Categories
Education Health Media Society انکشاف تعلیم ذرایع اِبلاغ سمے وار- راہ نمائی صحت

تجزیہ اور تخلیق مرنے سے کیسے بچے؟

سمے وار (تحریر: طاہر راجپوت)
آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ “سوشل میڈیا” پر شارٹ ویڈیوز/ریلز کا رجحان آج کل بہت زیادہ عام ہو چکا ہے، ان پر بے شمار ویوز آتے ہیں۔
سوشل میڈیا کی ویب سائٹس خود صارفین کو یہ تجویز کرتے ہیں کہ مختصر ویڈیوز زیادہ دیکھی جاتی ہیں، اسی طرح چند جملوں پر مشتمل تحریریں بھی زیادہ پڑھی جاتی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ پلیٹ فارمز انھیں زیادہ لوگوں تک پہنچاتےے ہیں۔ یوں ویڈیو چند سیکنڈ اور تحریر چند الفاظ تک محدود ہو گئی ہے۔
کیا واقعی ایسا ہے کہ لوگ اتنے ذہین ہو گئے ہیں کہ وہ اس مختصر مواد میں سے سونا چن لیتے ہیں؟
حقیقت میں ایسا ہرگز نہیں ہے۔
اصل میں یہ سب “شارٹ اٹینشن اسپین” (Short Attention Span) کو فروغ دیتا ہے، جس کے نتیجے میں انسان کی مشاہداتی اور تجزیاتی صلاحیتیں کمزور پڑ چکی ہیں۔
اب صورت حال یہ ہے کہ ہم سب اس کے شکار ہو چکے ہیں۔ یہ وقت کی سب سے خطرناک تبدیلیوں میں سے ایک ہے۔ پہلے علم، ادب، اور تخلیق وقت مانگتے تھے، مگر اب ہر چیز چند سیکنڈز میں سمیٹنے کی دوڑ میں شامل کر دی گئی ہے۔ سوشل میڈیا نے “مختصر توجہ” کو اس حد تک عام کر دیا ہے کہ اب ذہن کسی بھی چیز کو مکمل طور پر جذب اور سمجھنے کے قابل ہی نہیں رہا ہے۔
یہ سب اس بات کی علامت ہرگز نہیں ہے کہ لوگ ذہین ہو گئے ہیں اور کم الفاظ میں زیادہ جلدی سے نتائج اخذ کر لیتے ہیں، بلکہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہماری توجہ کا دائرہ خطرناک حد تک سکڑ کر بہت محدود کر دیا گیا ہے۔
اس کے نتیجے میں اب عام زندگی میں لوگ مشاہدہ کیے بغیر رائے قائم کر لیتے ہیں، تجزیے کے بغیر ہی اپنے نتیجے پر پہنچ جاتے ہیں، اور کسی بھی چیز کو گہرائی میں جانے کے بجائے سامنے اور سطحی سے انداز میں قبول کر لیتے ہیں۔
یہ رویہ تخلیقی صلاحیتوں پر تباہ کن اثر ڈالے گا اور میرے خیال میں اس طرح انسانوں کو کنٹرول کرنا اور “موب تھنکنگ” پیدا کرنا بھی آسان ہو گا۔ ہمیں خود سوچنا چاہیے کہ ہم اپنے ساتھ کیا کر رہے ہیں اور خاص طور پر اپنے بچوں کو ان سب چیزوں کا عادی بنا کر انھیں کس علت میں مبتلا کر رہے ہیں!
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Verified by MonsterInsights