سمے وار (تحریر: عائشہ تنویر)
طلبہ نقل کے لیے پھّرے ( cheating material) پین کے ری فلز نکال کر وہاں چھپاتے ہیں۔ کرنسی نوٹ پر لکھ لاتے ہیں۔ بالوں میں پِن کے ذریعے طالبات لگاتی ہیں یا دوپٹوں کی پائپنگ میں ۔ ایڈمٹ کارڈ کی پلاسٹک کوٹنے میں چھپاتے ہیں۔ ٹشو پیپر پر لکھ لاتے ہیں۔ اب یہ وہ بچے ہوتے ہیں ، جو نقل کرنا چاہتے ہیں، موقع ڈھونڈتے ہیں ۔کبھی کامیاب ہو جاتے ہیں اور کبھی ناکام۔
ان ہی بچوں کو نقل سے روکنے کے لیے سنٹر کے اندر سوائے اسٹیشنری (ٹرانسپیرنٹ پاؤچ ہو ، کلرڈ نہ ہو)۔ اور ایڈمٹ کارڈ کے اور کچھ لے جانے کی اجازت نہیں ہوتی ۔
بعض جگہوں پر جوتے بھی اتروا لیے جاتے ہیں۔ اسی لیے بچوں کو اسکول شوز کے بجائے کھلی چپل/ سینڈل پہن کر آنے کا کہا جاتا ہے۔
یہ وہ تھا جو ہم کرتے ہیں یا ہمارے دور طالب علمی میں ہمارے ساتھ ہوا تھا
پھر جو مستقل نقل کا سنتے ہیں ، اس میں کس حد تک سچائی ہے ۔
اس بارے میں کھوج لگائی تو علم ہوا کہ سوشل میڈیا پر من گھڑت اور مبالغہ آمیز چیزیں ضرور ہیں مگر یہ بھی مکمل غلط نہیں ہے۔
نقل ہوتی ہے اور وہاں ہوتی ہے جہاں کرسی پر کوئی راشی بیٹھا ہو یا کوئی انویجلیٹر اور پیون وغیرہ شامل ہو۔
اسکول میں کوئی ایسے کونے والے کمرے جہاں تک کوئی جاتا بھی نہیں ، وہاں نقل کرنے والے بچے ، پیسے لے کر الگ کر کے بٹھا دیے جاتے ہیں ۔
بورڈ کی ٹیم آتی ہے ، وہ آرام سے بیٹھے پیپر کرتے بچوں اور اپنی زمہ داری ایمان داری سے نبھاتے اساتذہ کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں ،جانچ پڑتال کے بعد وزٹ کر کے واپس چلے جاتے ہیں اور کونے والا کمرہ بدستور محفوظ رہتا ہے۔
کسی جگہ انچارج ایمان داری سے ڈیوٹی کر رہا ہے مگر ذمہ داری سے نہیں کر رہا تو وہاں پیون پیسے لیتے ہیں اور وہ روم انویجلیٹر کی مدد سے نقل کرواتے ہیں۔ انویجلیٹر کو انچارج اور ٹیم کی امد سے باخبر رکھتے ہیں۔ ان کے کلاس میں پہنچنے تک سب نارمل ہو جاتا ہے۔ اکثر میڈیا والے اور بورڈ کی ٹیم آرام سے پیپر کرتے بچوں کو ڈسٹرب کرتے ہیں۔
ٹیچر کاپی پر سائن کرنے جائے تو میڈیا والے ” مدد ” کا الزام لگا دیتے ہیں۔ بچے کے ہاتھ سے پین نیچے گر گیا اور اٹھاتے وقت میڈیا یا بورڈ کا بندہ دیکھ رہا ہو تو بھی ٹیچر اور طالب علم مشکوک ہو جاتا ہے کہ ہو نہ ہو ، کوئی گڑبڑ ہے۔
ایک صورت اور ہوتی ہے ۔
