Categories
Education Exclusive Interesting Facts Karachi Media PPP ایم کیو ایم پنجاب پیپلز پارٹی دل چسپ سمے وار بلاگ سندھ سیاست قومی تاریخ قومی سیاست کراچی مسلم لیگ (ن) مہاجر صوبہ مہاجرقوم

کچھ قصہ “قابض پنجاب” کے بیانیے کا!۔

سمے وار (تحریر: نوید صدیقی ہادی)
ہم مُدتوں تک پنجاب کے خلاف سندھ کی محبت میں مبتلا رہے، اور کامریڈوں و قوم پرستوں کا بیانیہ بیچتے رہے کہ پنجاب ملک کے وسائل پر قابض ہے اور سندھ کا استحصال کررہا ہے۔
اس بیانیئے کو اسٹیبلشمنٹ کے کردار سے بھی تقویت ملتی رہی۔ وہ تو بھلا ہو اٹھارویں ترمیم کا کہ اس ترمیم نے جھوٹ کا پردہ چاک کردیا۔ اور معلوم ہوا کہ پی پی کس طرح پنجاب کو بلیک میل کر کے مہاجروں کو دیوار سے لگاتی رہی ہے۔
بھٹو کے غدارانہ کردار سے لے کر بے نظیر و زرداری کے تعصب تک، کھل کر سامنے آنے کے بعد معلوم ہوا کہ سندھ دھرتی کا بیانیہ تو مہاجروں کے حقوق غضب کرنے کا بہانہ ہے۔
ہم نے جب ہوش سنبھالا پی پی مخالفت میں اپنے بزرگوں کو پایا۔ لیکن ہم پروپیگنڈے کا شکار ہوکر پنجاب مخالف بیانیہ بیچنے لگے۔ ہمارے بزرگ فرماتے تھے، کہ ایک دن تم جان لوگے کہ سانپ کتنا ہی خوب صورت ہو، ڈسنا اس کی فطرت میں شامل ہے۔ جس دن ڈسے جاؤگے، تب ہماری یاد آئے گی۔
مہاجروں نے ہمیشہ وفاق کی مضبوطی کی سیاست کی تھی، کیوں کہ پنجاب بھی مہاجروں سے ہمدردی رکھتا تھا۔ آج بھی ایک بڑی تعداد مہاجروں کی پنجاب سے وفاقی سیاست کررہی ہے۔ وہ پنجاب میں ضم ہو چکے ہیں۔ مگر سندھیوں نے کبھی مہاجروں کو سندھ میں ضم نہ ہونے دیا اور اس کا بڑا ثبوت کوٹا سسٹم ہے۔
کیا پنجاب میں دیہات نہ تھے؟ تو پھر پنجاب نے کوٹا سسٹم کیوں نہ لگایا؟
یہ بھی درست ہے کہ پنجاب نے سندھیوں کا ساتھ دینا شروع کردیا ہے۔ کیونکہ ہم نے پنجاب سے منھ موڑ لیا۔
اس میں قصور وار ‘ایم کیو ایم’ رہی جس نے فوج کو غاصب سمجھا۔ اور اصل ناسوروں کو نہ پہچان سکی۔ اگر جی ایم سید زندہ رہتا تو شاید اس کے چہرے سے بھی نقاب اتر جاتا۔ ویسے مہاجر بزرگ تو اسکے منافقانہ کردار سے آگاہ تھے، مگر نوجوان قیادت اس دھوکے کو پہچان نہ سکی اور آج بھی پہچاننے سے قاصر ہیں۔
سیاست آئیڈیلسٹوں کا کام نہیں، یہ حقیقت پسندوں کا کام ہے اور حقیقت یہ ہے کہ سیاست میں ضرورت کی اہمیت ہوتی ہے۔ اگر خود کو ضرورت بناکر رکھا جاتا، جیسے ہمارے اکابر مہاجر قیادت نے رکھا تھا، تو آج یہ حال نہ ہوتا۔
افسوس تو اس بات کا ہے کہ الطاف حُسین بھائی سے بغاوت کرنے والے غدار و منافقین بھی اس رمز کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ اور یہ بھی پیپلوں کی کاسہ لیسی میں مصروف ہیں۔
خوابوں کے دنیا سے نکل کر حقیقت کی دنیا کا سامنا کرنا پڑے گا۔ خود کو ضرورت بنانا پڑے گا۔ ورنہ پنجاب بدظن ہوچکا اور سندھ دھوکا دینے میں ماہر ترین ہے۔
سوچیے اور بار بار سوچیے، کیا ہمارے اکابر مہاجر سیاست دان نادان تھے، یا پھر ماننا پڑے گا کہ سیاسی شعور میں ہم سے بہت زیادہ آگے تھے۔
تاریخ کا مطالعہ اور اس کا نتیجہ، ہم بہتر نکال پائے یا ہمارے بزرگ سیاست دان بہتر نتائج اخذ کر چکے تھے۔
چلیں واپس اپنے مہاجروں سے جڑیں۔ اور خود کو اس ملک کی ضرورت بنائیں۔
غور و خوض کرنے میں کوئی برائی نہیں ہے۔ دیکھنا پڑے گا کہ دراڑ کہاں سے پڑی، اور اس کا نتیجہ کیا نکلا؟
بحث و مباحثے کا آغاز کریں۔ ری ویزٹ کریں، اپنے ماضی کی غلطیوں یا کوتاہیوں کا جائزہ لیں۔
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Verified by MonsterInsights