Categories
Exclusive History of Pakistan India Interesting Facts Karachi Media MQM انکشاف ایم کیو ایم دل چسپ ذرایع اِبلاغ سندھ سیاست قومی تاریخ قومی سیاست کراچی مہاجر صوبہ مہاجرقوم

’را‘ سے تعلق نہیں، 22اگست 2016 کو تار نہ نکال سکے، ندیم نصرت

سمے وار (ماینٹرنگ ڈیسک)
سابق کنوینئر متحدہ قومی موومنٹ اور سابق پولیٹیکل سیکریٹری الطاف حسین ڈاکٹر ندیم ندیم نصرت نے امریکا سے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ 1999 میں لندن میں بنایا گیا الگ گروپ طے شدہ منصوبہ تھا کہ وہ باتیں جو ہم ’متحدہ‘ کے پلیٹ فارم سے نہیں کر سکتے، وہ وہاں سے کر لیتے تھے، اس میں انیس ایڈووکیٹ، ڈاکٹر عشرت العباد، ڈاکٹر خالد مقبول اور واسع جلیل وغیرہ بھی شامل تھے۔ بعد میں یہ سب واپس متحدہ کا حصہ بن گئے لیکن میں واپس نہیں گیا، کیوں کہ مجھے کینسر ہوگیا تھا اس کا علاج بھی کروانا تھا، اس طرح میں 2012 میں واپس ہوا۔ اس دوران امریکا میں تدریس کے پیشے سے وابستہ رہا۔
ڈاکٹر ندیم نصرت ایکسپریس نیوز کی پوڈ کاسٹ میں بیوروچیف کراچی ایکسپریس نیوز سید فیصل حسین کو ایک ویڈیو کے ذریعے ایک تفصیلی انٹرویو میں مزید کہا کہ روپوشی کے دوران ڈاکٹر عمران فاروق سے روز ہی بات ہوتی تھی، ان کے والدین و اہل خانہ نے ایک بار ان سے بات کرنے کی خواہش کی تو انھیں دبئی لے جایا گیا وہاں سے ان کی بات کروائی گئی۔ کچھ سال وہ مختلف جگہوں پر رہتے رہے، پھر اخلاق حسین عابدی مرحوم (والد علی رضا عابدی مرحوم) کی ایک جگہ تھی سوسائٹی میں وہ ایم اے جلیل کے بھائی نے کرائے پر لی اور وہاں ڈاکٹر عمران فاروق روپوش رہے، پھر 1999 تک پورا وقت انھوں نے وہیں گزارا۔ اس دوران ان کے حوالے سے مختلف افواہیں گردش کر رہی تھیں، تب انھوں نے ایک تحریری اور ریکارڈ شدہ بیان لندن کو بھیجا تھا جس میں اپنی مستقل وفاداری کا یقین دلایا گیا تھا۔ وہ ایک مختلف نام سے دستاویزات بنوا کر لندن پہنچے۔ کچھ خبریں موجود تھیں کہ ان کا یہ سلسلہ جاری ہے، اور پھر جب وہ بہ حفاظت جہاز میں بیٹھ گئے تو ہمیں بتایا گی کہ ڈاکٹر صاحب وہاں سے نکل گئے ہیں۔ یہاں پہنچ کر پھر انھوں نے سیاسی پناہ کی درخواست کی، جو قبول کرلی گئی۔
میں 1986 سے 1999 تک کے مشکل وقت میں پارٹی کے ساتھ رہا، جب ڈاکٹر عمران فاروق واپس آگئے تو مجھے لگا کہ اس وقت میں الگ ہو سکتا ہوں اس لیے میں الگ ہوگیا تھا۔ پھر 2012 میں واپس آیا تو چیزیں بہت تبدیل ہو چکی تھیں، پہلے صرف لندن کی ایک جگہ ملکیت تھی وہ بھی پہلے کرائے کی تھی، جسے مالک کے نوٹس پر کہ خالی کرو یا خریدلو پر دبئی میں موجود صرف ایک شخصیت کے پیسے سے خریدا گیا تھا، تب تک اخراجات کے لیے سارا پیسہ سمندر پار پاکستانیوں سے آتا تھا۔ پاکستان سے پیسہ بعد میں آنا شروع ہوا اور دیگر جائیدادیں خریدی گئیں، جسے ایک ٹرسٹ بنا کر اس کی ملکیت میں دیا گیا اور یہ معاملہ الطاف حسین کی طلاق کے وقت سامنے آیا جب عدالت میں اس جائیداد کے حصے کی بات ہوئی تو بتایا گیا کہ یہ ایک ٹرسٹ ہے، جس کی ملکیت ہے، محمد انور اور طارق میر بھی اس کے ٹرسٹی تھے۔ ایم کیو ایم میں ایسا نظام تھا کہ اگر تعلق نہ ہو تو پھر آپ اس معاملے میں نہیں بول سکتے۔
لندن پراپرٹی کیس کراچی میں موجود تنظیم نے دائر کیا، جسے ایک سینٹیر (اشارہ غالباً فیصل سبزواری کی طرف تھا) کی تجویز پر آگے بڑھایا مجھے نوٹس ملا تو میں نے بیان دیا، کیوں کہ یہ کہا گیا تھا کہ 2012 میں پارٹی کا کوئی نیا آئین بنایا گیا تھا، میں نے اس کی تردید کی کہ یہ میرے علم میں نہیں، کیوں کہ جن تاریخوں کا ذکر کیا گیا تھا اس وقت میں لندن میں نہیں تھا۔ بیان نامعلوم جگہ سے بہ ذریعہ وڈیو دینے کی وجہ یہ تھی کہ جب میں نے راستے الگ کیے تو مجھے بہت دھمکیاں دی گئیں، یہاں تک کہ امریکا میں مجھے حکام نے متنبہ کیا اور احتیاطی تدابیر بتائیں، امریکا میں مقیم ایک متحدہ کے ذمے دار کو مجھے دھمکیاں دینے پر سزا بھی ہوئی۔
یہی وجہ تھی کہ میں عدالت میں الگ چیمبر میں تھا اور وہاں سے ویڈیو کے ذریعے سے عدالت کو بیان دیا۔
ڈاکٹر عمران فاروق کے اختلافات پر جواب دینے سے گریز کیا اور ان کے قتل کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ میں اس کیس کی پوری فائل آپ کے حوالے کر دیتا ہوں، جسے پڑھ کر پتا چل جائے گا کہ کون ملوث تھا۔
سابق رکن رابطہ کمیٹی مرحوم محمد انور کے بھائی چنو ماموں کراچی میں کیبل کا کام کرتے تھے آدھا شہر ان کے پاس تھا اور وہ اپنے کام کو پھیلانا چاہتے تھے اس کے لیے انھوں نے پارٹی کو استعمال کیا، وہ جواز دیتے کہ ہم پارٹی کو بھی تو فنڈ دیتے ہیں، میں نے اس کی مخالفت کی تو انور صاحب کو یہ بہت برا لگا، انھوں نے جب ’جیو نیوزـ کو انٹرویو دیتے ہوئے یہ کہا کہ ندیم نصرت نے پارٹی کا ہندوستانی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ سے رابطہ کرایا تو میں جب واپس آیا تو ان سے کہا کہ یہ کیا کیا آپ نے تو انھوں نے غیر سنجیدگی سے ہنستے ہوئے کہا کہ میں نےسوچا آپ امریکا میں ہیں تو میں نے تو صرف آپ پر ٹوپی گھما دی۔ پارٹی کے را سے تعلقات میرے علم میں نہیں اور نہ ہی یہ کوئی پارٹی پالیسی تھی، کسی نے ردعمل میں کوئی رابطہ یا تعلق کیا ہو تو علاحدہ بات ہے۔
