Categories
Education Exclusive Interesting Facts Karachi KU Media Rizwan Tahir Mubeen Society اردوادب تعلیم تہذیب وثقافت دل چسپ رضوان طاہر مبین سمے وار بلاگ کراچی

’ڈاکٹر یونس حسنی کے محلے میں ایک بھرپور شام

سمے وار (تحریر: رضوان طاہر مبین)
خیال کو عملی شکل دینے کے لیے بہت سی زحمتیں اٹھانا پڑتی ہیں، مسائل سے لے کر وسائل تک بہتیرے معاملات سامنے آتے ہیں اور تب تک یہ پروگرام برپا نہیں ہو جاتا، یہ بھی برقرار رہتے ہیں۔ انتظامی کٹھنائیوں سے مقررین کے بندوبست تک اور حاضرین کی آمد سے لے کر تمام انتظامی امور خوش اسلوبی سے ہونے تلک۔
یہ ذکر ہے ’ڈاکٹر یونس حسنی کے نام ایک شام‘ کا۔
منتظمہ کمیٹی دہلی کالونی کی یہ ایک ایسی شام تھی، جو باقاعدہ ہو ہی عشا کی نماز کے بعد ساڑھے آٹھ بجے رہی تھی۔ اگر کراچی کے مزاج کو دیکھیے تو کچھ غلط بھی نہیں تھا، کہ کراچی کے اکثر لوگوں کے لیے وہ وقت کچھ شام جیسا ہی ہوتا ہے، (اگرچہ یہ اچھا خاصا غیر فطری طرز عمل ہے)
اب ہوا یوں کہ اتوار کو مذکورہ ہال خالی نہیں تھا، سو ہمیں ہفتے کا ہی وقت مل سکا۔ کہنے کو یہ پورے ہفتے کا اختتام، مگر یہاں کے اکثر تجارت پیشہ لوگوں کے لیے یہ بالکل ان کے کام کا وقت تھا، اور پھر اگر ’محلے کی دکان داری‘ کی بات ہو تو پھر معاملہ اور بھی اہم ہو جاتا ہے۔ اور اب یہ دکان داری رات گیارہ سے بارہ بجے تک بھی دراز ہو چکی ہے۔ ساڑھے آٹھ نو بجے تو بازار میں خوب رونق ہوتی ہے، ایسے میں اگر کوئی عقیدت مند چاہے بھی تو اس کے لیے شرکت ایک مشکل مرحلہ ہو جاتی ہے، کاروبار میں ناغہ ہونا بہت حساس اور گھاٹے کا معاملہ سمجھا جاتا ہے، زندگی کی خوشی غمی میں بھی اگر کسی دن ’شٹر‘ نہ اٹھے تو اس کے لیے باقاعدہ بند دکان پر ’اعتذار‘ چسپاں کیا جاتا ہے کہ خاندان میں فلاں کی شادی یا فلاں فوتیدگی کے سبب آج دکان بند رہے گی۔ اب بھلا اگر کوئی چاہنے والا آئے تو کیا اپنی دکان پر یہ لکھ کر لگاوے کہ وہ ڈاکٹر یونس حسنی کے نام تقریب میں شرکت کے سبب رخصت پر ہے۔ اگر وہ کر بھی لے تو عام لوگ اس کا مذاق اڑائیں کہ بھلا کوئی ایسے پروگراموں کے واسطے بھی اپنے کاروبار کی چھٹی کیا کرتا ہے؟ اگر علمی اور اہمیت کے لحاظ سے دیکھا جائے، تو بالکل کرتا ہے، لیکن چلن اور عام رواج ایسا ہے کہ اگر کوئی چاہے بھی تو دل مسوس کر رہ جائے اور اس پر عمل کے بس سوچ سے آگے نہ بڑھ سکے۔
