتدائی طور پر ایک ناکام ہوجانے والے حلقے میں صوبائی اسمبلی کا امیدوار بنایا گیا۔ یہاں تک بہ ظاہر سب ٹھیک چلتا رہا۔ 2018 میں جب سینیٹ کے انتخابات کے موقع پر اس وقت کے ّبہادرآباد ایم کیوایم” کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے کامران ٹیسوری کو سینیٹ کا ٹکٹ دینا چاہا تو رابطہ کمیٹی نے اس کی اتنی سخت مخالفت کی کہ فاروق ستار ہی احتجاجاً اپنے گھر جا کر بیٹھ گئے اور پھر انھوں نے “ایم کیو ایم بحالی کمیٹی” کی داغ بیل ڈالی، شبیر قائم خانی، علی رضا عابدی، خواجہ سہیل منصور، شاہد پاشا، کامران اختر، جمال احمد اور نشاط ضیا وغیرہ ڈاکٹر فاروق ستار کے ساتھ رہے۔ پھر دھینگا مشتی میں سینٹ کی نشست بھی کم ہوگئیں اور کامران ٹیسوری امیدوار بھی نہ ہو سکے۔ پھر جولائی 2018 کے عام انتخابات سے قبل فاروق ستار غیر مشروط طور پر بہادرآباد گروپ کا حصہ بن گئے، لیکن انتخابی شکست کے بعد دونوں دھڑے پھر پہلے کی طرح الگ ہوگئے۔
10 اکتوبر 2022 کو دنیا نے حیران کن منظر دیکھا کہ “بہادرآباد گروپ” سے سینٹ تک پہنچنے میں ناکام رہنے والے کامران ٹیسوری گورنر سندھ کے طور پر سامنے آگئے اور پتا یہ چلا کہ یہ اسی “ایم کیو ایم بہادرآباد” کے گورنر ہیں، جس کی وجہ سے فاروق ستار سے پوری پارٹی چھن گئی تھی۔ گورنری سنبھالنے کے چند ہی ماہ بعد 12 جنوری 2023 کو انھوں نے مصطفی کمال کی “پی ایس پی” اور ڈاکٹر فاروق ستار کی “ایم کیو ایم بحالی کمیٹی” کو ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی سربراہی میں لا کر بٹھا دیا، گویا اپنی اہمیت اور “صلاحیت” کا پہلا بھرپور اظہار کیا۔
اس کے بعد کامران ٹیسوری اکثر و بیش تر خبروں میں رہے، کبھی یہ شکایت کی کہ پولیس نے ان کے سال نو کی آتش بازی کا سامان ضبط کرلیا، کبھی سَحر وافطار میں کراچی کے مختلف علاقوں کے دورے کرکے عوام میں گھلنے ملنے کی کوشش کی، موٹر سائیکلوں پر گھومتے نظر آئے۔ کبھی پتا چلا کہ گورنر ہاﺅس میں شکایت کے لیے مغل بادشاہ جہانگیر کی طرح ایک گھنٹی نصب کردی کہ بجائیے اور سنوائی کروا لیجیے، پھر چل سو چل گورنر ہاﺅس میں افطار اور عوام الناس کے لیے نئے سال کے جشن کا اہتمام ہوا، مشاعروں کا ایک سلسلہ چل نکلا، سب سے بڑھ کر انھوں نے تاریخ میں پہلی بار 24 دسمبر کو گورنر ہاﺅس میں یوم مہاجر ثقافت منا کر اپنی انفرادیت پر ایک اور مہر ثبت کردی۔ آنے والے مہمانوں کو باقاعدہ مہاجر شال اور مہاجر ٹوپی پہنا کر سندھ کی دوسری ثقافت کو نمائندگی دی۔