وہ کراچی کے مضافاتی علاقے ، کراچی کے گوٹھوں میں اسکول جہاں کسی گروہ کا اتنا اثر و رسوخ ہو اور ایسا علاقہ ہو کہ عام لوگ وہاں اتنا اندر جانا نہ چاہیں ۔ وہاں بے ایمان بندہ ہو تو پورا سینٹر پیسے دے کر نقل کرتا ہے ۔
ایسے سنٹر کے لیے نجی اسکول والے یا طلبہ خود بورڈ میں پیسے کھلا کر وہاں اپنا سنٹر بنواتے ہیں۔
یہ خبر پچھلے سال دیکھی تھی کہ کلفٹن کے ایک اسکول کا سنٹر لانڈھی کے اندرونی کسی علاقے میں ایسی جگہ بنا ہے کہ جانا محال۔
اسکول پرنسپل پریشان ہو کر بورڈ آفس پہنچا کہ ہمارا سنٹر اسکول کے علاقے سے اتنی دور کیسے پڑ سکتا ہے تو علم ہوا کہ طلبہ نے پیسے اور سورس استعمال کی ہے کیونکہ بھلے راستہ لمبا سہی مگر اس سنٹر میں وہ نقل کر سکتے تھے۔ اس کے علاؤہ وہ تمام فورم جہاں چند سالوں سے واٹس ایپ آنے کے بعد پیپر لیک ہوتا ہے۔
پیپر لیک نہیں ہوتا بلکہ بورڈ آفس سے شہر کے مضافات تک پہنچنے کے دوران کوئی پیون اپنا ایمان بیچ دیتا ہے اور ایک پک لے لیتا ہے ۔ پھر پیپر شروع ہونے سے کچھ پہلے یا بعد پکس آنے لگتی ہیں۔ لیکن الحمدللہ ، اب کی بار ایسا نہیں ہوا۔ کیوں کہ اس کا حل بھی نکال لیا گیا ہے۔
اب بات یہ ہے کہ جب بے ایمانی بنیاد سے عوام کے دل میں ہو تو سو فیصد شفافیت ایک مشکل امر ہے ۔
والدین خود پیسے دے رہے ہیں۔ خود نقل کی ترویج کر رہے ہیں ، اس لیے وہ سسٹم میں جھول ڈھونڈتے ہیں لیکن یقین رکھیں کہ زیادہ تر طالب علم اپنی محنت سے پاس ہوتے ہیں۔
512 سنٹرز میں سے ایک ، دو ، چار، پانچ یا دس پندرہ بھی ایسے نقل کروانے والے سنٹر نکل آئیں تو زیادہ تر جگہ یہ سب نہیں ہے۔ چند ایک بچوں کی وجہ سے سب کی محنت پر شک نہ کریں ۔ اور یاد رکھیں، نقل نشہ یے۔
ایک بار جو بچہ کر کے ، وہ آئندہ پڑھتا نہیں ہے۔ نقل کے انتظار میں رہتا ہے۔ اس کا مستقبل برباد ہوتا ہے ۔
اچھے بھلے پڑھنے والے بچے کو جب محض نمبروں کی دوڑ میں شامل کر کے والدین اور اسکول انتظامیہ نقل کروا دے تو طالب علم ضائع ہو جاتا ہے ۔
کانسیپٹ نہ ہونے کی وجہ سے انٹر میں ، یونیورسٹی کے اور مختلف اداروں کے اینٹری ٹیسٹ میں پھر وہ فیل ہو جاتا ہے۔
اس لیے ایمان داری سے پیپر دیں۔ نمبر بھلے کم آئیں مگر کانسیپٹ اسٹرانگ ہو۔ ایمان داری کا پھل دیر سے پکتا ہے مگر ملتا ضرور ہے۔
۔
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)
Categories
امتحانات میں نقل، کون کتنا ملوث ہے؟