کوئی بھی تقریب، جلسہ یا پروگرام اہم مقررین کے بعد اپنے حاضرین کی تعداد سے ہی سجتا اور سنورتا ہے، وہ اگر نہ ہوں تو پھر اچھی خاصی پریشان کن صورت حال ہو جاتی ہے اور اس کا بہ خوبی اندازہ تھا، اس لیے ہر دو جانب پوری طرح توجہ تھی اور صبح شام گویا کہ اسی میں صرف ہو رہے تھے۔ محلے کی سطح کے پروگرام میں بیش تر اہل محلہ کی کاروباری مشکل کا ذکر کرنے کے بعد گنجائش ہم جیسے ’دفتریوں‘ کی ہی رہ جاتی ہے، یا ایسے چند احباب جو اپنی دکان سے کچھ دیر کو رخصت کے متحمل ہو سکتے ہیں، یعنی کہ ان کی جگہ ذمہ داری لینے والا کوئی دوسرا موجود ہو۔
یہ تقریب تھی تو ڈاکٹر یونس حسنی کے نام، لیکن اس کی محدودیت یا انفرادیت یہ تھی کہ یہ پروگرام ایک ’محلہ کمیٹی‘ کرا رہی تھی، اس محلے کی کمیٹی جو ڈاکٹر یونس حسنی کے محلے میں نصف صدی کے روز وشب کا گواہ تھا، سو بنیاد یہی تھی کہ اکثر اہل محلہ ہی شریک ہوں یا وہ جو کسی نہ کسی طرح کا دہلی کالونی میں ان سے تعلق یا نسبت رکھتے ہوں، ان کے محلے کے خاص حلقے، دوست احباب یا ہم سائے وغیرہ۔
تاکہ اہل محلہ کی طرف سے ایک طرف ان کو بھرپور خراج تحسین پیش ہو تو دوسری طرف اس محلے کی نئی نسل کو آگاہی ملے کہ ان کے علاقے میں کیسے کیسے نابغہ روزگار ہستیاں موجود رہی ہیں، جن سے سیکھ کر وہ بھی کچھ اپنی زندگی کو دوسروں کے لیے نفع بخش اور مفید بنا سکتے ہیں۔
ایک اور چلینج ڈاکٹر یونس حسنی کی صحت کا بھی تھا، کیوں کہ کچھ دن قبل ہی وہ شدید علیل رہے، پھر پیرانہ سالی میں انھیں کم از کم 23 کلو میٹر کا طویل فاصلہ طے کر کے آنا تھا، یہ ان کی انکساری تھی کہ انھوں نے اس کی ہمت کی، اس میں ان کی صاحبزادیوں نے بھی بھرپور تعاون کیا۔ پھر ان کے خصوصی چاہنے والے خواتین وحضرات نے بھی اس میں شرکت کر کے چار چاند لگا دیے۔
ڈاکٹر یونس حسنی سے بھی زیادہ دشواری صاحب صدر پروفیسر نقی چاندنہ صاحب کو درپیش رہی، ان کے گھٹنوں کے درد کی وجہ سے ان کے لیے ہال کی دو سیڑھیاں چڑھنا بھی جان جوکھم سے کم نہ تھا۔ نہ صرف وہ بلکہ ایک مقرر کے طور پر ان کے ہونہار صاحب زادے ڈاکٹر عرفان الہی چاندنہ نے بھی اپنی مصروفیات میں سے وقت نکال کر ہمیں ایک حوصلہ اور اعتبار عطا کیا۔
یہی نہیں ہمارے دیگر مقررین میں امیر خان نیازی، اطہر سلطان شمسی، سلیم معین قریشی، ڈاکٹر سائرہ اکرام کا ذکر نہ کرنا بھی زیادتی ہوگا، اگر یہ ہامی نہ بھرتے یا شریک نہ ہوتے تو ہمارے حوصلے ٹوٹنے لگتے۔
