Categories
Exclusive Interesting Facts Karachi MQM PPP Saad Ahmad انکشاف ایم کیو ایم پیپلز پارٹی خواتین دل چسپ سعد احمد سمے وار بلاگ سمے وار- راہ نمائی سندھ سیاست قومی تاریخ قومی سیاست کراچی مہاجر صوبہ مہاجرقوم

جب جسٹس (ر) ناصر اسلم زاہد نے ریمانڈ دینے سے انکار کیا

سمے وار (تحریر: سعد احمد) گذشتہ دنوں ڈرگ اسمگلنگ میں سامنے آنے والی ملزمہ عرف پنکی کی عدالت میں پیشی کے موقع پر چیخ پکار دیکھی جس میں وہ پولیس کے تشدد کا الزام لگا رہی تھی۔
ایم کیو ایم کے خلاف 1992 کے زمانے کے آپریشن کے دنوں کی بات ہے کہ جب سندھ ہائی کورٹ میں جسٹس ناصر اسلم زاہد ہوتے تھے۔ انھوں نے اس وقت کی حکومت کو ‘ایم کیو ایم’ سے تعلق رکھنے والے ملزمان کا ریمانڈ دینے سے انکار کر دیا تھا۔
جسٹس ناصر اسلم زاہد نے 1992ء سے 1994ء کے دوران، جب کراچی میں ایم کیو ایم کے خلاف ریاستی آپریشن عروج پر تھا، بطور چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ قانون کی بالادستی اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے یہ سارا تاریخی کردار ادا کیا۔ انھوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے سیاسی کارکنان پر بے جا تشدد، غیر قانونی حراست، اور بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے بار بار ریمانڈ حاصل کرنے کی روش کو سختی سے مسترد کر دیا تھا۔
اس حوالے سے انھوں نے ریمانڈ دینے سے انکار اور قانون کی پاس داری آپریشن کے دوران پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے سیاسی وابستگی رکھنے والے ملزمان کو ایک کیس میں ضمانت ملنے کے فوراً بعد دوسرے فرضی کیس میں گرفتار کر لیتے تھے، تاکہ ان کا ریمانڈ حاصل کر کے حراست کو طول دیا جا سکے۔
اس وقت کے سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، جسٹس ناصر اسلم زاہد نے اس غیر آئینی عمل کا سخت نوٹس لیا۔ انھوں نے واضح کیا کہ عدالتیں پولیس کے غیر قانونی اقدامات پر آنکھیں بند کر کے بلائنڈ ریمانڈ (Blind Remand) یا اندھا دھند جسمانی ریمانڈ نہیں دیں گی۔
انھوں نے پولیس کو پابند کیا کہ وہ کسی بھی ملزم کا ریمانڈ مانگنے سے پہلے اس کی حراست کی ٹھوس وجوہات اور ناقابلِ تردید شواہد پیش کرے۔ جب ادارے ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہے، تو انھوں نے ملزمان کا مزید جسمانی ریمانڈ دینے سے صاف انکار کر دیا اور کئی سیاسی قیدیوں کو رہا یا جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کے احکامات جاری کیے۔
اس کے علاوہ جسٹس ناصر اسلم زاہد نے ملزمان کے بنیادی حقوق کو یقینی بنانے کے لیے خود جیلوں اور حراستی مراکز کے اچانک دورے کیے۔ انھوں نے حبسِ بے جا (غیر قانونی حراست) کی درخواستوں پر فوری کارروائی کا نظام بنایا۔ان کے احکامات پر عدالتِ عالیہ کے بیلف (Bailiffs) نے کئی ایسے پولیس اسٹیشنوں پر چھاپے مارے، جہاں ایم کیو ایم یا دیگر سیاسی کارکنوں کو بغیر کسی سرکاری ریکارڈ کے غیر قانونی طور پر قید کر کے رکھا گیا تھا اور انھیں وہاں سے بازیاب کروایا
خواتین قیدیوں کا تحفظ بھی اس دور کا ایک اور بڑا واقعہ سیاسی راہ نماؤں اور کارکنوں کی خواتین اہل خانہ کی گرفتاریوں کا تھا۔ جسٹس ناصر اسلم زاہد نے پولیس کی جانب سے خواتین کو رات کے وقت تھانے میں رکھنے یا ہراساں کرنے پر سخت پابندی عائد کی اور حکم دیا کہ کسی بھی خاتون کو ٹھوس قانونی وجہ اور مجسٹریٹ کی اجازت کے بغیر حراست میں نہیں لیا جائے گا۔
حکومت اور اداروں کا ردِعمل جسٹس ناصر اسلم زاہد کے اس آزادانہ اور آئینی رویے کو اس وقت کی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اپنے آپریشن کی راہ میں “رکاوٹ” سمجھا۔ ان پر دباؤ ڈالنے کی کوششیں کی گئیں، لیکن جب وہ آئین پر سمجھوتا کرنے کے لیے تیار نہ ہوئے، تو اپریل 1994ء میں وفاقی حکومت نے انھیں سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے عہدے سے ہٹا کر دو سال کے لیے وفاقی شرعی عدالت منتقل کر دیا۔
عدالتی تاریخ میں جسٹس ناصر اسلم زاہد کا یہ دور اس بات کی یادگار مثال مانا جاتا ہے کہ جب ریاست کی جانب سے طاقت کا بے جا استعمال ہو رہا ہو، تو عدلیہ کو سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر ہر شہری کے آئینی اور انسانی حقوق کا تحفظ کرنا چاہیے.
.
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Verified by MonsterInsights