تقریر اور لباس میں قائد متحدہ الطاف حسین کے طریقے کی نقل اور “بھائی آرہے ہیں” جیسے ذومعنی اور حقیقت میں بے سروپا جملے چھوڑنے کے ساتھ ساتھ کامران ٹیسوری نے شہر کراچی کی بدحالی اور یہاں کے مسائل کے حوالے سے بھی اونچے سروں میں بات کرنی شروع کی، اس سے پہلے وہ گورنر ہاﺅس میں نوجوانوں کے لیے مختلف کورسز بھی شروع کرا چکے، کراچی میں چھینی جانے والی موٹر سائیکل کے مالکان کو نئی موٹر سائیکلیں دینے کا اعلان کردیا، شہر کی بدحالی پر پیپلزپارٹی پر تنقید کا محاذ بھی سنبھالے رکھا، یہاں تک کہ گورنر ہاﺅس میں بے باک “کراچی کانفرنس” کا انعقاد کردیا، جس میں شبر زیدی جیسے سیاست دان آکر شہر میں رینجرز کی موجودگی کے حوالے سے کھل کر اظہار خیال کرتے ہیں تو فہیم صدیقی جیسے صحافی کراچی کے سندھ سے علاحدگی کے حوالے سے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتے۔ یہی وہ معاملات تھے کہ پیپلزپارٹی کی برداشت جواب دے گئی کہ ایک سرکاری چھتری تلے بنائی گئی ایک “مصنوعی سیاسی جماعت” کا ہرکارہ گورنر ہاﺅس جیسے ایوان میں کراچی والوں کی آوازوں کو راہ دے رہا ہے۔
کئی بار افواہیں گردش کیں، بہتیرے جعلی اعلامیے بھی نکلے جس میں کامران ٹیسوری کی طویل رخصت جیسی باتیں بھی شامل تھیں۔ ایوان صدر کو سیاسی اکھاڑا بنانے والوں کے چمچوں نے گورنر ہاﺅس کے سیاسی استعمال پر عدالت کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا۔ یہ وہ بلبلاہٹ تھی جو کامران ٹیسوری جیسے غیر سنجیدہ یا متنازع شخص کو عوامی مقبولیت یا اہمیت دلوا رہی تھی۔
پھر اسی اثنا میں کل 12 مارچ 2026 کو مسلم لیگ نواز کے آخری مہاجر راہ نما نہال ہاشمی صاحب کو گورنر سندھ بنانے کا اعلان ہوگیا۔۔۔
اچھا، کامران ٹیسوری کے خلاف پیپلز پارٹی کے ساتھ “بہادرآباد گروپ” میں موجود “کمال گروپ” بھی تھا، اور بتایا جاتا ہے کہ کامران ٹیسوری کی رخصتی پر ان کی خوشی “سائیں سرکار” سے زیادہ نہیں تھی تو کم بھی نہیں تھی۔۔۔
دوسری طرف نہال ہاشمی کے “نہال” ہونے کے تذکرے ہونے لگے، احباب ان کے موازنے کرنے لگے، ان کے ساتھ اپنی پرانی رفاقت کے اظہار کرنے لگے۔ حتیٰ کہ کل ہی پہلی بار ان کے مشرقی پاکستان سے نسبت کا بھی معلوم ہوا۔ جس پر ہم سوچتے رہے کہ مجال ہے کہ بہاری یا مہاجر نسبت سے کبھی انھوں نے ایک لفظ بھی کہا ہو، کبھی مشرقی پاکستان سے آنے والوں کے شناختی کارڈ کے مسئلے پر لب کشائی کی ہو یا کراچی کے بنیادی مسائل یا مہاجر شناخت کی تائید کی ہو
نہال ہاشمی کے گورنر نام زد ہونے پر اپنی نیک تمنائیں دینے والوں نے دوسری سمت سابق چیف جسٹس جسٹس (ر) ثاقب نثار سے ٹکراﺅ کا بھی ذکر کیا، کسی نے ان کی پاک فوج کے خلاف سخت تنقید کے ٹوٹے بھی چلائے، کسی نے نواز شریف کی جانب سے ان کو نظرانداز کرنے کی ذلت کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ “خوشامد کی محنت” جاری رہے تو ایسے ہی میٹھا پھل ملتا ہے جیسے نہال ہاشمی کو ملا۔