اب آتے ہیں حاضرین کی طرف، اس پروگرام کی آگاہی کے لیے ایک عدد بینر صرف منتظمہ ہال کے باہر تقریباً ایک ہفتے کے لیے آویزاں رہا، باقی ساری نشر و اشاعت معزز احباب کو بہ ذریعہ واٹس ایپ مدعو کرنے تک رہی۔ یہاں سماجی تقسیم اور طبقاتی تفریق کا معاملہ بھی تو درپیش تھا، آپ کو جگرا بہت بڑا کرنا پڑتا ہے، صرف یہی تقریب نہیں، بلکہ ایسی کسی بھی تقریب کے لیے مقررین کو بلانا کسی ہائی والٹیج تار کو بغیر حفاظتی اقدام کے چھونے جیسا تکلیف دہ ہوتا ہے، جب آپ بغیر کسی مفاد کے کسی کو مدعو کرتے ہیں، تو بعضے تو ایسے پیش آتے ہیں کہ ہم پر اور ہماری آنے والی نسلوں پر بہت احسان کر رہے ہیں، یعنی صاف بات ہے کہ انھیں اپنے علم اور روپے پیسے کا بہت زعم ہوتا ہے اور یہ عزت افزائی ان سے ہضم نہیں ہوتی، لیکن ہمیں مصلحت کے تحت سب کچھ پینا پڑتا ہے، ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ایسوں کے لیے نہ آنے کے سو بہانے ہوتے ہیں، سو کئی ایک وہ بہانے کر لیتے ہیں، پھر کچھ تو غلط بیانی تک بھی کر جاتے ہیں۔
بدقسمتی سے بطور حاضرین بھی ایسے دسیوں لوگ سامنے آتے ہیں، جو ایسے غیر وضع دار کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں، جن کے نزدیک متوسط اور نچلے طبقے کے لوگوں کی کوئی حیثیت اور اوقات نہیں، وہ ہمیں صرف تیسرے درجے کا فرد نہیں سمجھتے، بلکہ اپنے عمل سے اس کا پورا ثبوت بھی دیتے رہتے ہیں، اس لیے ان کے بارے میں تو قسم اٹھائی جا سکتی تھی کہ یہ ہمارے پروگرام میں نہیں آئیں گے، ہمارے محلے کی پتلی گلیوں اور تننگ راستوں پر قدم پڑنے سے ان کی ساری قامت کتری جاتی ہے، ہمارے غریب خانے کے نیچے دروازے سے آنے میں ان کا نام نہاد وقار پائمال ہوتا ہے اور ہمارے پروگرام میں آکر بیٹھنے سے ان کی شان وشوکت میں گھٹائو آتا ہے۔ اس لیے ہمیں بہ خوبی اندازہ تھا کہ یہ بہت اونچے دماغ کے لوگ ہیں، ان سے کوئی توقع نہ کیجیے، یہی مواقع ہوتے ہیں کہ جس سے کسی بھی ایسے فرد کے اندر کے اصل کی پہچان میں کافی مدد ملتی ہے۔
تو یوں ہم نے جناب کم از کم 100 سے زائد احباب کو ذاتی طور پر یہ دعوت بھیجی اور ملتمس ہوئے کہ حوصلہ افزائی کے لیے ضرور تشریف لائیے گا، اس میں سے آدھے احباب کو بعد میں یاددہانی بھی کرائی گئی۔ اکثریت نے حسب معمول شرکت نہیں کی، مگر ان میں کچھ لوگ جو آگئے، ان کے آنے کی خوشی اتنی زیادہ تھی کہ جیسے ہمیں نہ آنے والوں سے کوئی شکایت ہی نہ رہی ہو۔
ہمارے پروگرام میں خصوصی طور پر شرکت کے لیے دوسرے علاقوں سے خصوصی طور پر تشریف لانے والے 11 جانے مانے احباب میں بزم شعرو سخن کے طارق جمیل بھولا والے، محبان بھوپال فورم کی شگفتہ فرحت اور ہمایوں ادیب انصاری، صاحب اسلوب لیکھک سہیل احمد سہیل، دہلی پنجابی سوداگران فائونڈیشن کے رکن حمزہ نثار کشتی والے ، سلیمان چاندنہ، محمد حیان، سہیل عبدالخالق کلکتہ والے، سمیع باڑی، وقار چھتری والے وغیرہ شامل ہیں۔ ان میں ڈاکٹر یونس حسنی کے سابق مالک مکان اور ان کے عقیدت مند عاصم عمر صاحب بھی چند گھنٹے پہلے دعوت ملنے پر تشریف لے آئے، ان کا ڈاکٹر صاحب سے غیر روایتی کرائے دار اور مالک مکان کا تعلق تھا، بتایا جاتا ہے کہ انھیں اتنا بھروسا اور اعتماد تھا کہ وہ سال سال بھر کرایہ لینے نہیں آتے تھے۔