پارٹی میں 2002 سے 2012 تک پاکستان سے بہت پیسہ آیا، جس میں فطرہ، زکوۃ کے علاوہ قربانی کی کھالوں کا پیسہ بھی شامل ہے۔ اسی پیسے سے جائیداد خریدی گئی، یہی نہیں نظم وضبط اور جانچ پڑتال کا معاملہ کمزور پڑنے سے ہمارے ذمہ داران ایسے کاموں میں ملوث ہوگئے جو ہمارے کرنے کے بالکل نہیں تھے، زمینوں پر قبضوں کے ساتھ ایک ذمہ دار نے اپنا ذاتی چڑیا گھر بھی بنایا ہوا تھا۔ یہی نہیں یونٹ اور سیکٹر میں بھی عوام سے رابطہ منقطع ہوگیا۔ یعنی کہ محلے میں ایک جگہ بجری کا ٹرک آیا ہے تو ذمہ داران حصہ لینے پہنچ گئے، لیکن کوئی فوتیدگی ہوگئی ہے تو وہ ٹینٹ لگا ہوا ان کو نظر نہیں آتا کہ وہاں جا کر تعزیت کرلیں۔ ان سب چیزوں کو بہتر کرنے کی کوشش کی گئیں، لیکن پھر حالات بدلتے چلے گئے،۔
الطاف حسین کے 22 اگست 2016 کے متنازع بیان کے حوالے سے کہا کہ وہ اس وقت وہاں موجود نہ تھے، انھیں اطلاع ملی کہ اس اس طرح الطاف حسین کے بیان سے معاملات بگڑ رہے ہیں، فون کی تار بھی نکالی نہیں جاسکتی تھی، کیوں کہ وہ گھر سے خطاب کر رہے تھے، انھیں اعتراض ہوتا تھا کہ ظلم کے خلاف کسی کو تو آگے بڑھنا ہوگا، وہ خطاب منقطع کرنے پر کہتے تھے۔ اس لیے ہی انھوں نے گھر سے خطاب کیا۔
وہ کہتے ہیں کہ یہ حقیقت ہے کہ الطاف حسین کے ہٹنے سے تنظیم میں وہ بات نہیں رہی اور الطاف حسین بھی تنظیم کے بغیر کارگر نہیں رہے۔
1993 کے انتخابات کے بعد کچھ وقت کے لیے جو سخت آپریشن سے آرام ملا تو بڑے پیمانے پر لڑکے جلاوطن ہوئے۔ عمران فاروق کے حوالے سے بھی بات کی گئی تھی لیکن ان کے حوالے سے بات بن نہیں سکی۔
مقدمات میں ملوث کارکنوں سے اظہار لاتعلقی سے بہت مایوسی اور خرابی پیدا ہوئی۔ پاکستان میں جس کسی نے بھی کارکنوں کو رہائی دلانے اور بازیاب کے لیے کام کیا ہے، میں اسے خراج تحسین پیش کرتا ہوں،
’وائس آف کراچی‘ کے پلیٹ فارم سے سرگرم ندیم نصرت نے کہا کہ میرے کوئی سیاسی عزائم نہیں ہیں، میں صرف شہر والوں اور اپنی قوم کے لیے بہتری اور کام کرنا چاہتا ہوں۔ میری وطن واپسی میں ایم کیو ایم (بہادرآباد) ہی سے وابستہ قیادت رکاوٹ ہے، اگر مجھے سربراہی چننے کا موقع ملا تو خالد مقبول، فاروق ستار یا مصطفیٰ کمال میں سے کسی کو بھی نہ چنوں۔ لیکن یہ بھی نہیں ہے کہ ان کی ضرورت نہیں ہے، انھیں پارٹی میں رہ کر مل جل کر کام کرنا چاہیے اور ایم کیو ایم کے فکر وفلسفے کا احیا کرنا چاہیے۔ نظام کو مضبوط کرکے آگے کی طرف دیکھنا چاہیے۔
انھوں نے کہا کہ میں نے کبھی ایم کیو ایم کی مخالفت نہیں کی، اس کے باوجود مجھے برا بھلا کہا گیا اور دھمکیاں دی گئیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Verified by MonsterInsights