شاید یہ نواز لیگ کی مجبوری بھی تھی کہ سندھ میں 1972 میں یہ طے ہو چکا تھا کہ سندھ ذولسانی صوبہ ہے، اس لیے گورنر یا وزیراعلیٰ میں سے لازماً ایک مہاجر ہوگا۔ اس وقت نہال ہاشمی فقط 12 برس کے تھے، تو کیا نہال ہاشمی گورنری کے کسی لمحے اپنی قوم کے بزرگوں کی اس فتح کو یاد کریں گے کہ جس کی وجہ سے گورنری کا ہما آج ان کے سر بیٹھا ہے، کیوں کہ مسلم لیگ (ن) میں ممنون حسین اب مرحوم ہوچکے، ویسے بھی صدر مملکت کے بعد دوبارہ گورنر بننا عجیب سا لگتا، جسٹس (ر) سعید الزماں بھی گورنر بننے کے ایک ماہ بعد ہی چل بسے، اس کے بعد جنرل (ر) غلام عمر کے بیٹے اور تحریک انصاف کے اسد عمر کے بھائی محمد زبیر اب مسلم لیگ (ن) سے دور ہوچکے ہیں، ورنہ وہ جیسے تیسے “مہاجر” تھے اور اسی نسبت سے وہ گورنر سندھ کے منصب پر فائز بھی رہ چکے۔ اس لیے اب نواز لیگ میں بہت دور تک بھی کوئی اور مہاجر راہ نما دکھائی نہیں دے رہا، سو آخری مجبوری کا سودا ہی سہی، اب نہال ہاشمی کو نہال ہونے کا موقع مل چکا ہے۔
کچھ لوگوں نے انھیں کامران ٹیسوری کے مقابلے میں متوازن، سنجیدہ اور پروقار قرار دیا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ کامران ٹیسوری نے اپنے آنے والے کے لیے ایک نہایت مشکل ہدف متعین کیا ہے۔ اگرچہ خطابت اور جوش اور ولولے میں نہال ہاشمی کامران ٹیسوری سے بہت آگے ہیں، سیاست بھی نہال ہاشمی کے لیے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے، لیکن نہال ہاشمی اور مزاج کے آدمی ہیں، کامران ٹیسوری کو چاہے اب بھی لاابالی کہیے، لیکن انھوں نے ساڑھے تین سال میں نہال ہاشمی کے لیے ایک مشکل ہدف متعین کردیا ہے۔ ابھی خبر آئی ہے کہ کامران ٹیسوری گورنر ہاﺅس سے رخصت ہوگئے ہیں اور اس کے ساتھ گورنر ہاﺅس کا افطار دسترخوان سمیٹ دیا گیا ہے۔ ہم تو پہلے ہی کہہ رہے تھے کہ کامران ٹیسوری کی بے باکی کا مقابلہ کرنا نہال ہاشمی کے بس کی بات نہیں ہے۔ شاید دوبارہ سے گورنر ہاﺅس کی دیواریں اونچی اور دروازے مقفل ہوجائیں گے۔ کامران ٹیسوری کا پس منظر اور ان کا اپنی پارٹی سے ماورا اقدام انھی کا خاصہ تھا، نہال ہاشمی پنجاب کی ایک بھاری بھرکم پارٹی کے ناتواں مہاجر نمائندے ہیں، انھیں قدم پھونک پھونک کر رکھنے ہیں اور نپے تلے انداز میں لب کشائی کرنی ہوگی۔ آنے والے دنوں میں کراچی والے کامران ٹیسوری اور نہال ہاشمی کے اس فرق کو اچھی طرح دیکھ لیں گے اور یہ سب تاریخ میں محفوظ ہوجائے گا۔
.
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)
Categories
نہال ہاشمی کامران ٹیسوری کے مشکل ہدف کا تعاقب کرسکیں گے؟