اہل محلہ میں سے بھی بہت سے احباب اس بیٹھک میں شامل ہوئے، جن میں 22 احباب ہماری واقفیت کے دکھائی دیے، جن میں سماجی شخصیت بھائی شمیم بنڈل والے، کہانی کار جاوید بسام، وسیع المطالعہ عارف چاؤلہ، رکن مجلس منتظمہ جمعیت پنجابی سوداگران سہیل انوار سوت والے، علی اقبال خلیفہ، سعد اخلاص، سر صادق، وقار لاہور والے، شمیم قریشی، مسعود شیخ، نعمان امین کتھوریہ، بھائی ہمایوں (بابا فرخ والے) اقبال میڈیکل اسٹور والے، طلحہ شکیل کیمیکل والے، فرقان فرید، عمران فرید، *** فرید، شاہد باٹا والے، عبد العلیم، کاشف صالحین، شیخ عامر اور فہد پرویز وغیرہ شامل ہیں۔

منتظمہ کمیٹی کی جانب سے جہاں قاری نسیم اور انوار اعظم سوت والوں نے سرپرستی فرمائی اور دانش ضیا نے اسے عملی شکل دلوائی وہیں محسن شیخ اور وقاص شکیل نے پروگرام کے انتظامات کو حتمی شکل دی۔ اس لیے مہمانوں کے ساتھ ان کا شکریہ ادا کرنا بھی واجب ہے۔
عام حاضرین نے بھی اس نشست سے بہت لطف اٹھایا، لوگوں کو اپنے محلے کے اہل علم افراد سے جان کاری ہوئی، جس سے اندازہ ہوا کہ زندگی اتنی مصروف ہوگئی ہے کہ پرانے رہنے والوں کو بھی ایک دوسرے کی خیر خبر کے لیے وقت نہیں ملتا۔
ڈاکٹر یونس حسنی نے کہا کہ دہلی کالونی ایک برادری کی اکثریت کا علاقہ تھا، ایسی جگہوں پر عصبیت در آتی ہے، جو کبھی اچھی ثابت نہیں ہوتی، لیکن انھیں یہاں کبھی ایسا محسوس نہیں ہوا، بلکہ بہت اپنائیت ملی۔ جیسے ان کی اہلیہ مرحومہ جب بیمار ہوتیں تو ڈاکٹر کے ہاں جانے کی ہمت نہیں پاتی تھیں، جب ان کی انھیں ڈاکٹر کے ہاں لے جانے کوشش کام یاب نہ ہوتی تو وہ ڈاکٹر آفتاب مرحوم کے پاس جاتے اور ان سے بہت معذرت خواہانہ انداز میں گھر چل کر دیکھنے کو کہتے تو وہ کہتے کہ کوئی بات نہیں، وہ نماز کے بعد انھیں گھر آکر ہی دیکھ جائیں گے۔
ایسے ہی ڈاکٹر یونس نے ایک واقعہ ذکر کیا کہ انھوں نے یہاں پڑوس کے محلے میں رہنے والے اپنے شاگرد امیر خان نیازی کے ہاں فون کیا، وہ موجود نہ تھے، تو پیغام چھوڑا کہ ان سے کہیے گا کال کرلیں، پھر کال تو کیا آتی انھوں نے دیکھا کہ امیر نیازی گھر پر آگئے، گاڑی میں سے ان کا ایک بھائی نکلا، دوسرا اور پھر تیسرا۔ ایسے کہ ان کے کپڑوں سے اسلحہ چمکتا ہوا دکھائی دے رہا تھا، آکر بولے کہ بتائیے ڈاکٹر صاحب کون تنگ کر رہا ہے؟ میں نے کہا کوئی تنگ نہیں کر رہا میں نے تو فلاں بات کہنے کے لیے فون کیا تھا، تو مجھے تو یہاں ایسے بغیر معاوضے کے ایسے گارڈ میسر ہوئے۔
