کیا صحافت ایسے ہوتی ہے؟
سمے وار (تحریر: رضوان طاہر مبین)
ہم جب جب شاہ زیب خان زادہ جیسے ذہین اور منفرد خبری میزبان کو موجودہ اِبلاغی منظر نامے میں ‘غیر جانب دار’ قرار سمجھنے لگیں گے، تب تب 23 اپریل 2022 کی یہ افسوس ناک سنسنی خیزی یاد آتی رہے گی، ایسی سنسنی خیزی جو ‘صحافت’ کی “ص” اور ‘خبریت’ کی “خ” شروع ہونے سے بھی کوسوں دور ہے!
جس میں شاہ زیب خان زادہ نے “جیو نیوز” پر اپنے پروگرام میں جان بوجھ کر جرمنی کے متنازع راہ نما ایڈولف ہٹلر کا نام لیے بغیر وہ ساری باتیں کہیں اور ناظرین کو عمران خان کا تاثر دینے کی کوشش کی، پھر ہٹلر کی تصویر اسکرین پر ظاہر ہونے سے پہلے یہ لکھا ہوا آتا ہے کہ “جو آپ سمجھ رہے ہیں وہ درست ہے!” (یعنی ‘بھی’ کہنے کا تکلف بھی نہیں کیا، گویا کہ مقصود وہی ابہام پیدا کرنا ہی تھا)
اسی پر بس نہیں پھر اس تاثر کو مضبوط کرنے کے لیے یہ کہا گیا کہ آج بھی ایک ایسا لیڈر ہے اور پھر سنسنی خیز انداز میں باتیں کرکے آخر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ذکر کر دیا گیا.
یوٹیوب پر “جیو” کے اکائونٹ پر موجود شاہ زیب خان زادہ کی اس ویڈیو میں واضح طور پر لکھا ہوا ہے “شاہ زیب نے عمران خان اور ہٹلر کا حیران کن موازنہ کر دیا۔۔”
۔
ہمیں اپنی حلال روزی روٹی کی تلاش میں پاکستان کی صحافت کی وادی پُرخار میں خوار ہوتے ہوئے بہت سے حقائق سیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملا۔ بطور طالب علم ہم پر یہ آشکار ہوا کہ اس ملک میں کم ہی لوگ ہیں کہ جو ایسے مجرمانہ صحافتی رویوں پر کھل کر تنقید کرتے ہیں۔ ہم لوگ صحافیوں، اخباروں، کالم نگاروں اور خبری چینلوں کے صرف ان رویوں پر تنقید کرتے ہیں، جس سے ہم کو اتفاق نہیں ہوتا۔ باقی صحافتی معیار اور اصول وغیرہ ہمارے پیش نظر کم کم ہی ہوتے ہیں۔
اب یہاں مثال دیے بغیر چارہ بھی نہیں ہے۔ کراچی میں 1980 کی دہائی میں دائیں بازو کے ایک معروف مدیر نے “نظریاتی صحافت” کے نام پر “نعرہ تکبیر” بلند کیا اور مذہبی کڑاھی کڑکڑا کر سیاسی اور صحافتی دنیا میں وہ ہاہاکار مچائی کہ الامان الحفیظ، بعد میں اسی گروپ نے ایک روزنامہ بھی جاری کیا جس نے اپنے ہی ‘ہفت روزے’ کے ریکارڈ توڑ ڈالے، لیکن ہمارا معاملہ کیا ہے کہ ہمیں اس نام نہاد “نظریاتی” اور حقیقت میں متعصبانہ اور جاہلانہ صحافت میں سے صرف انھی چیزوں پر اعتراض ہوتا ہے کہ جو ہماری ‘خالص ذاتی اور جانب دارانہ پسند’ کے مطابق نہیں ہوتی۔ ورنہ اصل میں تو مذکورہ ‘گروہ’ نے صحافت کے نام پر کراچی میں جو کچھ کیا اور بزعم خود ملک بھر کے متعصب حلقوں سے “بہادری” کے بھی وصول کیے، اس پر کوئی پوری طرح بات کرنے کو تیار نہیں۔۔۔ ٹھیک ہے کچھ نہ کچھ ‘حقائق’ بھی آجاتے تھے، لیکن کبھی بات تو کیجیے ان حقائق کا تناسب کتنا ہوتا تھا۔ ہم اگر یہ بات کردیں تو الٹا ہمیں کو “جانب دار” اور “متعصب” قرار دے دیا جاتا ہے، کیوں کہ دلیل اور اصول تو ہمارے پاس کوئی ہے نہیں، ہاں، کسی پر الزام دھر دینا بہت ہی آسان ہدف ہوتا ہے۔ اور جب سامنے ہوں ہم؟ تو ہم کس قطار شمار میں۔ یہاں تو بھانت بھانت کی “صحافتی لابیوں” کو بھی ہم سے طرح طرح کی شکایات رہتی ہیں، آپ بھی کوئی تہمت لگا دیجیے، دے دیجیے کوئی چھاپ اور کوئی انتہاپسندانہ الزام۔ لیکن یادر رکھیے، آپ کو دلیل نہیں ملے گی سرکار۔ بس الزام ہی میسر ہوگا۔
.
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)
Categories
کیا صحافت ایسے ہوتی ہے؟