اپنے ایک ہم سائے محمدی اسکول والوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بارشوں میں جب گھر میں پانی بھر جاتا تھا تو انھیں پوری آزادی تھی کہ وہ پڑوس کے گھر میں جہاں چاہیں قیام کریں۔ محلے کے ایک روایت پسند درویش طبع بزرگ بھائی راجا کو یوں یاد کیا کہ انھوں نے بازار جیسی جگہ کو ایک اعتبار عطا کیا۔
ڈاکٹر یونس نے مقامات مقدسہ کے سفر کے حوالے سے بھائی اقبال میڈیکل والوں اور انوار ٹینٹ والوں کے کردارکو بھی سراہا۔ پھر انھوں نے اپنے ہم سائے کے اس حسن اخلاق کو بھی یاد کیا جب ان کی صاحب زادی اسپتال میں داخل تھیں تو وہ رات بے رات کو اسپتال سے آنے والے فون کی خبر دینے ان کا کواڑ کھٹکھٹایا کرتی تھیں۔
انھوں نے بتایا کہ وہ دلی مسجد میں نماز پڑھتے جہاں مولانا عبدالعزیز جیسے خطیب اور قاری حسن عسکری وغیرہ جیسے اماموں سے نسبت رہی، جو دو رکعت کے امام نہ تھے، بلکہ زندگی کے معاملات کی بھی خوب خیر خبر رکھتے تھے۔
صدارتی خطبے میں پروفیسر محمد نقی چاندنہ نے کہا کہ وہ ڈاکٹر یونس حسنی سے دو سال بڑے ہیں، لیکن علم کے معاملے میں ڈاکٹر یونس حسنی ایک سمندر کے مصداق ہیں، نئی نسل کو ان سے سیکھنے اور ان کے بارے میں جاننے کی ضرورت ہے۔ اب ان جیسے لوگ یونیورسٹی تک میں بھی موجود نہیں ہیں، آپ جا کر دیکھ سکتے ہیں۔
پروفیسر نقی چاندنہ نے لوگوں کا اپنی مادری زبان اردو سے بے اعتنائی برتنے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج کل انگریزی کو ترجیح دی جاتی ہے، جب کہ اردو ہماری قومی زبان ہے۔
پہلے سرکاری اور نجی اسکولوں میں مسابقت کا ماحول ہوتا تھا، کبھی سرکاری اسکول سے پوزیشن آتی تو کبھی نجی اسکول بازی لے جاتے تھے۔ لیکن بدقسمتی سے ذوالفقار بھٹو نے تعلیمی ادارے قومیا کر ہماری تعلیم کو برباد کر دیا۔
ڈاکٹر عرفان الٰہی چاندنہ نے ڈاکٹر یونس کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اس تقریب میں خواتین کی بھرپور شرکت کا خیر مقدم کیا۔ طارق رحمن نے اپنے تحریری مضمون میں ڈاکٹر یونس حسنی کی یاد کو زندہ کرنے کو خوش آئند قرار دیا۔ امیر خان نیازی نے کہا کہ انھوں نے ڈاکٹر یونس حسنی سے صرف کالج میں ہی نہیں بلکہ زندگی کا سبق پڑھا ہے۔ اردو میں ڈاکٹریٹ کرنے والی ڈاکٹر سائرہ اکرام نے بتایا کہ وہ اپنے مقالے کے لیے ڈاکٹر صاحب کے گھر چلی جاتی تھیں، لیکن دن بھر کی تکان کے باوجود انھوں نے کبھی تیوری نہیں چڑھائی۔ اطہر سلطان نے ڈاکٹر یونس سے متعلق اپنے بچپن کی یادیں تازہ کیں کہ کس طرح ان کی شرارتوں سے تنگ آکر ڈاکٹر یونس نے ان کے والد سے شکایت کردی تھی۔
محمدی اسکول والے سابق پڑوسی محمد حیان نے کہا کہ ڈاکٹر یونس حسنی کی انکساری کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ انھوں نے ہمارے گھرانے کے کردار کا ذکر کیا، لیکن اپنے احسان کا نہیں بتایا کہ کس طرح جب سیاسی وابستگی کی بنا پر ایم کیو ایم نے ان کے گھر کا پانی کاٹ دیا تھا، تو وہ رات کو نلی لگا کر ہمارے گھر میں پانی دیا کرتے تھے، میں نے کہا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ لوگ آپ کی نلی بھی کاٹ ڈالیں، جس پر ڈاکٹر یونس حسنی نے کہا کہ ایم کیو ایم والے کسی کے ساتھ کچھ بھی کرلیں، لیکن ان کے ساتھ کچھ نہیں کرسکتے!
ہم نے اس تقریب کے لیے ڈاکٹر یونس حسنی کی کچھ کتب بھی منگوا لی تھیں، جس کے لیے بہت زیادہ پرامید نہیں تھے، ایک تو ہمارا سماج ہی کتاب سے دور ہو رہا ہے اور پھر ہم تاجر برادری تو کتاب سے شاید ایک اور قدم مزید دور سمجھی جاتی ہے، لیکن عملی طور پر ہم نے دیکھا کہ ان کی کتابوں کے تقریباً سارے نسخے ہاتھوں ہاتھ دستخط کرا کے خرید لیے گئے۔ یہ یقیناً ایک مثبت اور حوصلہ افزا چیز رہی۔ دستخط کرانے والے ایک عقیدت مند نے حیرانی ظاہر کی کہ انھیں آج پتا چلا کہ ڈاکٹر یونس ’سید‘ ہیں۔
ہمیں یقین ہے کہ یہ تقریب بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہوگی، منتظمہ کمیٹی آنے والے دنوں میں بھی اس قسم کی تقاریب کا سلسلہ جاری رکھے گی اور آئندہ تقاریب پچھلی ہر تقریب سے بہتر ہوں گی۔ اور کچھ بے نظمی (جو کہ معزز مہمانوں کے قیمتی وقت کے لحاظ سے نہایت غیر مناسب ہوتی ہے) بالکل نہیں ہوگی، جیسے صاحب تقریب ڈاکٹر یونس حسنی کے اظہار خیال کے بعد بولنے کے لیے اصرار کرنا اور موضوع سے ہٹ کر طوالت جیسے مسائل بھی سمجھے جائیں گے، بہ حیثیت سہولت کار کے ہم نے بھی بہت سی چیزیں سیکھیں۔ پھر ہم نے سال بھر قبل ایک ثقافتی منچ کے بڑے ہال میں ہونے والی ایک شام پذیرائی بھی دیکھی تھی، سو اسے سامنے رکھتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے محلے کے اس سے کہیں زیادہ چھوٹے سے ہال میں اہل محلہ کی جانب سے بہت کام یابی کے ساتھ انھیں خراج تحسین پیش کیا۔ جس کے حوالے سے شگفتہ فرحت صاحبہ نے کہا کہ یہ ایک عوامی رنگ کی تقریب تھی۔ ایک باہر کے شائق کی جانب سے اس پروگرام پر یہ تبصرہ نہایت مختصر، جامع اور حقیقت کا عکاس ہے۔
۔
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Verified by MonsterInsights